نئے اٹارنی جنرل کی تعیناتی پر کیا پھڈا چل رہا ہے؟

چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کے اعتراض کے بعد وفاقی حکومت نے اشتر اوصاف علی کی جگہ تعینات ہونے والے اٹارنی جنرل عثمان منصور اعوان کے چارج لینے سے پہلے ہی چھٹی کروا دی ہے، یوں  پاکستان کے اٹارنی جنرل کا عہدہ اب ایک ماہ سے زیادہ عرصے سے خالی پڑا ہے اور جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی طرف سے اس بارے میں تحفظات کے اظہار کے باوجود ابھی تک اس اہم ترین عہدے پر کسی شخص کو تعینات نہیں کیا گیا۔

واضح رہے کہ اشتر اوصاف نے 12 اکتوبر 2022 کو اٹارنی جنرل کے عہدے سے استعفیٰ دیا تھا اور مستعفی ہونے کی وجہ اپنی خرابی صحت کو قرار دیا تھا۔ بعدازاں 24 دسمبر 2022 کو صدر عارف علوی نے لاہور سے تعلق رکھنے والے نوجوان وکیل منصور عثمان اعوان کو نیا اٹارنی جنرل مقرر کر دیا تھا۔ ایوان صدر سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ ڈاکٹر عارف علوی نے اشتر اوصاف کا استعفیٰ منظور کرنے کے بعد منصور اعوان کی بطور اٹارنی جنرل تعیناتی کی منظوری دے دی ہے۔

تاہم صدر کی جانب سے منظوری کے باوجود منصور اعوان کی بطور اٹارنی جنرل تعیناتی کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا گیا۔ باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال منصور اعوان کی تعیناتی پر خوش نہیں تھے اور حکومت پر دباؤ تھا کہ وہ اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرے۔ یاد رہے کہ سابق اٹارنی جنرل اشتر اوصاف علی نے چیف جسٹس آف پاکستان کی خواہش پر تین جونیئر ججز کو سپریم کورٹ کا جج بنانے کی حمایت کی تھی جس کے بعد وہ شدید تنقید کی زد میں آ گئے تھے۔ اس واقعے کے کچھ ہی دنوں بعد انہوں نے استعفیٰ دے دیا تھا، لہٰذا چیف جسٹس بندیال اشتر اوصاف کی فراغت پر خوش نہیں تھے جنہوں نے اپنی مرضی کے ججز لگانے میں ان کی مدد کی تھی۔

یاد رہے کہ منصور اعوان کا نام تب منظرعام پر نمایاں ہوا تھا جب انہوں نے ایک صدارتی ریفرنس کے دوران سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی نمائندگی کرتے ہوئے آئین سے انحراف سے متعلق آرٹیکل 63اے کی تشریح کی تھی۔ منصور اعوان کی جانب سے عہدے کا چارج نہ سنبھالنے کے بعد سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے معاملے کا نوٹس لیا تھا۔ 24 جنوری کو قاضی فائز عیسیٰ نے ٹیکس معاملات میں ایک مقدمے کی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل کی تعیناتی پر سوال اٹھایا اور کہا کہ کیا حکومت اس تعیناتی پر کسی کیساتھ سودے بازی کر رہی ہے؟ انکا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے ساڑھے پانچ ہزار سے زائد وکیل ہیں لیکن حکومت کو ان میں سے ایک بھی قابل وکیل نہیں مل رہا جسے کہ اٹارنی جنرل تعینات کیا جا سکے۔

سابق اٹارنی جنرل اشتر اوصاف علی کے ساتھ مل کر جسٹس بندیال کی مرضی کے تین جونیئر ججز کو سپریم کورٹ میں تعیناتی کروانے والے وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کے بقول وہ عثمان منصور اعوان کو ہی بطور اٹارنی جنرل دیکھنا چاہتے ہیں۔ تاہم انہوں نے یہ لطیفہ سنایا کہ عثمان نے پروفیشنل ذمہ داریاں زیادہ ہونے کی وجہ سے اٹارنی جنرل کا عہدہ قبول کرنے سے معذوری ظاہر کرنے دی ہے۔ دوسری جانب عثمان اعوان نے کہا کہ اٹارنی جنرل ایسے شخص کو ہونا چاہیے کہ اگر حکومت وقت کوئی خلاف قانون کام کرے تو وہ اس کے خلاف بھی کھڑا ہو جائے۔ عثمان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات ایسے نہیں ہیں اس لیے انھوں نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ اس عہدے کے لیے موزوں نہیں ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اعلیٰ عدلیہ میں ججز کی تعیناتی میرٹ پر ہونی چاہیے پسند اور ناپسند کے معیار کو ختم ہونا چاہیے۔ دوسری جانب حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ نئے اٹارنی جنرل کی تلاش میں ہیں اور یہ اہم ترین تعیناتی جلد کر دی جائے گی۔

شہباز تاثیر کے اغواء اور رہائی کی کہانی، ان کی اپنی زبانی

Related Articles

Back to top button