جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں بندیال کو منہ کی کھانی پڑ گئی

سپریم جوڈیشل کونسل کے رکن جسٹس فائزعیسیٰ اور وکلا تنظیموں کے اعتراضات کے باوجود چیف جسٹس کی جانب سے نئے ججوں کی تقرری کے لیے بلائے گئے اجلاس میں عمر عطا بندیال کو منہ کی کھانی پڑ گئی اور وہ اپنی مرضی کا کوئی جج لگوانے میں ناکام ہوگئے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے جن پانچ ججوں کی تعیناتی کی سفارش کی تھی وہ تمام جونیئر تھے اور سپریم کورٹ میں تعیناتی کے معیار پر پورے نہیں اترتے تھے اس لئے 9 رکنی جوڈیشل کمیشن کے 5 اراکین نے ان کی مخالفت کر دی جبکہ ان کی حمایت میں 4 ووٹ پڑے۔ یاد رہے کہ چند ماہ پہلے بھی جب جسٹس قاضی فائز عیسیٰ بیرون ملک روانہ ہوئے تھے تو چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ججوں کی تقرری کے لیے کمیشن کا اجلاس بلا لیا تھا۔ قاضی فائز عیسیٰ نے اجلاس میں ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی اور جسٹس بندیال کے تجویز کردہ ناموں کی مخالفت کی۔ اٹارنی جنرل فار پاکستان اشتر اوصاف علی، وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، پاکستان بار کونسل کے نمائندے اختر حسین نے بھی ان ناموں کی مخالفت کی لہذا اتفاق رائے نہ ہو پایا۔

چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں سپریم کورٹ میں پانچ ججز کی تعیناتی کے لیے ناموں پر غور کیا گیا۔ یاد رہے کہ سپریم کورٹ کے کل ججوں کی تعداد 17 ہے جو نواز شریف کی وزارت عظمیٰ کے دوسرے دور میں طے کی گئی تھی۔ اس کے علاوہ سپریم کورٹ میں ایڈہاک جج مقرر کرنے کی گنجائش بھی ہے اور یہ تقرر تب کیا جاتا ہے جب سپریم کورٹ میں کام کا دباؤ زیادہ ہو اور مقدمات نمٹانے کیلئے اضافی ججوں کی ضرورت ہو۔ ججوں کی تقرری کا فیصلہ کرنے والے جوڈیشل کمیشن کے ارکان کی تعداد نو ہے جن میں اس وقت چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے علاوہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ، جسٹس سردار طارق، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منصور علی شاہ شامل ہیں۔ ان کے علاوہ سپریم کورٹ کے ایک ریٹائرڈ جج جسٹس سرمد جلال عثمانی، اٹارنی جنرل اشتر اوصاف، وزیر قانون اعظم تارڑ اور پاکستان بار کونسل کے نمائندے اختر حسین بھی اس کمیشن کے رُکن ہیں۔اس سے پہلے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے 25 جولائی کو چیف جسٹس کو ایک خط لکھا تھا جس میں انھوں نے اجلاس کو مؤخر کرنے کی درخواست کی تھی، انہوں نے سوال کیا تھا کہ آخر عدالتی تعطیلات کے دوران چیف جسٹس کو ججز تعیناتی کرنے کا خیال کہاں سے آ گیا؟ قاضی فائز عیسیٰ نے عدلیہ کی شیڈول تعطیلات میں جوڈیشل کمیشن کا اجلاس طلب کرنے پر اعتراضات اٹھائے تھے اور کہا تھا کہ سپریم کورٹ میں ججز کے تقرر سے پہلے مل بیٹھ کر یہ طے کرنا ہو گا کہ کیسے آگے بڑھا جائے۔ انھوں نے مزید لکھا کہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس صاحبان اور سینئر ججز کو نظر انداز کرنے سے پہلے چیف جسٹس کی نامزدگی کے طریقہ کار پر غور کیا جائے۔

یوم تکبیر کی وجہ سے خطے میں طاقت کا توازن بحال ہوا

یہی نہیں بلکہ پاکستان بار کونسل اور سپریم کورٹ بار سمیت وکلا تنظیموں نے بھی اجلاس چھٹیوں کے بعد تک مؤخر کرنے اور جونیئر ججز کی تعیناتی پر جوڈیشل کمیشن کے رولز میں ترمیم کا مطالبہ کیا تھا لیکن چیف جسٹس حسب توقع بضد رہے اور اجلاس منعقد کر دیا۔ اس سے پہلے پاکستان بار کونسل اور سپریم کورٹ ایسوسی ایشن نے اپنے اعلامیے میں زور دیا تھا کہ سپریم کورٹ کے ججز کے تقرر کے وقت سینیارٹی کے اصول پر عمل کیا جائے۔ وکلا تنظیموں نے مشترکہ اعلامیہ میں کہا کہ یہ کوئی ذاتی ایجنڈا نہیں اور نہ ہی وہ کسی کے حق یا مخالفت میں ہیں لیکن پاکستان بار کونسل اور سپریم کورٹ بار جونیئر ججز کے تقرر کے حق میں نہیں۔

یاد رہے کہ سپریم کورٹ میں اس وقت ججز کی چار آسامیاں خالی ہیں اور ایک آسامی اگست میں جسٹس سجاد علی شاہ کی ریٹائرمنٹ سے خالی ہو جائے گی۔ یوں سپریم کورٹ میں پانچ ججوں کی آسامیاں خالی ہیں۔ سینئر صحافی عباد الحق کے مطابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے سپریم کورٹ میں تعیناتی کے لیے جن ججوں کے نام دیے ان میں پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس قیصر رشید، لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد وحید جبکہ سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس حسن اظہر، جسٹس شفیع صدیقی اور جسٹس نعمت اللہ پھلپھٹو شامل ہیں۔سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر حامد خان کے بقول جوڈیشل کمیشن کے زیر غور پانچ ناموں میں سے صرف ایک نام یعنی چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ قیصر رشید کا نام سینیارٹی کی بنیاد پر ہے جبکہ دیگر نام اس اصول کے مطابق نہیں۔ لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد وحید سینیارٹی کے لحاظ سے اس وقت چوتھے نمبر پر ہیں جبکہ سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس حسن اظہر سینیارٹی لسٹ پر پانچویں، جسٹس شفیع صدیقی چھٹے اور جسٹس نعمت اللہ ساتویں نمبر پر ہیں۔ اس طرح لاہور ہائیکورٹ میں تین سینئر ججوں اور سندھ ہائیکورٹ میں چار سینئر ججوں کی سینیارٹی نظر انداز ہوئی۔ لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد وحید خان اس وقت سینیارٹی کے اعتبار سے چوتھے نمبر پر ہیں۔

سینیارٹی کے لحاظ سے چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس امیر بھٹی ،جسٹس ملک شہزاد احمد خان اور شجاعت علی خان ان سے سینئر ہیں۔ سندھ ہائیکورٹ میں چیف جسٹس احمد علی شیخ، سینئر ترین جج ہیں۔ انکے علاوہ جسٹس عرفان صداقت خان، جسٹس عقیل احمد عباسی اور جسٹس ندیم اختر بھی سینئر ججز ہیں۔ اس مرتبہ بھی لاہور ہائیکورٹ اور سندھ ہائیکورٹ کے وہی ججز دوبارہ نظر انداز ہوئے ہیں، جن کے ناموں پر گذشتہ برس بھی غور نہیں کیا گیا تھا۔

حامد خان کی قیادت میں قائم وکلا گروپ کے مطابق ماضی میں سابق چیف جسٹس ثاقب نثار، آصف سعید کھوسہ اور گلزار احمد کے ادوار میں بھی سنیارٹی کی پاسداری نہیں گئی۔ حامد خان کہتے ہیں کہ جونیئر ججوں کے تقرر پر سینئر جج کا نہ بولنا ان کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے۔ حامد خان نے بتایا کہ ایک مرتبہ انڈیا میں تین ججز نے اپنے سے جونیئر جج کی تقرری پر عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ حامد خان کے بقول ہائی کورٹ کے ایک جج کے اپنے عہدے پر ہی رہنے اور سپریم کورٹ نہ جانے سے دوسرے ججز کی حق تلفی ہوتی ہے اور وہ چیف جسٹس بننے کے حق سے محروم ہو جاتے ہیں۔حامد خان نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کو نظر انداز کر کے سنیارٹی میں پانچویں نمبر پر آنے والے جج کو سپریم کورٹ میں مقرر کرنا زیادتی ہے۔

حامد خان نے نشاندہی کی کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ کو بھی نظر انداز کیا جا رہا ہے اور ان کا سپریم کورٹ میں تقرر نہ ہونے کی وجہ سے ان سے جونیئر ججز کی حق تلفی ہو رہی ہے اور وہ چیف جسٹس نہیں بن رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نظام کو چلانے کے لیے سینیارٹی کے اصول پر عمل ہونا چاہیے۔

Related Articles

Back to top button