چالان کرنے پر کیپٹن کے ہاتھوں موٹروے پولیس کی دھلائی

پشاور ٹول پلازہ پر فوج کے ایک کیپٹن نے ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر بجائے چالان کروانے کے الٹا موٹروے پولیس اہلکار کی ٹھکائی کر دی اور پھر دھمکیاں دیتے ہوئے فرار ہوگیا لیکن پولیس واقعے کی ایف آئی آر درج کرنے سے انکاری ہے اور اس انتظار میں ہے کہ موٹروے پولیس اہلکار عسکری دباؤ کے تحت اپنی درخواست واپس لے لے۔

موٹروے پولیس کے اہلکار نے تھانہ چمکنی میں درخواست دیتے ہوئے بتایا ہے کہ پشاور ٹول پلازہ کے قریب خود کو فوج کا کیپٹن ظاہر کرنے والے شخص اور اسکے ساتھیوں نے میرے ساتھ مار پیٹ کی اور کار سرکار میں مداخلت کی۔

اس واقعے کے بارے میں چمکنی تھانے کے اہلکاروں نے بتایا کہ دونوں جانب سے بات چیت جاری ہے اور کوشش کی جا رہی ہے کہ معاملے کو حل کروا لیا جائے، پولیس اہلکاروں نے بتایا کہ اب تک درخواست پر کارروائی نہیں کی گئی اور ایف آئی آر بھی درج نہیں کی گئی کیونکہ انہیں ‘دوسری جانب’ سے بتایا گیا ہے کہ صلح صفائی کے لیے کوششیں جاری ہیں جن کا نتیجہ جلد سامنے آجائے گا۔

موٹر وے پولیس کے اہلکار نے تحریری درخواست میں تھانہ چمکنی کے ایس ایچ او کو لکھا ہے کہ وہ موٹر وے پر پشاور ٹول پلازہ کے قریب ڈیوٹی پر موجود تھا کہ اس دوران ایک گاڑی اوورسپیڈنگ کرتی ہوئی آئی جسکا چالان کر دیا گیا۔ اس نے لکھا یے کہ کار کی سپیڈ 131 کلومیٹر فی گھنٹہ تھی اور وائرلیس سیٹ پر بتایا گیا تھا کہ اس گاڑی کو روکنے کی کوشش کی گئی لیکن کار سوار فرار ہو گیا۔

موٹروے پولیس اہلکار نے یہ پیغام ملنے کے بعد اس گاڑی کی شناخت کرلی، اسے روکا، ڈرائیور سے لائسنس طلب کیا اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی اور چالان کے حوالے سے بتایا۔ تاہم کار کے ڈرائیور نے بتایا کہ وہ فوج میں کیپٹن ہے، اس بارے میں پشاور میں ملٹری پولیس کے ہیڈکوارٹر فون پر معلومات حاصل کی گئیں جہاں سے جواب دیا گیا کہ وہ بعد میں بتاتے ہیں۔

افغانستان سے فائرنگ میں 5 پاکستانی فوجی ہلاک

درخواست میں کہا گیا ہے کہ تھوڑی دیر بعد کچھ لوگ دو گاڑیوں میں آئے اور موٹروے پولیس کے ایک اہلکار کو لاتوں اور گھونسوں سے مارنا شروع کر دیا۔ ان میں سے ایک شخص نے ایس ایم جی رائفل لوڈ کر کے پولیس اہلکار پر نشانہ باندھا لیکن اس دوران موٹروے سکواڈ کے افسران بھی پہنچ گے اور حالات سنبھالنے کی کوشش کی، گاڑیوں میں آنے والے افراد کا تعلق پشاور کے حیات آباد علاقے سے بتایا گیا ہے۔

موٹروے پولیس کے افسران نے اپنی اہلکار پر تشدد کرنے والوں کو گرفتار کر لیا اور حسب ضابطہ گاڑیوں کی تلاشی لی جن سے مختلف قسم کا آتشین اسلحہ برآمد ہوا جس میں پسٹل، رائفل ، اور کلاشنکوف شامل ہیں۔
موٹروے پولیس اہلکار کی جانب سے دائر کردہ درخواست میں کہا گیا ہے کہ یہ مسلح لوگ کار سرکار میں مداخلت، موٹر وے جیسی اہم شاہراہ کو بلاک کرنے، پولیس قاکے پر رائفل سے نشانہ باندھنے اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دینے کے جرائم میں ملوث ہیں، اس واقعے کے ثبوت موٹر وے پر نصب سی سی ٹی وی کیمروں میں محفوظ ہیں، اس لیے ان افراد کیخلاف ایف آئی آر درج کی جائے۔

دوسری جانب پشار میں چکمنی تھانے والوں کا کہنا تھا کہ یہ درخواست موصول ہوئی ہے لیکن اب تک اس پر کوئی ایف آئی آر یا کوئی کارروائی نہیں کی گئی، اہلکاروں کا کہنا تھا کہ دونوں جانب سے بات چیت جاری ہے اور اس کا حل نکالا جا رہا ہے تاکہ معاملہ سلجھایا جا سکے۔

موٹر وے ٹول پلازہ پر اس سے پہلے بھی اس طرح کے واقعات پیش آ چکے ہیں، گزشتہ سال مئی کے مہینے میں تیز رفتار گاڑی کو اہلکار نے روکنے کا اشارہ کیا تو گاڑی نے اہلکار کو کچل دیا جس سے موٹر وے پولیس کا اہلکار شدید زخمی ہو گیا اور ہسپتال میں دم توڑ گیا۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ نئے پاکستان میں اب بھی طاقتور اور کمزور کے لئے دو قوانین ہیں، اسی لئے فوج کے کیپٹن کو بچانے کے لئے پولیس والے واقعے کی ایف آئی آر درج کرنے سے انکاری ہیں اور اس انتظار میں ہیں کہ عسکری دباؤ کا نتیجہ آ جائے اور موٹرے پولیس اہلکار اپنی درخواست واپس لے لے۔

Related Articles

Back to top button