ملک انصاف کے دوہرے معیار میں آگے نہیں بڑھ سکتا

وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا پی ٹی آئی کی مجرمانہ غفلت کا آج تک کسی نے سوموٹو ایکشن نہیں لیا،چیف الیکشن کمشنر فنڈنگ کیس کا فیصلہ کیوں نہیں کر رہے، کیس کو 8 سال ہو گئے ہیں، فارن فنڈنگ کا پیسہ اسرائیل، بھارت سے میں نے نہیں منگوایا، کیا کسی نے سوموٹونوٹس لیا، دوہرے معیار میں ملک آگے نہیں چل سکتا۔

قومی اسمبلی اجلاس میں خطاب کے دوران وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا تھاان طوفانی بارشوں نے ہر جگہ تباہی پھیلائی، بلوچستان، خیبر پختونخوا، پنجاب، چترال، کراچی اور سندھ کے دوسرے علاقوں میں بے پناہ انسانی جانوں کا ضیاع ہوا، اور بے پناہ نقصانات ہوئے، اللہ سے دعا ہے کہ جانے والوں کو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے، اور زخمیوں کو جلد سے جلد صحت یاب عطا فرمائے،اس حوالے سے وفاقی حکومت چوکنا ہے، اس صورتحال کے حوالے سے چاروں صوبوں کے ساتھ اجلاس کر چکا ہوں، جہاں لوگ زخمی ہیں اور لوگ اللہ کو پیارے ہوئے اور جہاں مالی نقصانات ہوئے، وہاں پر صوبائی حکومتیں پوری طرح دن رات کام کررہی ہیں۔

انہوں نے کہاوفاق نے بھی اپنا بھرپور حصہ ڈالا ہے، نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے ذریعے امدادی کارروائیوں میں بھرپور طریقے سے وفاقی حکومت شریک ہے، نقصان زیادہ ہے، جو لوگ اللہ کو پیارے ہو گئے ان کے لیے کسی بھی حد تک مالی تعاون ان کے دل کی تسلی نہیں ہوسکتی، میں ایوان کو یقین دلاتا ہوں کہ وفاقی حکومت قطعاً کسی بھی طرح پیچھے نہیں رہے گی، جو ہم نے امدادی پیکیج کا اعلان کیا ہے اس میں مزید اضافہ کریں گے، کل ہی ایک اور اجلاس بلایا ہے، جس میں متعلقہ قومی اسمبلی ممبران، متعلقہ ادارے اور سرکاری افسران شامل ہوں گے، تمام معزز اراکین کو یقین دلاتا ہوں کہ ان کی سفارشات کے پیش نظر کر ہم مزید فیصلے کریں گے۔

انکا کہنا تھا کسانوں کو جو نقصان ہوا ہے، اس حوالے سے بھی بھرپور کردار ادا کریں گے، وفاقی حکومت، صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر جو کچھ کرسکتے ہیں وہ کریں گے، پورے پاکستان میں جہاں پر بھی نقصانات ہیں ان کا مداوا کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جائے گی،انسانی فطرت ہے کہ جب بچے کو تکلیف ہوتی ہے تو ماں بچے کی طرف دوڑتی ہے اور بچہ ماں کی طرف آتا ہے، یہ معزز ایوان پاکستان کے آئین کی ماں ہے، 1973 کا متفقہ آئین ہے، جس میں پورے پاکستان کی منتخب لیڈرشپ شامل تھی، اس وقت کے وزیراعظم جناب ذوالفقار علی بھٹو کی لیڈرشپ میں پاکستان بھر سے منتخب اراکین نے بڑی عرق ریزی کے ساتھ اس آئین کی تشکیل کی، یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ یہ آئین پاکستان کی واحدت کی بہت بڑی نشانی ہے۔

وزیر اعظم نے کہا بدترین وقتوں میں بھی اسی آئین نے پوری دنیا کے سامنے مضبوط و متحد ملک کے طور پر پیش کیا، یہی آئین صدیوں تک پاکستان کی رہنمائی کرتا رہے گا، پاکستان کو مضبوط کرتا رہے گا، حاکمیت اللہ تعالیٰ کی ہے، وہی مالک اور خالق ہے اس نے جو اختیار انسانوں کو دیا ہے، اور 22 کروڑ عوام نے اس منتخب ایوان کو دیا ہے، یہ وہ اختیار ہے، جسے مقدس امانت جان کر یہ ایوان اس کو استعمال کرتا ہے، اسی آئین میں مقننہ، عدلیہ، انتظامیہ ہو، آئین نے ان کے اختیارات متعین کر دیے ہیں، آئین بتاتا ہے کہ اپنے دائرے میں رہ کر پاکستان کی خدمت کرنی ہے، اور پاکستان کو آگے بڑھانا ہے۔

چینیوں پر حملوں سے سی پیک منصوبہ خطرے میں

انہوں نے کہا75 سال گزرنے کے باوجود آئین کے ساتھ کھلواڑ ہوتا رہا، ملک میں ایک سے زائد بار مارشل لا آئے، جو کئی دہائیوں تک ملک پر مسلط رہے، جس کے نتیجے میں پاکستان دو لخت ہوا، اور جمہوریت کا پودا اتنا طاقتور نہ ہوسکا جتنا ہونا چاہیے تھا، پارلیمان کی طاقت اس طرح ابھرکر سامنے نہ آسکی جس طرح اس کو آنا چاہیے تھا،قرب و جوار میں نظر دوڑائیں تو وہ ممالک جو بہت پیچھے تھے، آج ترقی کی دوڑ میں وہ آگے نکل چکے ہیں، اغیار نے آئی ایم ایف کو کبھی کا خیرباد کہہ دیا، غربت اور بیروزگاری کو انہوں نے دفن کر دیا۔

شہبا زشریف نے کہا جناب اسپیکر یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ سب جانتے ہیں کہ 2018 کے انتخابات پاکستان کی تاریخ میں بدترین جھرنو الیکشن تھے، ایک ایسی حکومت کو مسلط ہو گئی جو صریحاً دھاندلی کی پیدوار تھی، اس میں کوئی شک نہیں ہونا چاہیے کہ کس طرح رات کے اندھیرے میں آر ٹی ایس سسٹم بند ہو گیا اور کس طرح نتائج وہ دیہاتوں میں پہلے آگئے اور شہروں میں کئی کئی دن نتائج نہیں آئے، امیدواروں کا جو حق تھا اس کو سابق چیف جسٹس کے حکم پر گنتی کو رکوایا گیا، وقت پر گنتی نہ ہوئی،2018 کی حکومت تاریخ کی بدترین دھاندلی کی پیداوار تھی، ساڑھے تین، پونے چار سالوں میں ان کی کارکردگی قوم کے سامنے ہے، انہوں نے 20 ہزار ارب روپے سے زائد کے قرضے لیے، 2018 میں جی ڈی پی 5.8 فیصد تھا، 2019 اور 2020 میں آ کر منفی میں آ گئی، لاکھوں لوگوں کو روزگار دینا تو دور کی بات تھی، لاکھوں لوگ بے گھر ہو گئے، لاکھوں لوگ بیروزگار ہو گئے۔

انکا کہنا تھاپاکستان کی معیشت کا جنازہ نکل رہا تھا، اس وقت متحدہ اپوزیشن سیاست کو مقدم رکھتی تو ریاست کا خدا حافظ تھا، ہم سب نے مل کر مشاورت کی کہ فیصلہ کیا کہ ریاست کو بچانا ہے، ریاست کو نہ بچایا تو سیاست صفحہ ہستی سے مٹ جائے گی، ہم جانتے تھے کہ پاکستان دیوالیہ ہونے کے قریب ہے، جانتے تھے کہ معیشت کو بحال کرانا آسان کام نہیں، ہم جانتے تھے کہ مہنگائی، بیروزگاری عروج پر ہے، کیا ہم چور دروازے پر آئے؟ یہ پہلا موقع ہے کہ وزیر اعظم ہاؤس پر کسی نے چڑھائی نہیں کی بلکہ یہ ایوان ووٹ کی طاقت سے آئین اور قانون کے مطابق بدترین کرپٹ حکومت کو بدلا اور چیلنج قبول کیا۔

وزیر اعظم نے کہا ڈنکے کی چوٹ پر کہنا چاہتا ہوں کہ مجھے پتہ تھا کہ حکمراں اتحاد میں شامل تمام جماعتوں نے کمال مہربانی سے، چاہے آصف زرداری، مولانا فضل الرحمٰن، مگسی، خالد صدیقی یا اے این پی کے قائدین ہوں، چاہے وہ مینگل صاحب، داوڑ صاحب یا اسلم بھوتانی صاحب ہوں، سب نے مل کر بڑی محبت سے میرے قائد نواز شریف نے منتخب کیا، تو جانتا تھا کہ یہ پھولوں کی سیج نہیں ہے بلکہ کانٹوں کا ایک بہت خاردار سفر ہے، اللہ تعالیٰ کا نام لے کر ان کی معاونت قبول کی، وزیراعظم بننا ہوتا تو ماضی میں 1992 میں ایک صدر نے کہا تھا کہ تم وزیراعظم بن جاؤ، بعدازاں جنرل مشرف نے کہا کہ وزیراعظم بن جاؤ، اس کے علاوہ بھی ایسے راز ہیں جو میرے دل میں دفن ہیں۔

شہباز شریف نے کہا جب پانامہ کے بدلے اقامہ میں ناجائز سزا دی گئی تو ایک قانونی اور آئینی مجبوری تھی کہ کسی کو وزیراعظم منتخب کرنا تھا، انہوں نے مجھے چنا، لیکن میں نے یہ فیصلہ کیا کہ مجھے پنجاب کے عوام نے جو مینڈیٹ دیا ہے، میں پنجاب کے منصوبوں کو مکمل کرلوں۔

Related Articles

Back to top button