ڈیم فنڈ کے آڈٹ کا حکم ، گڑبڑ پر ثاقب نثار کی طلبی

پبلک اکائونٹس کمیٹی نے ڈیم فنڈ کے خصوصی آڈٹ کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر فنڈ میں کوئی گڑبڑ پائی گئی تو سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کو طلب کیا جائے گا۔

پارلیمنٹ کی پبلک اکائونٹس کمیٹی کا اجلاس چیئرمین نور عالم کی زیر صدارت ہوا ، جس میں مہمند ڈیم کا کنٹریکٹ ایوارڈ کرنے کے حوالے سے آڈٹ اعتراض زیر بحث آیا تو آڈٹ حکام نے بتایا کہ مہمند ڈیم کا کنٹریکٹ دینے میں پیپرا رولز کی خلاف ورزی کی گئی۔ بین الاقوامی میڈیا میں اشتہار نہیں دیا گیا۔

پی اے سی کمیٹی کے ممبر برجیس طاہر نے سوال اٹھایا کہ رولز پر عمل کیوں نہیں کیا، ایویلیوایشن کمیٹی کے ممبرز کون تھے؟ جس کے جواب میں سیکرٹری آبی وسائل نے جواب دیا کہ چار اخبارات میں اشہارات دیے گئے۔ منصوبے کی لوکیشن اور حالات آپ کے سامنے ہیں۔ صرف دو کمپنیوں نے بڈنگ میں حصہ لیا تھا۔

چیئرمین کمیٹی نورعالم خان نے کہا کہ آپ نے دوبارہ بڈنگ کیوں نہیں کی؟ میرا خیال ہے وہ کمپنی وفاقی وزیر کی تھی۔

پی اے سی نے مہمنڈ ڈیم منصوبے میں بے ضابطگیوں پر فیکٹ فائنڈنگ انکوائری کا حکم دیتے ہوئے ہدایت کی کہ انکوائری کمیٹی میں منصوبہ بندی ڈویژن کے افسران کو بھی شامل کیا جائے۔

عسکری ذرائع کی آرمی چیف سے منسوب الزام کی تردید

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی رکن نزہت پٹھان نے سوال کیا کہ بھاشا ڈیم کی تعمیر کے لیے جو فنڈ اکٹھا کیا گیا وہ کہاں گیا۔ ان کے سوال پر پی اے سی نے ڈیم فنڈ کی تفصیلات طلب کر لیں اور ڈیم فنڈ میں جمع ہونے والی رقم کے خصوصی آڈٹ کی ہدایت کر دی۔ اس حوالے سے کمیٹی نے پی اے سی نے سابق چیئرمین واپڈا لیفٹننٹ جنرل مزمل حسین کو آئندہ اجلاس میں طلب کر لیا۔

پی اے سی رکن برجیس طاہر نے کہا کہ سابق چیف جسٹس کو بھی بلا لیں جن کا فنڈ تھا۔ چیئرمین پی اے سی نے کہا کہ فنڈ میں کوئی گڑبڑ سامنے آئی تو سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کو بھی بلائیں گے۔

پبلک اکائونٹس کمیٹی کے رکن سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ وہ فنڈ سابق چیف جسٹس کا تھا۔ ڈیم فنڈ میں جو رقم جمع ہوئی اس کا حساب کتاب ہونا چاہئے۔ آپ بتائیں قرض اتارو ملک سنوارو اسکیم کا پیسہ کہاں گیا۔ مشاہد حسین سید نے جواب دیا کہ شبلی صاحب آپ بہت پرانی بات کر رہے ہیں۔

Related Articles

Back to top button