اعلیٰ عدلیہ میں سنیارٹی کیخلاف تقرریاں نہ مانے کا فیصلہ

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر احسن بون نے کہا ہےکہ تمام بارز نے اعلیٰ عدلیہ میں سنیارٹی کیخلاف تقرریاں نہ مانے کا فیصلہ کیا ہے۔

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر احسن بھون نے مختلف بار ایسوسی ایشنز کے عہدیداران کے ہمراہ پریس کانفرنس کی، جس میں پاکستان بار کونسل اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی دعوت پر تمام بار ایسوسی ایشنز نے شرکت کی۔

انہوں نے کہا مختلف بار ایسوسی ایشنز کے عہدیداران کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف کیوریٹیو نظرثانی کو ختم کیا جائے اور حکومت فوری طور پر ہمارے مطالبے پر عمل کرے،تمام بار ایسوسی ایشنز نے اعلیٰ عدلیہ میں سنیارٹی کے برخلاف ہونے والی تقرریوں کو نہ ماننے کا فیصلہ کیا ہے۔

احسن بھون نے کہاچیف جسٹس آف پاکستان اورجوڈیشل کمیشن کے اراکین سنیارٹی کے اصول کو مد نظررکھیں، 10،12 سال سے بار ایسوسی ایشنز مطالبہ کر رہی ہیں کہ دفعہ 184 (3) کا طریقہ کار طے کیا جائے، دفعہ 184 (3) کے مقدمات میں اپیل کا حق دیا جائے، حکومت سے بھی 184 (3) میں ترمیم کا مطالبہ کیا ہے اور نظرثانی کیس میں وکیل تبدیل کرنے کی اجازت ہونی چاہیے، کھیل کھیل میں ہماری معیشت کہاں پہنچ گئی، بینچز کی تشکیل کا فیصلہ سپریم کورٹ کے پانچ سینئر جج صاحبان کو کرنا چاہیے۔

انکاکہنا تھاآئین اجازت دیتا ہے کہ تقرری کے لیے جج کا نام کوئی بھی جوڈیشل کمیشن کا رکن دے سکتا ہے، ججوں کی تعیناتی کوئی انتخابی عمل نہیں ہے، ہم سیاسی ڈائیلاگ اور برداشت چاہتے ہیں،پاکستان کو عوامی نمائندوں نے ہی چلانا ہے مگر کچھ لوگ جمہوری نظام کو ناکام کر رہے ہیں اور جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خط سے ظاہر ہوتا ہے کہ سپریم کورٹ میں تقسیم ہے اور جونیئر ججز کی نامزدگی سے تاثر ملتا ہے کہ کچھ لوگوں کو نظر انداز کرنا چاہتے ہیں۔
صدر سپریم کورٹ بار نے کہا ججز کا تقرر کوئی الیکشن کا عمل نہیں ہے، سپریم کورٹ کا کل کا فیصلہ حقائق اور قانون کے برخلاف تصور ہوگا کیونکہ 8 ججز کی رائے کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا تھا، آئین سے متصادم فیصلوں کا آئندہ دنوں میں اثر نظر آئے گا، عمران خان اور چوہدری شجاعت حسین کے اراکین کی ووٹنگ کے لیے لکھے گئے خطوط بالکل ایک جیسے ہیں۔

عمران خان کے لانگ مارچ کی کامیابی کا کتنا امکان ہے؟

دریں اثنا سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن پاکستان، تمام صوبوں کی ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشنز، پاکستان بار کونسل، صوبائی بار کونسلز، پاکستان جوڈیشل کمیشن میں بار کونسلز کے اراکین کا اسلام آباد میں عدالت عظمیٰ کے احاطے میں اجلاس سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر محمد احسن بھون اور پاکستان بار کونسل کے ایگزیکٹو چیئرمین محمد مسعود چشتی کی صدارت میں ہوا۔ یہ اجلاس سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اور ایگزیکٹو پاکستان بار کونسل نے عدالتی امور کے ساتھ ساتھ اعلیٰ عدالتوں میں ججوں کے تقرر کے حوالے سے عدلیہ کی آزادی کے تنازعات سے پیدا ہونے والی صورتحال پر غور کرنے کے لیے منعقد کیا تھا۔

سپریم کورٹ بارایسوسی ایشن کےاجلاس میں متفقہ قرارداد منظور کی گئی جس میں لکھا گیا ہے کہ ایوان نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا ہے کہ قانونی برادری کا کوئی ذاتی ایجنڈا نہیں ہے، وہ کسی کے خلاف ہیں اور نہ ہی حق میں، بلکہ قانون کی حکمرانی اور سنیارٹی کے اصول کی سختی سے پابندی چاہتے ہیں جس طرح جونیئر ججوں کے تقرر کے لیے سنیارٹی اصول کی خلاف ورزی کرنے پر سپریم کورٹ کو برہمی کا سامنا کرنا پڑا جس کو اس ایوان نے مسترد کردیا ہے۔

علاوہ ازیں ایوان نے تقریباً ایک دہائی کے اپنے دیرینہ مطالبے کا بھی اعادہ کیا کہ جوڈیشل کمیشن آف پاکستان فوری طور پر اپنے رولز میں ترمیم کرے تاکہ عدالتی تقرریوں کے لیے نامزدگی صرف چیف جسٹس کے بجائے جوڈیشل کمیشن کے کسی بھی رکن کی طرف سے شروع کی جاسکے اور اس کے علاوہ منصفانہ، شفاف اور معروضی معیار اور طریقہ کار واضح کرے تاکہ متوقع تقرریوں کی مناسبیت کا اندازہ لگایا جاسکے، قرارداد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ججوں کے تقرر اور برطرفی کے لیے فورم کو متحد کرنے اور اسے مزید جامع اور تمام اسٹیک ہولڈرز بشمول ججز، بار، ایگزیکٹو اور پارلیمنٹ کی مساوی نمائندگی پر مشتمل بنانے کے لیے آئین کے آرٹیکل 175 اے اور آرٹیکل 209 میں ترامیم کی جائیں۔

وفاقی حکومت سے قرارداد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ عدالت عظمیٰ کے امور کی حدود کے لیے آئین کے آرٹیکل 175 (2) اور آرٹیکل 191 سے متعلق قانون سازی کرے اور خاص طور پر بینچز کی تشکیل، مقدمات کی منظوری، ازخود نوٹس کے کارروائی پر چیف جسٹس کے واحد اختیارات کو ختم کرکے عدالت کے پانچ سب سے سینئر ججوں پر مشتمل ایک کمیٹی میں ان معاملات کو شامل کریں، قرارداد میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا کہ جسٹس قاضی فائز عیسی کے خلاف کیوریٹو نظرثانی ختم کی جائے کیونکہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس دائر کرنے والوں نے اپنی غلطی تسلیم کی، ایوان نے اپنی قرارداد میں یہ بھی مطالبہ کیا کہ سپریم کورٹ کے قوانین میں ترمیم کرکے اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ نظرثانی درخواستوں پر اوریجنل بینچ سے مختلف ایک بینچ سماعت کرے گا اور نظرثانی درخواستوں کی سماعتوں میں پیش ہونے کے لیے مختلف وکلا کو شامل ہونے کی بھی اجازت دی جائے۔

Related Articles

Back to top button