ڈپٹی اسپیکرنے وہ اختیاراستعمال کیا جوان کا نہیں تھا

سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ بادی النظرمیں ڈپٹی اسپیکر نے اسپیکر کا وہ اختیاراستعمال کیا جو ڈپٹی اسپیکر کا اختیار نہیں تھا، کیا ڈپٹی اسپیکر رول 28 کے تحت رولنگ دے سکتا ہے یا صرف اسپیکر کا اختیار ہے؟ اسپیکرکےاختیارات مختلف ہیں توپھرسپریم کورٹ کےدائرہ کارکا سوال اٹھے گا، تمام سیاسی جماعتوں کا احترام ہے، ہوا میں کوئی فیصلہ نہیں کر سکتے۔
ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد مسترد کرنے کی رولنگ پر لیے گئے ازخود نوٹس پر سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 5 رکنی بینچ نے کی۔ بینچ کے دیگر ججز میں جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منیب اختر، جسٹس مظہر عالم خان میاں خیل اور جسٹس جمال خان مندوخیل شامل ہی۔
سماعت کے آغازمیں پی ٹی آئی کے وکیل بابر اعوان روسٹرم پر پہنچے اور کہا کہ عدالت میں دو باتیں کرنا چاہتا ہوں، انہوں نے کہاعدالت کے 21 مارچ کے حکم کی جانب توجہ مبذول کروانا چاہتا ہوں، 21 مارچ کو سپریم کورٹ بار کی درخواست پر دو رکنی بینچ نے حکم نامہ جاری کیا تھا، کل پارٹی کی ہدایات نہیں لی تھی، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا ہم پہلے درخواست گزاروں کو سننا چاہتے ہیں اوراگرآپ کوئی بیان دینا چاہتے ہیں تو دے دیں، بابر اعوان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے 21 مارچ 2022 کے فیصلے کا حوالہ دینا چاہتا ہوں، اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ کو یقین دہانی کرائی تھی، کسی رکن اسمبلی کو آنے سے نہیں روکا جائے گا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آج ہم مناسب فیصلہ دیں گے اور سیاسی بیانات نہیں بلکہ صرف اسپیکر کی رولنگ کا جائزہ لیں گے۔ بابراعوان نے کہا کہ ہم رولنگ سمیت ایک رٹ پیش کرنے کے لیے تیار ہیں اور چیئرمین عمران خان کا پیغام ہے کہ ہم الیکشن میں جانے کے لیے تیار ہیں۔
چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے تحریک انصاف کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ سیاسی بات کر رہے ہیں، ہم دیکھیں گے اسپیکر کی رولنگ کی کیا قانونی حیثیت ہے، چیف جسٹس نے کہا کہ آج ہم مناسب حکم نامہ جاری کریں گے اور قومی اسمبلی کی کارروائی کا جائزہ لیں گے۔
سماعت کے دوران اپوزیشن جماعتوں کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے کہا عدالت پر بوجھ نہیں بننا چاہتے لہٰذا باقی وکلا میری معاونت کریں گے،فل کورٹ بینچ تشکیل دینے کی استدعا کی جسے عدالت نے مسترد کردیا۔ فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ پیپلز پارٹی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کی استدعا ہے کہ فل کورٹ بینچ تشکیل دیا جائے اور ایسا بینچ بنایا جائے جس میں تمام جج صاحبان شامل ہوں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ بینچ کو آئینی و قانونی نکات سے آگاہ کریں، ہم پھر جائزہ لیں گے کہ فل کورٹ بنانا چاہیے یا نہیں۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ اگر آپ کو پانچ ججز پر اعتراض ہے تو ہمیں بتائیں ہم چلے جاتے ہیں جس پر فاروق ایچ نائیک نے جواب دیا کہ ہمیں عدالت پر اعتماد ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اگر آپ کو بینچ میں کسی پر عدم اعتماد ہے تو بتایا جائے، کسی جج پر عدم اعتماد کرنے سے بینچ اٹھ جائے گا۔
فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ مجھے بینچ کے کسی رکن پر عدم اعتماد نہیں لیکن عدم اعتماد کی تحریک پر کوئی اعتراض نہیں اٹھایا جاسکتا، چیف جسٹس نے کہا کہ فل کورٹ بینچ کی تشکیل سے دیگر مقدمات کی سماعت میں خلل پڑتا ہے، فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد جمع کرانے کے لیے الزام عائد کرنا لازم نہیں، عدم اعتماد کی تحریک جمع ہونے کے بعد آرڈر پیش ہونا چاہیے۔
بینچ کے رکن جسٹس منیب اختر نے کہا کہ 10 مارچ کی تاریخ پر آرڈر پیش کرنے کا معاملہ غیر متعلقہ ہے، انہوں نے کہا کہ کیا آرڈر آف دی ڈے تب جاری ہوتے ہیں جب اسمبلی کا اجلاس چل رہا ہو، کیا اسپیکر کو اسمبلی اجلاس بلانا ہوتا ہے؟ کیا 10 مارچ آرڈرز آف دی ڈے جاری کرنے کا نہیں تھا؟ کیا 10 مارچ آرڈرز سرکولیٹ کرنے کا دن تھا؟۔ چیف جسٹس نے کہا کہ جو کچھ قومی اسمبلی میں ہوا اس کی آئینی حیثیت کا جائزہ لینا ہے، فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ آٹھ مارچ کو تحریک عدم اعتماد اور اسمبلی اجلاس بلانے کی ریکوزیشن جمع کرائی، اسپیکر 14 دن میں اجلاس بلانے کے پابند تھے، اسپیکر نے 27 مارچ کو اجلاس بلایا، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آپ کا کیس اجلاس بروقت بلانے کا نہیں ہے۔جس پر جسٹس منیب اختر نے کہا کہ اسپیکر نے اجلاس تاخیر سے بلانے کی وجوہات بھی جاری کی تھیں البتہ وجوہات درست تھیں یا نہیں، اس پر آپ مؤقف دے سکتے ہیں۔فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ 14 دن گزر جانے کے بعد عدم اعتماد پر ووٹنگ کے لیے تاخیر سے اجلاس بلایا گیا، 28 مارچ کو روٹین کے مطابق ایک رکن کے انتقال پر اجلاس ملتوی ہوا، ان کا کہنا تھا کہ 28 مارچ عدم اعتماد کی تحریک پر ووٹنگ کے لیے منظور کی گئی۔ جسٹس منیب اختر نے استفسار کیا کہ کیا اسپیکر اس وقت کہہ سکتا تھا کہ ووٹنگ کے لیے تحریک کو قبول نہیں کریں گے، کیا اکثریت نہ ہونے کے سبب تحریک جمع ہی نہیں ہوسکتی تھی، 100 اراکین میں سے 20 اراکین بھی کہیں ووٹنگ کرانا چاہتے ہیں، 50 انکار کرتے ہیں تو کیا ہو گا۔اس موقع پر چیف جسٹس نے کہا کہ کیس کے حقائق پر آئیں، تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ سے قبل بحث نہیں کرائی گئی، قوانین میں ووٹنگ سے قبل واضح بحث کا ذکر موجود ہے۔ فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ اسپیکر ہاؤس میں قرار داد پیش کرنے کی اجازت دیتا ہے لیکن عدم اعتماد پر بحث کی اجازت ہی نہیں دی گئی۔جسٹس منیب اختر نے استفسار کیا کہ اگر اسپیکر عدم اعتماد پیش کرنے کی اجازت نہ دیں، پھر کیا ہوگا تو فاروق ایچ نائیک نے بتایا کہ اسپیکر نے قرارداد کی اجازت دے کر معاملہ پر 3 اپریل تک اجلاس ملتوی کردیا تھا، چیف جسٹس نے دریافت کیا کہ براہ راست کارروائی سے پہلے عدم اعتماد پر بحث کیوں نہیں کرائی، اپوزیشن کے وکیل نے جواب دیا کہ عدم اعتماد کی تحریک پر ووٹنگ نہیں ہوئی جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ وہ تو ہمیں معلوم ہے۔
بینچ کے رکن جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ عدم اعتماد کی تحریک پر کارروائی میں طریقہ کار کی خلاف ورزی کی گئی، فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ کارروائی کا آغاز ہوا تو سابق وزیر قانون فواد چوہدری نے مختصر بات کی، اسپیکر کی رولنگ میں بھی واضح ہے کہ قرارداد پر بحث نہیں ہوئی، شہباز شریف نے اجلاس کے روز بات کرنے کی کوشش کی لیکن بات نہ ہو سکی، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ 31 مارچ کو عدم اعتماد کی قرارداد پر بحث نہیں کرائی گئی، یعنی 4اپریل کو آخری دن بنتا ہے جب بحث کرکے ووٹنگ ہوسکتی تھی، جسٹس مندوخیل نے کہا کہ کیا آرٹیکل 95 میں بحث کا ذکر ہے یا براہ راست ووٹنگ کا کہا گیا ہے جس پر فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ عدم اعتماد کی تحریک پر بحث کا ذکر رولز میں ہے، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ وزیر قانون نے رولنگ مانگی تھی، اصول ہے کہ جب رولنگ مانگی جائے تو اس پر پہلے بحث ضروری ہے۔ جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ کیا آرٹیکل 95 میں بحث کا ذکر ہے یا براہ راست ووٹنگ کا کہا گیا ہے۔ فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ عدم اعتماد کی تحریک پر بحث کا ذکر رولز میں ہے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ وزیر قانون نے رولنگ مانگی تھی، اصول ہے کہ جب رولنگ مانگی جائے تو اس پر پہلے بحث ضروری ہے۔ جسٹس منیب اختر نے استفسار کیا کہ کیا ڈپٹی اسپیکر رولنگ دے سکتا ہے یا پھر اسپیکر ہی رولنگ دے سکتا ہے۔ فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ قانون میں اسپیکر کا مطلب اسپیکر ہی ہے جبکہ چیئرہرسن بھی رولنگ دے سکتا ہے۔ جسٹس منیب اختر نے کہا کہ رول 28 کے تحت رولنگ صرف اسپیکر دے سکتا ہے، کیا اسپیکر اپنی رولنگ واپس لے سکتا ہے، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ‏کیا 3 اپریل کا دن اجلاس تحریک پر بحث کا موقع دینے کی بجائے ووٹنگ کے لیئے مقرر کیا گیا؟، اسپیکر نے تحریک عدم اعتماد پر بحث کے لیے کونسا دن دیا؟، تحریک عدم اعتماد پر ڈائریکٹ ووٹنگ کا دن کیسے دیا جا سکتا ہے۔ فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ اسپیکر نے بحث کرنے کی اجازت نہیں دی۔ جسٹس منیب اختر نے پوچھا کہ ‏ڈپٹی اسپیکر نے رولنگ کس رول کے تحت دی ہے؟ جس پر فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ ‏اجلاس شروع ہوا تو فواد چوہدری نے آرٹیکل 5 کے تحت خط کے حوالے سے سوال کیا، ‏فواد چوہدری کے پوائنٹ آف آرڈر پر ڈپٹی اسپیکر نے رولنگ جاری کر دی، انہوں نے کہا کہ ‏فواد چوہدری کے پوائنٹ آف آرڈر پر بحث بھی ہو سکتی تھی، اسپیکر کو معلوم تھا کہ غیر قانونی قدم ہے اس لیے وہ موجود نہیں تھے۔
بینچ کے رکن ‏جسٹس منیب اختر نے کہا رول 28 کے تحت اسپیکر کو رولنگ دینے کا اختیار ہے، اسپیکر رولنگ ایوان میں یا اپنے دفتر میں فائل پر دے سکتا ہے، کیا اسپیکر اپنی رولنگ واپس لے سکتا ہے؟ اس پر اپوزیشن کے وکیل نے کہا کہ رولنگ واپس لینے کے حوالے سے اسمبلی رولز خاموش ہیں، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ ‏میری رائے یہ ہے کہ رولنگ دینے کا اختیار صرف اسپیکر کا ہے، کسی اور کا نہیں، ‏ڈپٹی اسپیکر رولز کے مطابق اسپیکر کی عدم موجودگی میں اجلاس کو چلاتا ہے، میرے خیال میں ڈپٹی اسپیکر کو ایسی رولنگ دینے کا اختیار نہیں تھا، فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ ‏ڈپٹی سپیکر صرف اجلاس کی صدارت کر رہے تھے، قائم مقام اسپیکر کے لیے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کرنا ہوتا ہے، جس خط کا ذکر ہوا وہ اسمبلی میں پیش نہیں کیا گیا، انہوں نے کہا کہ ‏ڈپٹی اسپیکر نے اپنی رولنگ کے ذریعے اپوزیشن اراکین کو غدار ڈکلیئر کر دیا ہے، ‏اپوزیشن کے 198 ارکان پر غیرملکی سازش کا الزام لگایا گیا، 175 ارکان اپوزیشن جبکہ باقی پی ٹی آئی کے منحرف اراکین تھے۔
جسٹس جمال مندوخیل کا کہنا تھا کون کس پارٹی سے تھا اس پر کیوں وقت ضائع کر رہے ہیں؟، ‏کیا ووٹنگ کے لیے اجلاس بلا کر تحریک عدم اعتماد پر رولنگ دی جا سکتی ہے؟، تحریک عدم اعتماد پر فیصلہ ووٹنگ سے ہی ہونا ہوتا ہے۔ وکیل فاروق ایچ نائیک نے اسپیکر کی رولنگ عدالت میں پیش کرتے ہوئے کہا کہ ‏تحریک عدم اعتماد تین منٹ سے بھی کم وقت میں مسترد کر دی گئی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ یہ جذباتی گفتگو ہے، قانونی نکتے پر بات کریں، ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کس طرح غیرآئینی ہے یہ بتائیں۔ فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ ا‏سپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کو عدم اعتماد مسترد کرنے کا اختیار نہیں، تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کے دن اس کی حیثیت پر فیصلہ نہیں ہو سکتا بلکہ قانونی ہونے کا فیصلہ ووٹنگ کے لیے مقرر ہونے سے پہلے ہو سکتا ہے۔ فاروق ایچ نائیک نے مزید کہا کہ رولنگ دینے سے پہلے اپوزیشن کا موقف نہیں سنا گیا، تمام اپوزیشن ارکان کو غداری کا ملزم بنا دیا گیا، جمہوریت اب تک حب الوطنی اور مذہب کے کارڈز سے باہر نہیں نکل سکی۔ جسٹس منیب اختر نے استفسار کیا کہ پارٹی سے انحراف کرنے والوں کے بارے میں کیا خیال ہے؟ جس پر فاروق ایچ نائیک نے جواب دیا کہ منحرف ارکان کے حوالے سے بھی اپنا مؤقف دوں گا۔ جسٹس عمرعطا بندیال نے کہا کہ ڈپٹی سپیکر کی رولنگ میں پارلیمانی کمیٹی کا بھی ذکر ہے، اپوزیشن نے جان بوجھ کر کمیٹی میں شرکت نہیں کی، پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی میں سارا معاملہ رکھا گیا تھا، اس سوال کا جواب تمام اپوزیشن جماعتوں کے وکلا نے دینا ہے۔ چیف جسٹس نے پوچھا کہ ہمیں بتائیں کہ اسپیکر کو کس حد تک آئینی تحفظ حاصل ہے جس پر فاروق ایچ نائیک نے جواب دیا کہ آئین میں لکھا ہوا ہے کہ اسپیکر کی اسمبلی کارروائی کے طریقہ کار پر اعتراض نہیں کیا جاسکتا۔ فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ بین الاقوامی سازش کا کا الزام لگانے سے پہلے سنا ہی نہیں گیا، اگر سازش والی بات برقرار رہی تو مستقبل میں مشکلات ہوں گی، ہم اب تک غداری، حب الوطنی اور مذہبی معاملات سے آگے نہ نکل سکے، یہ ہماری جمہوری اقدار کے لیے خطرہ ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ مقدمہ کو کل تک ملتوی کر دیتے ہیں جس پر فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ مقدمہ کو آج ہی مکمل کریں۔ تاہم جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آج ہی دلائل سن کر فیصلہ دے دیں، یہ ممکن نہیں، تمام سیاسی جماعتوں کی رائے کا احترام ہے اور سپریم کورٹ کے فیصلے کے دور رس نتائج برآمد ہوں گے۔ فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ آج خط لکھ کر نگراں وزیراعظم کے لیے تین تین نام مانگے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ نائیک صاحب کہتے ہیں نگران حکومت بننے والی ہے لیکن ہم ہوا میں فیصلے نہیں دے سکتے۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز چیف جسٹس کی سربراہی میں جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس محمد علی مظہر پر مشتمل تین رکنی بینچ نے حکم نامہ جاری کیا کہ ڈپٹی اسپیکر نے آرٹیکل 5 استعمال کرتے ہوئے بادی النظر میں نہ تحقیقات کے نتائج حاصل کیے اور نہ متاثرہ فریق کو سنا، عدالت جائزہ لے گی کہ کیا ڈپٹی اسپیکر کے اقدام کو آئینی تحفظ حاصل ہے؟سپریم کورٹ نے ہدایت کی کہ کوئی ریاستی ادارہ اور اہل کار کسی غیر آئینی اقدام سے گریز کرے، صدر اور وزیر اعظم کا جاری کردہ کوئی بھی حکم سپریم کورٹ کے حکم سے مشروط ہو گا۔عدالت نے سیکرٹری داخلہ اور دفاع کو امن و امان قائم کرنے کے لیے اقدامات کی رپورٹ جمع کرانے کی بھی ہدایت کی۔سپریم کورٹ نے پنجاب اسمبلی میں پیدا ہونے والی صورتِ حال پر ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کیا اور حکم دیا کہ پنجاب میں نئے وزیراعلیٰ کے تقرر کا عمل آئینی اور پُرامن طریقے سے کیا جائے۔

Related Articles

Back to top button