عمران کے ہاتھوں ریاست مدینہ کے نام پر اسلام کا استحصال

وزیراعظم عمران خان ملک کو ریاست مدینہ بنانے کا نعرہ کیا سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کر رہے اس حولے سے سنیئر صحافی رضا رومی کا کہنا ہے کہ عمران خان تواتر سے اپنی تقاریر اور بیانات میں پاکستان کو ریاست مدینہ بنانے کا دعویٰ کرتے آئے ہیں جبکہ  حکومت میں آنے سے لے کر تاحال ان کی جانب سے  ملک کو ریاستِ مدینہ بنانے کے لیے ایک بھی عملی اقدام  سامنے نہیں آیا،جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ یہ نعرہ صرف سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے لئے استعمال کر رہے ہیں۔

 اپنے تجزیے میں رضا رومی کہتے ہیں کہ پاکستان کو مدینہ کی فلاحی اور اسلامی ریاست بنانے کا خواب انتہائی معتبر ہے اور پاکستانی مسلماںوں کو بھی انتہائی عزیز ہے۔ لیکن کسی بھی تاریخی یا مذہبی حوالے کی طرح ریاست مدینہ ایک مبہم تصور ہے جسکا 21ویں صدی میں نفاذ اگر ناممکن نہیں تو بے حد مشکل ضرور ہے۔ بقول رضا رومی، ریاست مدینہ کا تصور یگانگت، بھائی چارے اور صلح کل پر مبنی ہے۔

ریاست مدینہ کا تعلق ایک انتہائی اہم دستاویز جو کہ میثاق مدینہ سے منسلک ہے، میثاق مدینہ میں مسلم اور غیر مسلم خصوصاً یہودی آبادی کے درمیان بقائے باہمی کی بنیاد پر سیاسی، سماجی اور سیاسی تعلقات کو پروان چڑھایا گیا۔

اس میں معاشی مساوات اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کا تصور بھی موجود ہے، جیسا کہ آج سے چودہ سو سال پہلے انصار مدینہ نے مکہ سے آئے ہوئے مہاجرین کو نہ صرف گلے لگایا بلکہ اپنی جائیداد اور دیگر وسائل میں بھی شریک کیا۔ سب سے اہم خصوصیت یہ تھی کہ اس دوران رسول اکرمﷺ اور ان کے جانثار صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اپنے مخالفین کے خلاف کسی بھی جارحانہ کارروائی سے گریز کیا تھا۔

لہٰذا بقول رضا رومی، محض تقاریر اور دلفریب نعروں سے ریاست مدینہ معرض وجود میں نہیں آ سکتی۔ پاکستان میں بسنے والی اقلیتیں آج بھی کسمپرسی اور امتیازی سلوک کا شکار ہیں۔ عمران کے اقتدار کے پچھلے ساڑھے تین برسوں میں قانونی سطح پر ایسی کوئی خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہوئی جسے دیکھتے ہوئے کہا جا سکے کہ عمران خان نے اقلیتوں کے تحفظ کے لئے کوئی ٹھوس اقدام اٹھایا ہے۔

یہاں تو یہ عالم ہے کہ وزیر اعظم کی ہنر مند وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری دنیا بھر کے انسانی حقوق کے لئے تو آواز بلند کرتی ہیں لیکن اپنے آنگن میں مسلے ہوئے پھول انہیں نظر نہیں آتے، چاہے وہ ہندو لڑکیوں کا اغوا اور جبری شادیاں ہوں یا آئین پاکستان میں غیر مسلم قرار دی گئی قادیانی اقلیت کے ساتھ روا رکھا جانے والا سلوک ہو۔ رضا رومی کے بقول، عمران خان اپوزیشن رہنماؤں کو برا بھلا کہنے سے خود کو نہیں روک سکتے۔

حتیٰ کہ انہوں نے اپنی ایک تقریر میں بیمار سیاسی حریف نواز شریف کے جیل سیل سے اے سی اتروانے جیسی اذیت پسند سوچ کا اظہار بھی کیا۔ انصاف کی ایسی تشریح اور تعبیر یقیناً ریاست مدینہ کے تصور سے متصادم ہے۔

کیا عدالتی فیصلے کے بعد ججوں سے پلاٹس واپس لیے جائیں گے

رضا رومی کے مطابق عمران کی نام نہاد ریاست مدینہ کسی بھی مسئلے پر اتفاق رائے پیدا نہیں کر سکی، چاہے وہ ٹیکسوں کی وصولی کا نظام ہو یا سول سروس میں اصطلاحات ہوں۔ لہذا اسے ریاست مدینہ کیسے گردانا جا سکتا ہے؟ اور تو اور، وزیر اعظم پارلیمنٹ میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کو نہ تو تسلیم کرتے ہیں اور نہ ہی ان کے ساتھ ہاتھ ملانا گوارا کرتے ہیں۔

اگر وہ واقعتاً ریاست مدینہ کے اتنے معترف ہیں تو ان کو وہ زمانہ بھی یاد کرنا چاہیے جب ہمارے پیارے نبیﷺ نے اپنے تمام دشمنوں کو معاف کر دیا تھا۔ رضا کہتے ہیں کہ معاشی مساوات بھی ریاست مدینہ کی ایک اہم خصوصیت تھی لیکن عمران خان نے اپنے ہی کیے ہوئے وعدوں کو رد کرتے ہوئے عالمی مالیاتی فنڈ کے ساتھ ایک معاہدہ کر لیا ہے جس کا خمیازہ پاکستانی کے عوام خصوصاً متوسط طبقہ اور غریب آبادی بھگت رہے ہیں۔

یاد رہے کہ بالواسطہ ٹیکس جن کی بھرمار نے پاکستانیوں کی زندگی اجیرن کر رکھی ہے وہ ہمیشہ امرا کے حق میں ہوتے ہیں۔ یہاں تو ایسا آرڈیننس بھی لایا گیا جس میں بڑے بڑے سرمایہ داروں کو 300 ارب ٹیکس کی چھوٹ دی جا رہی تھی اور آج بھی پاکستان کے سب سے بڑے لینڈ مافیا کے خلاف کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی جا رہی۔

حال ہی میں مرتب کردہ نیب کے قانون میں ترامیم کا ہدف بھی کاروباری طبقے کو مزید رعایتیں فراہم کرنا ہے اور اس کا اعلان خود وزیر اعظم نے بڑے طمطراق کے ساتھ کیا ہے۔

رضا رومی کہتے ہیں کہ وزیر اعظم کی نیت پر شک کرنا تو نامناسب ہوگا کیونکہ ان کا انداز طخاطب انتہائی مخلصانہ دکھائی دیتا ہے لیکن کیا انکو اتنے بڑے دعوے کرنا زیب دیتا ہے؟ جب کہ ان کا عمل اور ان کی حکمرانی ایسے تمام دعووں کی نفی کرتے ہیں۔

اگر تو ان دعووں اور وعدوں کا مقصد سیاست چمکانا اور خود کو دیگر سیاستدانوں سے برتر ثابت کرنا ہے تو یہ بھی مذہبی حوالوں کا نامناسب استعمال ہے جسسے دین اسلام کا استحصال ہی قرار دیا جاسکتا ہے۔

Related Articles

Back to top button