فرح خان ڈالرز کی ذخیرہ اندوزی میں بھی ملوث نکلی

 

عمران خان کی تیسری اہلیہ بشریٰ بی بی کی فرنٹ پرسن

کہلانے والی فرح خان کے حوالے سے انکشاف ہوا ہے کہ دبئی فرار ہوتے وقت وفاقی تحقیقاتی ادارہ یعنی ایف آئی اے ان کے خلاف لاکھوں ڈالرز ذخیرہ کرنے کے الزام پر کارروائی شروع کر چکا تھا اور اس معاملے میں نوٹس بھی جاری ہو چکے تھے۔ ایف آئی اے کی تحقیقات کے مطابق فرح خان کہلانے والی فرحت شہزادی نے پچھلے تین برسوں میں لاہور اور اسلام آباد کی مختلف ایکسچینج کمپنیوں سے کئی لاکھ ڈالرز خریدے جنہیں وہ اپنے فارن کرنسی اکاؤنٹ میں جمع کرواتی رہی۔

ایف آئی اے کے مطابق صرف جنوری سے ستمبر 2021 کے 9 ماہ کے دوران فرح خان نے اپنے غیر ملکی کرنسی اکائونٹ میں ڈھائی لاکھ ڈالرز جمع کروائے تھے لیکن یہ نہیں بتا پائی تھی کہ یہ کہاں سے آئے ہیں۔ فرح خان نے یہ تمام ڈالرز اوپن مارکیٹ سے خریدے تھے۔ چنانچہ ایف آئی اے لاہور نے اسے انکوائری کے لئے طلب کیا تھا اور ایک نوٹس جاری کیا تھا۔ نوٹس میں موصوفہ کو کہا گیا تھا کہ آپ 7 دسمبر 2021 کو صبح ساڑھے دس بجے ایف آئی اے دفتر، 1-ٹیمپل روڈ، لاہور کے دفتر میں ذاتی حیثیت میں یا صرف اپنے اکائونٹنٹ کے ذریعے پیش ہوں اور اپنے ہمراہ متعلقہ بینک اسٹیٹمنٹ بھی لائیں اور ایجنسی کو آگاہ کریں کہ آپ کے اکائونٹ میں جو ڈالرز موجود ہیں وہ اپنے نے کن ذرائع سے حاصل کیے۔

نوٹس میں یہ وضاحت بھی کی گئی کہ یہ قانونی نوٹس ڈالرز کی نقد خریداری کے لیے استعمال ہونے والے فنڈز کے ذرائع معلوم کرنے کے لیے ہے۔ یہ بھی لکھا گیس کہ نوٹس پر عمل درآمد نہ ہونے کی صورت میں یہ سمجھا جائے گا کہ آپ نقد امریکی ڈالرز کی خریداری کے اصل ماخذ بیان نہیں کرنا چاہتیں۔ لیکن اس نوٹس کے جواب میں نہ تو فرح خان خود ایف ائی اے کے سامنے پیش ہوئی اور نہ ہی اپنے اکاؤنٹنٹ کو بھیجا۔

معروف تحقیقاتی صحافی فخر درانی کی ایک رپورٹ کے مطابق اس نوٹس کو جاری ہوئے بھی چار ماہ کا عرصہ گزر گیا لیکن اس پر کوئی مزید پیش رفت نہ کی گئی جس کی بنیادی وجہ فرح خان کا اثر رسوخ تھا۔ ایف آئی اے نے حیران کن طور پر اس کیس کو سرد خانے میں ڈال دیا کیوں کہ فرح خان کے خاتون اول سے قریبی روابط ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ اکتوبر 2021 میں ایف آئی اے نے 100 افراد کو نوٹسز بھجوائے تھے اور فیصلہ کیا تھا کہ ایسے افراد سے تحقیقات کی جائیں گی مختلف ایکسچینج کمپنیوں سے لاکھوں ڈالرز خریدنے میں ملوث تھے۔

ان میں سے کچھ لوگوں نے یہ رقوم اپنے پاس ذخیرہ کیں اور ذیادی تر نے بیرون ملک بھجوائیں۔ فرح خان ان 100 افراد میں شامل تھیں جو کہ امریکی ڈالرز یا تو ذخیرہ کر رہے تھے یا بیرون ملک بھجوا رہے تھے۔ اس معاملے پر ڈائریکٹر ایف آئی اے، لاہور ڈاکٹر محمد رضوان کا کہنا تھا کہ نوٹسز ان 100 افراد کو بھجوائے گئے تھے جنہوں نے گزشتہ دو برس میں بہت ذیادہ امریکی ڈالرز خریدے تھے۔ ان سے جب خصوصی طور پر فرح خان سے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے جواب دینے سے انکار کر دیا۔

اب بھی مشورہے یک زبان ہو کر مستعفی ہو جائیں

یاد رہے کہ فرح خان کے نام سے معروف ماضی کی ماڈل گرل فرحت شہزادی پر حکومتی اور اپوزیشن رہنمائوں کی جانب سے کرپشن کے سنگین الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔ فرح کا شوہر احسن جمیل گجر بشریٰ بی بی کے پہلے شوہر خاور مانیکا کا قریبی ترین دوست ہے جس نے عثمان بزدار کو عمران خان سے ملوایا تھا اور پھر وزیراعلی بنوایا۔

اسی لیے یہ الزام عائد کیا جاتا ہے کہ پنجاب کے وزیر اعلی عثمان بزدار نہیں بلکہ فرح تھی جس نے پچھلے پونے چار برس میں پنجاب میں کرپشن کے نئے ریکارڈ قائم کر کے اربوں روپیہ کمایا۔ فرح خان کی بشری بی بی سے قربت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ وہ اپنے گھر کی بجائے بشریٰ بی بی کے پاس بنی گالہ میں رہا کرتی تھی۔ اسی لیے 2018 میں عمران خان کے اقتدار میں آتے ہی اسکی دولت میں تیزی سے اضافہ ہوا اور وہ ایک ارب روپے کے اثاثوں کے مالک بن گئی۔

Farah Khan was also involved in hoarding dollars | video

Related Articles

Back to top button