بالآخر بلیغ الرحمن نے گورنر پنجاب کا حلف اٹھا لیا

پنجاب میں جاری آئینی بحران ختم ہوگیا، بالآخر مسلم لیگ ن کے رہنما بلیغ الرحمن نے گورنر پنجاب کا حلف اٹھا لیا۔

تقریب حلف برداری گورنر ہائوس میں ہوئی ،چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ امیر بھٹی نے بلیغ الرحمن سے 39 ویں گورنر پنجاب کا حلف لیا۔

اس موقع پروزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہبا ز،چیف سیکرٹری پنجاب موجود تھے۔حمزہ شہباز نے بلیغ الرحمن کو گورنر پنجاب کا حلف اٹھانے پر مبارکباد دی.

دریں اثنا صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما محمد بلیغ الرحمٰن کو پنجاب کا نیا گورنر بنانے کی منظوری دے دی، صدر مملکت کے دفتر کی جانب سے ٹوئٹ میں کہا گیا کہ عارف علوی نے آئین کے آرٹیکل 101 (1) کے تحت وزیر اعظم شہباز شریف کے مشورے پر تقرر کی منظوری دی۔

یاد رہے کہ سابق گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ کو عہدے سے ہٹانے سے متعلق پنجاب کی سیاست خاصی گرما گرمی کا شکار رہی ہے، 3 اپریل کو سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی بازگشت کے بعد چوہدری محمد سرور کو گورنر پنجاب کے عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا، ان کی جگہ عمر سرفراز چیمہ کو صوبے کے گورنر کی ذمہ داریاں سونپی گئی تھیں، تاہم 16 اپریل کو سابق گورنر عمر سرفراز چیمہ نے بطور وزیر اعلیٰ پنجاب عمر سرفراز چیمہ سے حلف لینے سے انکار کر دیا تھا جس کے بعد لاہور ہائی کورٹ کے حکم پر ہفتہ کو قومی اسمبلی کے سپیکر راجا پرویز اشرف نے ان سے حلف لیا تھا۔

اس کے بعد 9مئی کووفاقی حکومت نے رات گئے اس وقت کے گورنر عمر سرفراز چیمہ کو وزیراعظم کے مشورے پر عہدے سے برطرف کردیا تھا، اسی روز صدر کی جانب سے گورنر کو پنجاب کو عہدے سے ہٹانے سے متعلق تجویز مسترد کردی گئی تھی، جس نے ایک یا دو روز میں گورنر کا عہدہ خالی ہونے سے متعلق مسلم لیگ (ن) کی امیدوں پر پانی پھیر دیا تھا، وزیراعظم شہباز شریف نے سابق گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ کی برطرفی کی سمری 16 اپریل کو صدر عارف علوی کو ارسال کی تھی۔

عدالتی حکم کے باجود گورنر پنجاب حمزہ شہباز سے حلف لینے سے انکاری

تحریک انصاف کا کہنا تھا آئین کے آرٹیکل 48 (2) کے ساتھ پڑھے گئے آرٹیکل 101 (3) کے لحاظ سے واضح ہے کہ صدر کسی بھی معاملے میں اپنی صوابدید پر کام کرے گا، آئین نے اسے ایسا کرنے کا اختیار دیا ہے۔

اس کے علاوہ گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ نے بھی آرٹیکل 101 (3) اور 48 (2) کا سہارا لیا، وہ مذکورہ آرٹیکلز کا حوالہ متعدد ٹوئٹس میں دے چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کے مشورے پر خود کار عمل درآمد گورنر کو عہدے سے ہٹانے کے بجائے، صدر کے معاملے پر کارروائی کے لیے مقررہ مدت ختم ہونے کے بعد ہوتا ہے۔ اپنے نوٹ میں وزیراعظم کے مشورے کو مسترد کرتے ہوئے صدر نے لکھا تھا کہ موجودہ گورنر کو نہیں ہٹایا جاسکتا کیونکہ ان پر بدانتظامی کا کوئی الزام ہے نہ ہی کسی عدالت کی طرف سے انہیں سزا دی گئی ہے اور نہ ہی ان کی طرف سے آئین کے منافی کسی کام کا ارتکاب کیا گیا ہے۔

صدر عارف علوی نے کہا تھا کہ بطور سربراہ مملکت میرا فرض ہے کہ میں آئین کے آرٹیکل 41 کے مطابق اسلامی جمہوریہ پاکستان کے اتحاد کی نمائندگی کروں۔

سابق گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ نے19مئی کو اسلام آباد کی عدالت عالیہ میں اپنی برطرفی کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دینے کی استدعا کی تھی، درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ سابق گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ کو عہدے سے ہٹانا غیر قانونی ہے، پنجاب میں ایک شخص جو اختیارات استعمال کر رہا ہے وہ غیر قانونی ہے، درخواست میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے اپنے بیٹے کو فائدہ دینے کے لیے گورنر پنجاب کو غیر قانونی طور پر عہدے سے ہٹایا۔ درخواست میں عمر سرفراز چیمہ نے کابینہ ڈویژن سے نوٹی فکیشن جاری کروانے والوں کے خلاف بھی کارروائی کرنے کی استدعا کی تھی۔ درخواست میں استدعا کی گئی تھی کہ عمر سرفراز چیمہ کی گورنر پنجاب کے عہدے سے برطرفی کا حکم کالعدم قرار دیا جائے۔

Related Articles

Back to top button