حکومتی عہدیداران نے ای سی ایل قوانین میں ترمیم سے فائدہ اٹھایا

ای سی ایل قوانین میں ترمیم اور تحقیقات میں حکومتی مداخلت پر ازخود نوٹس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیئے کہ بااختیار افراد نے ای سی ایل قوانین میں ترمیم کرکے اس سے فائدہ اٹھایا، دوران سماعت جسٹس اعجاز الاحسن نے سوال کیا کہ کیا ای سی ایل قوانین کے حوالے سے کابینہ نے منظوری دی؟۔ جس پر اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ

پہلی بار امریکی ڈالر 205 روپے کی حد بھی عبور کر گیا

کابینہ کمیٹی برائے قانون سازی میں معاملہ زیرغور ہے۔
چیف جسٹس نے دوران سماعت ریمارکس دیئے کہ جس نے سرکاری کام سے باہر جانا ہو، اسے اجازت ہونی چاہیے۔ جو ملزم بھی بیرون ملک جانا چاہے تو اسے وزارت داخلہ سے اجازت لینا ہوگی، ملک میں موجودہ حالات اپنی نوعیت کے اور مختلف ہیں، حکومت بنانے والی اکثریتی جماعت اسمبلی سے جا چکی ہے۔ ملک اس وقت معاشی بحران سے گزر رہا ہے، لہذا سسٹم چلنے دینے کے لیے سب کو مل کر کام کرنا ہوگا۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ یکطرفہ پارلیمان سے قانون سازی بھی قانونی تقاضوں کے مطابق ہونی چاہیے۔ یہ کسی کے لیے فائدہ اٹھانے کا موقع نہیں ہے۔ نظر رکھیں گے کہ کوئی ادارہ اپنی حد سے تجاوز نہ کرے۔ ایسا حکم نہیں دینا چاہتے جس سے حکومت کو مشکلات ہوں۔
دوران سماعت جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ سمجھ نہیں آ رہی حکومت کرنا کیا چاہتی ہے۔ لگتا ہے حکومت بہت کمزور وکٹ پر کھڑی ہے۔ واضح بات کے بجائے ہمیشہ اِدھر اُدھر کی سنائی جاتی ہیں۔ ای سی ایل کے حوالے سے کوئی قانونی وجہ ہے تو بیان کریں۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ ای سی ایل سے نام نکالنے کی اتنی جلدی کیا تھی؟ ایسی کیا جلدی تھی کہ دو دن میں ای سی ایل سے نام نکالنے کی منظوری دی گئی؟ جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ کابینہ ارکان کے نام ای سی ایل پر تھے۔ ماضی میں بھی اسی انداز میں ای سی ایل سے نام نکالے جاتے رہے۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ بااختیار افراد نے ترمیم کرکے اس سے فائدہ اٹھایا۔ قانونی عمل پر کوئی سمجھوتا نہیں ہونے دیں گے۔ کسی کو لگتا ہے کیس میں جان نہیں، تو متعلقہ عدالت سے رجوع کرے۔ سپریم کورٹ کی جانب سے وزیراعظم کی ضمانت حاصل کرنے کے اقدام کی تعریف کی گئی۔ اس سلسلے میں چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اچھا لگا کہ وزیراعظم اور وزیراعلیٰ نے خود پیش ہوکر ضمانت کرائی، تاہم ہم ضمانت کے حکم نامے کا بھی جائزہ لیں گے۔ کابینہ ارکان نے تو بظاہر ای سی ایل کو ختم ہی کر دیا۔

Related Articles

Back to top button