حمزہ شہباز نے وزارت اعلیٰ بچا لی، پرویز الٰہی کو شکست

وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز اپنی وزارت اعلیٰ بچانے میں کامیاب جبکہ اپوزیشن اتحاد کے امیدوار چوہدری پرویز الٰہی شکست کھا گئے۔

وزیر اعلیٰ پنجاب کے انتخاب کیلئے پنجاب اسمبلی کا اجلاس تقریبا ً 3 گھنٹے کی تاخیر سے ڈپٹی سپیکر دوست محمد مزاری کی زیر صدارت شروع ہوا۔ مسلم لیگ ن اور اتحادی جماعتوں نے حمزہ شہباز جبکہ پی ٹی آئی اور ق لیگ نے چوہدری پرویز الہیٰ کو امیدوار نامزد کر رکھا تھا۔

دوست محمد مزاری نے ایوان کو بتایا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق 16 اپریل کو ہونے والے انتخاب میں حمزہ شہباز کو 197 ووٹ پڑے تھے جن میں سے 25 ووٹ نکالنے کے بعد ان کے ووٹوں کی تعداد 172 بنتی ہے جو کہ درکار 186 ووٹ سے کم ہے لہٰذا اب انہیں اکثریت حاصل نہیں،اب وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب کیلئے کسی بھی رکن کو موجودہ اراکین کی اکثریت کی حمایت درکار ہوگی۔

 

اینکر پرسن اقرارالحسن کا دعا زہرا کے اغوا ہونے کا دعویٰ

ڈپٹی سپیکر نے راولپنڈی سے منتخب ہونے والے پاکستان مسلم لیگ(ن) کے رکن اسمبلی راجا صغیر سے رکنیت کا حلف لیا۔

اجلاس میں ووٹنگ کے عمل کے آغاز پر5 منٹ کےلیے گھنٹیاں بجائی گئیں جس کے بعد ایوان کی تمام لابیز بند کردی گئیں۔

اجلاس میں ن لیگ کے طاہر خلیل سندھونے زین قریشی اور شبیر گجر پر اعتراض اٹھایا اور ن لیگ نے دونوں ارکان کو ایوان سے باہر نکالنے کا مطالبہ کیا۔ ن لیگ نے مؤقف اپنایا کہ زین قریشی نےقومی اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ نہیں دیا لہٰذا پنجاب اسمبلی میں ووٹ نہیں ڈال سکتے ، شبیر گجر کا الیکشن کمیشن میں کیس چل رہا ہے اس لیے وہ بھی ووٹ نہیں ڈال سکتے، اس پر پی ٹی آئی کے راجہ بشارت نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے نوٹیفکیشن جاری کیا ہے، شبیر گجر ووٹ کاسٹ کر سکتے ہیں۔جس پرڈپٹی اسپیکر دوست محمد مزاری نے ن لیگ کا اعتراض مسترد کر دیا اور کہا کہ دونوں ارکان ووٹ ڈال سکتے ہیں۔

ڈپٹی سپیکر نے حمزہ شہباز کو ووٹ دینے والوں کو دائیں جانب لابیز میں جانے جبکہ پرویز الہٰی کو ووٹ دینے والوں بائیں جانب کی لابیز میں جانے کا حکم دیا،جس کے بعد انہوں نے ووٹنگ کرانے کی ہدایت کی۔

اس کے بعد ووٹنگ کا عمل شروع ہوگیا، مسلم لیگ ن ، تحریک انصاف اور مسلم لیگ ق کے ارکان نے اپنے ووٹ کاسٹ کیے۔پولنگ مکمل ہونے کے بعد ووٹوں کی گنتی کا عمل شروع ہوگیا۔جس کے بعد گنتی کا عمل مکمل ہونے کے بعد 2 منٹ تک گھنٹیاں بجائی گئیں اور تمام ارکان واپس ایوان میں آگئے۔

ووٹنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد ڈپٹی اسپیکر دوست مزاری نے ق لیگ کے سربراہ چوہدری شجاعت کے خط کو پڑھ کر سنایا جس میں انہوں نے ق لیگ کے ارکان کو ووٹ نہ ڈالنے کی ہدایت کی تھی،ڈپٹی اسپیکر نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق ق لیگ کے کاسٹ کیے گئے تمام 10 ووٹ مسترد ہوتے ہیں۔

ڈپٹی اسپیکر دوست مزاری نے ووٹوں کی گنتی کے بعد ایوان کو بتایا کہ مجھے چوہدری شجاعت کی طرف سے خط موصول ہوا ہے۔

انکا کہنا تھاپاکستان مسلم لیگ (ق) کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین کا خط پڑھتے ہوئے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ سے تعلق رکھنے والے پنجاب اسمبلی کے تمام اراکین کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب کے لیے ووٹنگ 22 جولائی کو شیڈول ہے اور پاکستان مسلم لیگ کے سربراہ کی حیثیت سے اپنے تمام اراکین صوبائی اسمبلی کو احکامات دے رہا ہوں وہ حمزہ شہباز شریف کے حق میں ووٹ دیں، اس خط کی کاپی پارٹی کے تمام اراکین کو بھیجے گئے ہیں۔
دوست مزاری نے کہا کہ اس خط کے مطابق سپریم کورٹ کے فیصلے کے تحت جتنے بھی پاکستان مسلم لیگ(ق) کے جتنے بھی ووٹ کاسٹ ہوئے ہیں وہ مسترد ہوتے ہیں، مسلم لیگ (ق) کے 10 ووٹ مسترد ہوتےہیں اور 10 ووٹ ختم ہوگئے ہیں۔

اس پر پی ٹی آئی رہنما راجا بشارت نے نکتہ اعتراض پر کہا کہ پارٹی اراکین کے ووٹ مسترد نہیں کیے جاسکتے کیونکہ پارلیمانی پارٹی کا لیڈر کا حق ہے۔

دریں اثنا وزیراعلیٰ کے امیدوار پرویز الہٰی سمیت پاکستان تحریک انصاف اور اتحادی جماعتوں کے اراکین لاہور کے مقامی ہوٹل سے پنجاب اسمبلی پہنچ گئے ہیں، اراکین کو ہوٹل کی بس کے ذریعے پنجاب اسمبلی تک پہنچایا گیا۔اطلاعات کے بعد اس وقت پاکستان تحریک انصاف اور ق لیگ کے اراکین کی مجموعی تعداد 187 کے قریب بتائی جا رہی ہے۔

دوسری جانب مسلم لیگ ن کے ارکان پنجاب اسمبلی بھی اپنے امیدوار حمزہ شہباز کی سربراہی میں نجی ہوٹل سے پنجاب اسمبلی پہنچ گئے۔ مسلم لیگ ن کے تین ارکان اسمبلی کے حلف کے بعد حکومتی اتحادی اراکین کی مجموعی تعداد 178 ہے تاہم ایک رکن اسمبلی کا ابھی نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوا جبکہ ایک رکن عظمی زعیم قادری کورونا کا شکار جبکہ دو رکن فیصل نیازی اور جلیل شرقپوری مستعفی ہو چکے ہیں۔ اسمبلی میں موجود آزاد اراکین کی تعداد 6 ہے۔

مسلم لیگ ن کی رکن صوبائی اسمبلی عظمیٰ زعیم بخاری کرونا لباس میں ووٹ ڈالنے پہنچیں، عظمیٰ زعیم بخاری نے گزشتہ روز اپنے کرونا ٹیسٹ مثبت آنے کی تصدیق کی تھی، اور انہیں ن لیگی کے کارکنان کی جانب سے تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیا تھا۔

Related Articles

Back to top button