نیشنل بینک آف پاکستان دیوالیہ ہونے سے کیسے بچا؟

نیویارک کی فیڈرل کورٹ میں نیشنل بینک آف پاکستان کے خلاف دائر کردہ دہشت گردوں کی مالی معاونت کا کیس پاکستان نے جیت لیا ہے جس کے بعد نیشنل بینک دیوالیہ ہونے سے بچ گیا ہے۔ اٹارنی جنرل آفس کے مطابق نیشنل بینک کے خلاف دہشت گردی کی مالی مدد کرنے کا الزام لگایا گیا تھا اور کہا گیا تھا کہ رقم افغانستان منتقل کی جا رہی تھی۔ مقدمہ ہارنے پر پاکستان پر اربوں ڈالرز کا جرمانہ عائد ہو سکتا تھا۔

پی ٹی آئی اپنا جھوٹا بیانیہ سچا کیسے ثابت کرتی ہے؟

سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ کیس کے مدعی ہیرولڈ براؤن سینئر نے بینک کے خلاف دائر کیس واپس لے لیا ہے جس کے بعد تمام الزامات ختم ہوگئے ہیں۔ یہ معاملہ پاکستان کے لیے کتنا حساس تھا اسکا اندازہ یوں لگایا جاسکتا ہے کہ اگر بینک کے خلاف فیصلہ ہو جاتا تو وہ دیوالیہ ہو سکتا تھا۔

یاد رہے کہ اس سے پہلے رواں برس امریکی فیڈرل ریزرو بورڈ نے نیشنل بینک پر 2 کروڑ 4 لاکھ ڈالرز جرمانہ عائد کیا تھا، اس کے علاوہ نیویارک کے محکمہ برائے مالیاتی خدمات نے بھی بار بار عدم تعمیل پر بینک کو ساڑھے 3 کروڑ ڈالرز کا جرمانہ کیا تھا۔ یوں جرمانے کی مجموعی رقم ساڑھے 5 کروڑ ڈالرز تک پہنچ گئی تھی۔
کیس کے مدعی نے الزام عائد کیا تھا کہ نیشنل بینک آف پاکستان کئی بدنام زمانہ دہشت گرد گروپوں اور القاعدہ سمیت دہشت گردی کے لیے چندہ جمع کرنے والوں تنظیموں کی مالی اعانت کرتے ہوئے انہیں بینکنگ کی خدمات مہیا کر رہا ہے۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ نیشنل بینک کا کیس اٹارنی جنرل آفس کے انٹرنیشنل ڈس پیوٹس یونٹ نے لڑا۔ مقدمے میں قانونی ٹیم کی قیادت احمد عرفان نے کی۔ قانونی ٹیم کو نیشنل بینک آف پاکستان کے صدر کی معاونت بھی حاصل رہی۔

ذرائع کے مطابق مقدمہ ہارنے کی صورت میں پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی جانب سے بھی سخت ردعمل کا سامنا کرنا پڑتا۔ مقدمہ ہارنے کی صورت میں پاکستان کو اربوں ڈالر کا جرمانہ ادا کرنا پڑتا اور نیشنل بینک دیوالیہ بھی ہو جاتا۔

خیال رہے کہ کچھ سال قبل افغانستان میں امریکی فوجی اڈے پر حملے میں 9 سے زیادہ امریکی فوجی ہلاک ہوگئے تھے۔ اس سلسلے میں نیویارک کی عدالت میں نیشنل بینک آف پاکستان پر دہشت گردی کے لئے مالی مدد کی فراہمی کے الزامات میں مقدمہ دائرکیا گیا تھا۔امریکی حکام نے نیشنل بینک آف پاکستان اور اس کی نیویارک برانچ پر 55 ملین ڈالرز کے جرمانے عائد کر دیے تھے۔ ریاست نیویارک کے سپرنٹنڈنٹ آف فنانشل سروسز ایڈرین اے ہیرس اور امریکا کے مرکزی بینک یو ایس فیڈرل ریزرو نے ان جرمانوں کو عائد کیا تھا۔

یو ایس فیڈرل ریزرو نے 4 مارچ 2021ء کو نیویارک اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ آف فنانشل سروسز کے ساتھ معائنے میں نیشنل بینک کی برانچ میں “خطرے کے انتظام اور وفاقی قوانین کی تعمیل، قوائد اور ضوابط میں نمایاں کمی” پائے جانے پر 20.4 ملین ڈالر کا جرمانہ عائد کیا۔

Related Articles

Back to top button