وفاقی دارالحکومت میں بلدیاتی انتخابات ملتوی، نئی حلقہ بندیوں کا حکم

وفاقی دارالحکومت میں بلدیاتی انتخابات کو ملتوی کرتے ہوئے نئی حلقہ بندیوں کا حکم دے دیا گیا ہے، مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کی درخواستوں پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے سماعت کی، چیف جسٹس اطہر من اللہ نے بلدیاتی انتخابات سے متعلق مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی کی درخواست پر سماعت کی۔

پی ٹی آئی اپنا جھوٹا بیانیہ سچا کیسے ثابت کرتی ہے؟

درخواستوں سے متعلق عدالت نے الیکشن کمیشن سے استفسار کیا کہ انہوں نے اس معاملے پر کیا فیصلہ کیا ہے، جس پر انہوں نے بتایا کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے بلدیاتی انتخابات سے متعلق حکومتی نوٹی فکیشن کے تحت وضاحتی مؤقف دیا گیا ہے۔
جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ یہ بتائیں الیکشن کتنے دنوں میں ہوگا جس پر الیکشن کمیشن نے جواب دیا کہ انتخابات 60 سے 65 روز میں الیکشن کروائے جاسکتے ہیں، عدالت نے مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی اسلام آباد بلدیاتی انتخابات روکنے کی درخواستیں منظور کرتے ہوئے، الیکشن کمیشن کو 65 روز میں نئی حلقہ بندیاں کرکے بلدیاتی انتخابات کا شیڈول جاری کرنے کا اعلان کردیا۔
دوران سماعت الیکشن کمیشن نے مؤقف پیش کیا تھا کہ پہلے نئی حلقہ بندیاں کریں گے پھر بلدیاتی انتخابات کا شیڈول دیں گے، عدالت وفاقی حکومت کو بلدیاتی انتخابات کے لیے تعاون کا حکم دے، ان کا کہنا تھا کہ 60 روز میں نئی حلقہ بندیاں کرکے الیکشن شیڈول کا اعلان کیا جائے گا، کمیشن نے کہا کہ حکومتیں بلدیاتی انتخابات میں رکاوٹیں ڈالتی ہیں، عدالت وفاقی حکومت کو بلدیاتی انتخابات کی آئینی ذمہ داری پوری کرنے کا حکم دے۔
خیال رہے رواں ماہ کے وسط میں حکمران اتحاد مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی نے یونین کونسلوں کی موجودہ تعداد 50 سے بڑھا کر 101 کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ وزارت داخلہ کی جانب سے یونین کونسلوں کی تعداد بڑھانے کا نوٹی فکیشن جاری کیا گیا تھا، الیکشن کمیشن کی جانب سے رواں ماہ 2 تاریخ کو وفاقی دارالحکومت کی 50 یونین کونسلوں میں 31 جولائی کو انتخابات کے انعقاد کا شیڈول جاری کیا تھا۔
حکمران اتحاد کی دونوں جماعتوں نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کرتے ہوئے استدعا کی تھی کہ حلقہ بندیوں تک انتخابات میں تاخیر کی جائے۔ بلدیاتی انتخابات کا شیڈول جاری ہونے کے بعد مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے اسلام آباد ہائی کورٹ کا رخ کرتے ہوئے استدعا کی تھی کہ یوسیز کی تعداد میں اضافہ کرتے ہوئے انتخابات کے شیڈول پر نظرثانی کی جائے۔
واضح رہے اسلام آباد میں بلدیاتی حکومت کے 5 سال فروری 2021 میں مکمل ہوگئے تھے جس کے بعد 3 ماہ میں بلدیاتی انتخابات ہونے چاہیے تھے لیکن ایسا نہیں ہوا کیونکہ پی ٹی آئی کی حکومت چاہتی تھی کہ نئی حلقہ بندیوں کی بنیاد پر انتخابات کرائے جائیں۔

Related Articles

Back to top button