لانگ مارچ کیس:جان کو خطرے کے باعث عمران خان کو حاضری سے استثنیٰ

لانگ مارچ کے دوران توڑ پھوڑ‌کیس میں سابق وزیراعظم عمران خان کی جان کو خطرے کے باعث عدالت حاضری سے استثنیٰ دے دیا گیا جبکہ عبوری ضمانت میں 18 جولائی تک توسیع کر دی گئی ہے۔

اسلام آباد کی سیشن عدالت میں تحریک انصاف کے لانگ مارچ کے دوران توڑ پھوڑ کیس کی سماعت ہوئی جہاں عمران خان عدالت میں پیش نہیں ہوئے اور جج کامران بشارت مفتی نے سابق وزیر اعظم کی جان کو خطرے کے پیش نظر حاضری سے استثنیٰ کے لیے دی گئی درخواست منظورکرلی، عدالت نے سابق گورنر خیبرپختونخوا شاہ فرمان اور صوبائی وزیر کے پی کے شہرام ترکئی کی عبوری ضمانت بھی پانچ پانچ ہزار روپے مچلکوں پر ضمانت منظور کرلی۔

لشکر طیبہ کا گرفتار کمانڈر بی جے پی کا لیڈر نکل آیا

قبل ازیں پی ٹی ائی رہنماؤں شاہ محمود قریشی، اسد عمر اور سابق وزیر داخلہ شیخ رشید کی عبوری ضمانت میں توسیع ہوگئی تھی، ادھر سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ قوم کے سامنے آج کہنا چاہتا ہوں میں چپ ہوں مجھے پتا ہے کس نے کیا کیا اور کس طرح سازش ہوئی، میں ایک ویڈیو بھی بنا کر محفوظ جگہ پر رکھی ہوئی ہے،اگر مجھے کچھ ہوا تو حقیقت سامنے آجائے گی، اگر ہمیں دیوار کے ساتھ لگایا گیا اور ہراساں کیا گیا تو پھر میں بولوں گا، سب کچھ بتانے کیلئے مجبور ہوں گا، پنجاب کے الیکشن میں جو حرکتیں ہورہی ہیں، پہلے یہ بتائیں کہ حمزہ شریف کا دوماہ میں فیصلہ کیوں نہیں ہوا؟
ہمارے لیے تو رات کو عدالتیں کھل جاتی ہیں، دو دنوں میں فیصلے ہوجاتے ہیں،حمزہ شہباز کے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے چاہئیں تھے، ان پر ایف آئی اے میں 16ارب کے کیسز ہیں،جب سپریم کورٹ نے منحرف لوگوں کونااہل کردیا، پھر کس طرح یہ وزیراعلیٰ بنا رہا؟حمزہ جس طرح پولیس کا استعمال کررہا ہے، ہراساں کررہا ہے؟ پنجاب سے آوازیں آرہی ہیں کہ انتظامیہ ان کو الیکشن جتوانے کیلئے متحرک ہے۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ اندرون سندھ میں دیکھ لیں کہ 15فیصد لوگ کیوں کھڑے نہیں ہوئے؟ پتا تو کریں کیسے وہاں دہشت پھیلائی گئی؟یہ تو جمہوریت نہیں ہے، ان چوروں کو مسلط کیا ، میری اداروں اور قوم سے درخواست ہے فیصلہ کن وقت ہے، قوم کو کہتا ہوں کہ خوف کے بت کے سامنے جھک گئے، یہ 30 سال سے حکو مت میں ہیں، 90ء کی دہانی میں جب سے یہ حکومت میں آئے، ان دونوں خاندانوں کی وجہ سے بنگلا دیش اور انڈیا ہم سے آگے نکل گئے، قوم نے 20ضمنی انتخابات میں گھروں سے نکلنا ہے، دھاندلی کے باوجود ان چوروں کو شکست دینی ہے، یہ سیاست نہیں پاکستان کی جنگ ہے، جہاد ہے۔
انہوں نے کہا کہ آصف زرداری ایسے چوڑا ہوا پھر رہا ہے جیسے پاکستان کا بادشا ہے، نوازشریف واپس آنے کی تیاری کررہا ہے، اسحاق ڈار واپسی کی تیاری کررہا ہے، شہباز اور حمزہ پر 16ارب کے کیسز تھے،جن کے چار گوا ہ مرچکے، مریم نواز انتخابی مہم چلا رہی ہیں، 2014 میں ٹی وی پر کہا کہ لندن تو کیا پاکستان میں بھی کوئی پراپرٹی نہیں، جبکہ پاناما میں انکشاف ہوا کہ لندن کے مہنگے علاقے میں ان کی پراپرٹی ہے، پھر کیلبری فونٹ سیدھی جیل تھی، لیکن طاقت ور کو پکڑا نہیں جا رہاہے، یہ سارے ملک کا نظریہ اور ادارے تباہ کررہے ہیں،ایف آئی اے اور نیب تباہ، راجہ ریاض اپوزیشن لیڈر ہوگا تو پھر کیا اسمبلی کی حیثیت رہ جاتی ہے؟۔

Related Articles

Back to top button