عمران خان کے بہنوئی نے کپتان کو امریکی مہرہ قرار دے دیا

تحریک عدم اعتماد کے نتیجے میں اقتدار سے فارغ ہونے والے سابق وزیراعظم عمران خان کے بہنوئی اور سیاسی تجزیہ کار حفیظ اللہ نیازی نے کپتان کو امریکی مہرہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ حکومت کے خلاف مہم جوئی اور سیاسی انتشار پر امریکہ نے صدقے واری جانا ہے، کیوں کہ یہ تحریک امریکی سکیم کے عین مطابق ہے، اور عمران خان فقط ایک امریکی مُہرہ ہے۔

اوپن مارکیٹ میں ڈالر208.5 روپے پر پہنچ گیا

روزنامہ جنگ کے لیے اپنی تازہ تحریر میں حفیظ نیازی کہتے ہیں کہ اگر عمران کا یہ الزام تسلیم کر لیا جائے کہ ان کی چھٹی امریکی سازش کے نتیجے میں ہوئی تھی تو پھر انہیں یہ بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ نواز شریف کی اقتدار سے علیحدگی بھی ایک امریکی سازش کا ہی نتیجہ تھی۔ انکا کہنا ہے کہ عمران کے امریکی سازش کے بیانیے کو عوامی پذیرائی ملی ہے۔ لیکن وطن عزیز کیخلاف امریکی سازش آج کا کھیل نہیں، یہ اور بات کہ عمران کو پہلی مرتبہ اس سازش کا پتہ چلا۔ لیاقت علی خان کی شہادت اور خواجہ ناظم الدین کی معزولی سے لیکر نواز شریف اور عمران خان تک امریکہ کا پاکستان میں طریقہ واردات تبدیل نہیں ہوا۔ جب کبھی حکومت مخالف جماعت سڑکوں پر نکلے، اور جلسے جلوس، لانگ مارچ، دھرنے کرے، امریکی حمایت ہمہ وقت طشتری میں میسر ہوتی ہے کیونکہ سیاسی افرا تفری نے ہی تو امریکی مفادات کو تحفظ دینا ہوتا ہے۔

حفیظ اللہ نیازی کے بقول عالمی طاقتوں کی خطے میں بالا دستی اور نئے عالمی نظام میں ہمارے جغرافیہ کی کلیدی حیثیت ہے۔ مستحکم پاکستان چین کی ضرورت جبکہ سیاسی عدم استحکام امریکی مجبوری، یہ کھیل 71 سال سے جاری ہے، پاکستان ایک قدم آگے بڑھا نہیں پاتا کہ دو قدم پیچھے دھکیل دیا جاتا ہے، لہٰذا آج پاکستان ایک دلدل میں پھنس چکا ہے۔ عمران خان کو اقتدار سے علیحدہ کرنے کیلئے امریکہ کا کرداروں کو تھپکی دینا ممکن ہے لیکن عمران خان کے مطالبات ماورائے آئین ہیں۔ یہ تو ہو نہیں سکتا کہ ناظم الدین سے بھٹو تک اور نواز شریف سے عمران تک کے حکومت ہٹاؤ بیانیوں کو امریکہ شہ دے، مخالف جماعتوں کو بھڑکائے، اُکسائے اور پھر تبدیلی لائے، مگر عمران کے ماورائے آئین مطالبات اور پارلیمان اور آئین کی بے توقیری امریکہ کو وارا نہ کھائے۔ زیادہ دیر کی بات نہیں، چند سال پہلے 2014ء اور پھر 2016 میں نواز شریف کو اقتدار سے علیحدہ کرنے کیلئے مہم جوئی ہوئی۔ پہلے ریاست کی آڑ میں سیاست کاتیا پانچا ہوا، پھر پانامہ کی آڑمیں JIT کی دس کتابیں CIA کی مدد سے ابوظہبی میں تیار ہوئیں۔ پھر اقامہ نکالا جسکا مقصد نواز شریف کو اقتدار اور سیاست سے باہر کرنا تھا، اور یہ مقصد پورا ہوا۔ جے آئی ٹی رپورٹ نسخہ کیمیا رہی۔ اس سارے عرصے میں عمران مغربی سیاستدانوں اور مغربی میڈیا کی ڈارلنگ رہے جبکہ مقامی میڈیا اور قومی ادارے عمران کے قدموں میں بیٹھے رہے۔

حفیظ اللہ نیازی کہتے ہیں کہ مجھے عمران کے ساڑھے تین سالہ دور حکومت میں کوئی ایسا واقعہ نظر نہیں آتا جو امریکہ پر بم بن کر گرا ہو ماسوائے امریکی اڈوں پر خیالی سوال اور پھر خیالی جواب کے۔ اگرعمران خان حکومت کے خلاف سازش ہوئی تو یہ ستر سالہ امریکی پالیسی کا تسلسل تھی۔ ماضی پھر وہیں، خواجہ ناظم الدین کا گناہ اتنا تھا کہ سیٹو اور سینٹو معاہدوں پر دستخط کرنے سے انکاری تھا۔ہھر جب اقتدار سے نکالا گیا تو معاہدہ ہوگیا۔ سہروردی، چندریگر، اور فیروز نون کو پشاور میں امریکہ کو روس کے خلاف اڈا دینے پر اعتراض تھا، جنرل ایوب نے آئین توڑا جسکے بعد امریکہ کو اڈا مل گیا۔ چونکہ ذوالفقار بھٹو نے ایٹمی پروگرام شروع کیا لہذا ان کا جوڈیشل ریمانڈر کروایا گیا۔ بے نظیر نے میزائیل پروگرام شروع کیا تھا لہذا انہیں راولپنڈی میں شہید کرنے کا فیصلہ ہوا۔ نواز شریف نے کمال جرات سے 6 ایٹمی دھماکے کیے، چنانچہ انکے اقتدار کا بھی دھڑن تختہ کر دیا گیا۔ مشرف کی امریکہ کیلئے بے شمار خدمات تھیں مگر اسکی ایک غلطی ناقابلِ معافی رہی، وہ یہ کہ اسکے دور میں بھی پاکستان کی ایٹمی صلاحیت میں اضافہ ہوتا رہا۔ ایسے میں امریکہ کا مشرف کو ذلیل و رسوا کرنا بنتا تھا۔ ہماری یادداشت کمزور ہے وگرنہ آصف زرداری نے بھی ایران سے گیس پائپ لائن معاہدہ کیا اور گوادر پورٹ سنگار پور سے واپس لے کر چین کے حوالے کیا تھا۔ اور یہ دونوں معاہدے امریکیوں کیلئے کسی سانحے سے کم نہ تھے۔ چنانچہ ان تمام جرائم کے ارتکاب کے بعد زرداری نے زیر عتاب رہنا تھا۔ نوازشریف کا سی پیک ڈنکے کی چوٹ پر شروع کرنا امریکی لغت میں گناہ کبیرہ قرار پایا۔ اس کے علاوہ چین ،روس، ترکی اور ایران کے ساتھ گٹھ جوڑ پھر چین ،ترکی، اور ایرانی صدور کا پاکستانی پارلیمان سے خطاب نواز شریف کو ہمیشہ ہمیشہ کیلئے سیاست سے دور کر دینے کے لیے کافی تھا۔

حفیظ اللہ نیازی کے بقول تلخ حقیقت یہ بھی کہ ہمارے ادارے ہر موقع پر امریکہ کے ممدو معاون رہے۔ نواز شریف کی رخصتی کے بعد سی پیک کا کھڈے لائین لگنا رسمی کارروائی تھی۔ یاد رہے کہ نواز شریف دور میں روس پاکستانی افواج کی مشترکہ جنگی مشقیں اور گیس پائپ لائن منصوبہ بھی امریکی نظروں سے اوجھل نہ تھا۔ اقتدار ملتے کے فوری بعد عمران خان کے وزرا کے بیانات اب سمجھ میں آتے ہیں۔ رزاق داؤد نے سی پیک کو دو سال کیلئے موخر کرنے کا اعلان کیا تھا، اسد عمر نے سی پیک معاہدے کا بلیو پرنٹ آئی ایم ایف کو دے دیا۔ بقول نیازی، ماضی کی اکھاڑ پچھاڑ تو سمجھ آتی ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ عمران خان نے امریکہ کا بگاڑا کیا ہے؟ کیا افغانستان کو تسلیم نہ کرنا وجہ نزاع؟ یا سٹیٹ بینک کو آئی ایم ایف کے پاس گروی رکھنا ناپسندیدہ عمل ٹھہرا؟ یا گورنر اسٹیٹ بینک امریکی مرضی کے خلاف لگانا ناگوار گزرا یا سی پیک بند رکھنے میں کوتاہی دکھائی گئی یا FATF کی شرائط نافذ کرنے میں سستی رہی؟

حفیظ اللہ نیازی کہتے ہیں کہ درحقیقت عمران حکومت کا جانا آئین کے عین مطابق تھا، اور انہی اتحادیوں کے بل بوتے پر ہوا جن کے ذریعے وہ خود حکومت میں آئے تھے۔مخمصہ یہ بھی ہے کہ عمران سازشی بیانیے پر دو قدم آگے آتے ہیں تو کئی قدم پیچھے ہٹ جاتے ہیں؟ موجودہ حکومت کے خلاف مہم جوئی اور سیاسی انتشار پر تو امریکہ نے صدقے واری جانا ہے، موجودہ حکومت مخالف تحریک تو امریکی اسکیم کے عین مطابق ہے، اور عمران خان فقط ایک امریکی مُہرہ یے۔

Related Articles

Back to top button