کابینہ کے پرفارمنس آڈٹ پر کپتان کے کھلاڑیوں کی بغاوت

وزیراعظم عمران خان کے کئی وزراء نے کپتان کی جانب سے وزارتوں کی کارکردگی کی بنیاد پر پوزیشن دینے اور اسناد تقسیم کرنے کے میرٹ پر کھلے عام تنقید شروع کر دی ہے۔ علی محمد خان اور فواد چوہدری کے بعد وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھی علم بغاوت بلند کرتے ہوئے ایک خط کے ذریعے اس عمل کو ہدف تنقید بنایا ہے۔
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے حکومت کی جانب سے وفاقی وزارتوں کی کارکردگی جانچنے کے طریقہ کار پر سوالات اٹھاتے ہوئے اپنی وزارت کے 11ویں نمبر پر آنے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

یاد رہے کہ چند روز قبل وزیر اعظم عمران خان نے بہترین کارکردگی پر وفاقی وزراء میں آسکر ٹائپ ایوارڈز اور تعریفی اسناد تقسیم کی تھیں۔ وزیراعظم ہاؤس میں ہونے والی تقریب میں بہترین کارکردگی پر وزرا، مشیران اور معاونین خصوصی کو تعریفی اسناد دی گئیں جن میں مراد سعید کی وزارت مواصلات کا پہلا نمبر رہا جس پر لوگوں کافی حیران ہیں اور ہر طرح کی چہہ مگوئیاں کی جا رہی ہیں۔

ایوارڈ حاصل کرنے والے دیگر وزرا، مشیران اور معاونین خصوصی میں اسد عمر، ڈاکٹر ثانیہ نشتر، شفقت محمود، ڈاکٹر شیرین مزاری، مخدوم خسرو بختیار، ڈاکٹر معید یوسف، عبدالرزاق داود، شیخ رشید اور سید فخر امام شامل ہیں۔ تاہم وزارت خارجہ کی کارکردگی بارے وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے اسٹیبلشمنٹ شہزاد ارباب کو لکھے گئے ایک خط میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ ان کی وزارت کی رینکنگ اہداف کے حصول سے مطابقت نہیں رکھتی۔

قریشی نے وزارتوں کی رینکنگ کے طریقہ کار پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ ان کی وزارت کی کارکردگی ’بہترین‘ تھی، لیکن پہلے دس نمبروں میں جگہ بنانے میں ناکام رہی۔ بقول قریشی، پرفارمنس ایگریمنٹ کی پہلی سہ ماہی میں وزارت خارجہ نے 26 میں سے 22 اہداف حاصل کیے، جو اوسط تکمیل کی شرح کے لحاظ سے 77 فیصد ہے، جبکہ مطلوبہ شرح 62 فیصد تھی۔ انہوں نے لکھا کہ باقی اہداف میں سے ایک پر 75 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے، جبکہ تین اہداف کی تکمیل میں تاخیر کی وجوہات کی اطلاع گذشتہ سال اکتوبر میں دے دی گئی تھی۔

خط میں کہا گیا ہے کہ دوسری سہ ماہی کے دوران وزارت خارجہ 24 میں سے 18 اہداف پورے کرنے میں کامیاب رہی، جبکہ باقی ماندہ میں سے چار دوسری وزارتوں کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہیں، اور دیگر تین کا حصول ممکن نہیں جس کی وجوہات گذشتہ مہینے بتا دی گئی تھیں۔

وزیر خارجہ نے احتجاجی خط میں مزید کہا ہے کہ وزارت خارجہ نے کسی معاملے کا زیر التوا نہ رہنا یقینی بنایا، جبکہ اسی دوران انہوں نے اعلیٰ سطح کی سرگرمیاں بھی کیں، اور وزارت کے کاموں پر کسی تشویش کا کوئی اظہار نہیں کیا گیا۔ وزیراعظم خارجہ نے دعویٰ کیا کہ ان کی وزارت نے بعض ایسے کام بھی کیے جن کا کارکردگی میں ذکر ہی نہیں تھا۔

شریفوں کی کرپشن، سٹیل، چینی اور لندن اپارٹمنٹ

انہوں نے افغانستان میں طالبان کی حکومت کی تشکیل کے بعد پاکستان کی سفارتی کوششوں، افغانستان میں پھنسے لوگوں کا انخلا، اسلام آباد میں او آئی سی کے وزرا خارجہ کے غیر معمولی اجلاس کا ذکر کیا۔ شاہ محمود قریشی نے وفاقی وزارتوں کی کارکردگی کے جائزے کے طریقہ کار پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ 30 فیصد کارکردگی جائزہ سے متعلق کوئی تحریری رہنما اصول نہیں دیے گئے تھے، جبکہ پییرز ریویو کمیٹی کے ٹی او آرز اور اس کے اراکین کو چننے کا طریقہ کار بھی مبہم ہے۔

یاد رہے کہ چھ ماہ قبل کی کابینہ کے تمام وزیروں نے عمران خان کے ساتھ ایک ’پرفارمنس ایگریمنٹ‘ پر دستخط کیے، جسکے مطابق تمام وزیر اس بات پر راضی ہو گے کہ ان کی وزارتوں کی کارکردگی کو اہداف کی بنیاد پر جانچا جائے اور اس اعتبار سے ان کی درجہ بندی بھی کی جائے۔

جب تمام وزرا نے دستخط کر دیے تو وزیر اعظم نے اپنے معاون خصوصی شہزاد ارباب کو تمام وزارتوں کی کارکردگی پر کڑی نظر رکھنے کی ذمہ داری سونپی تھی جس کے بعد 10 فروری کو دس وزارتوں کی کارکردگی کو بہترین قرار دیتے ہوئے ایک تقریب کا بھی اہتمام کیا گیا، جس میں وزیر اعظم نے بہترین کارکردگی دکھانے والے وزرا میں ایوارڈز اور تعریفی اسناد تقسیم کیں اور کہا کہ اس عمل سے مقابکے کا رجحان بڑھے گا اور وزرا کی کارکردگی بہتر ہو گی۔

خیال رہے کہ شہزاد ارباب سابق بیوروکریٹ ہیں اور انھیں گورننس کے شعبے میں 40 برس سے زیادہ کا تجربہ ہے۔ اگر ان کی تیار کردہ وزارتوں کی کارکردگی رپورٹ پر نظر دوڑائی جائے تو ایسی تصویر سامنے آتی ہے جیسے اس وقت ملک میں بہترین گورننس کا ماڈل قائم ہو چکا ہے اور ایک سال کے دوران تمام ہی وزارتوں کی کارکردگی مثالی رہی ہے۔

واضح رہے کہ شہزاد ارباب کی سربراہی میں قائم کمیٹی نے جو رپورٹ وزیراعظم کو پیش کی، اس میں کسی بھی وزارت کی کارکردگی کو غیر تسلی بخش قرار نہیں دیا گیا۔ جب وزیراعظم عمران خان سے شہزاد ارباب کو تمام اختیارات حاصل ہو گئے تو انھوں نے چار مختلف وزارتوں سے گریڈ 21 کے مزید پانچ افسران چنے۔

یوں وزیر اعظم کے معاون خصوصی کی سربراہی میں ایک چھ رکنی کمیٹی نے روزانہ کی بنیاد پر تمام وزارتوں کو دیے گئے اہداف کی جانچ پڑتال شروع کر دی۔ اس کمیٹی نے گذشتہ دو برس کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے روزانہ پانچ سے چھ وزارتوں کی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے تقریباً دو ہفتوں میں تمام وزارتوں کا آڈٹ مکمل کر کے اپنی رپورٹ وزیراعظم کو پیش کر دی۔ حکام کے مطابق اس مقصد کے لیے ایک نجی بین الاقوامی کمپنی ’پرائز واٹر ہاؤس کوپر‘ کی بھی خدمات حاصل کی گئی ہیں، جو مکمل ہونے والے منصوبوں کے معیار کا بھی جائزہ لیتی ہے۔

ان اہداف کا ہر چار ماہ بعد کا جائزہ بھی لیا گیا یعنی ہر سال تین بار کارکردگی کو جانچا گیا۔ دستاویزات کے مطابق غیر ملکی فرم نے تین وزارتوں کی طرف سے دیے گئے اعداوشمار کو پرکھنا شروع کر دیا ہے۔ اس فرم کے ذمے تمام منصوبوں کا مکمل جائزہ لینا ہو گا کہ جس طرح وزارتوں نے معلومات فراہم کی ہیں کیا اسی انداز میں یہ منصوبے پایہ تکمیل کو پہنچے ہیں۔

واضح رہے کہ شہزاد ارباب کمیٹی کی درجہ بندی میں تمام وزارتوں نے 80 فیصد سے زائد نمبر حاصل کیے ہیں۔ وزارت مواصلات سمیت پانچ ایسی وزارتیں ہیں جن کی کارکردگی 90 فیصد سے بھی زائد رہی۔ یوں اس وقت کسی بھی وزیر کو یہ خطرہ نہیں کہ اس کی وزارت کی کارکردگی تسلی بخش نہیں رہی۔

تاہم شہزاد ارباب تب مکمل طور پر بے نقاب ہوگئے جب دنیا ٹی وی کے پروگرام میں معروف اینکر پرسن کامران خان نے ان سے سوال کیا کہ وفاقی وزراء کی کارکردگی کا ایسا کون سا پیمانہ تھا کہ مراد سعید ٹاپ کر گئے۔ جواب میں شہزاد ارباب نے کہا کہ انہیں یاد نہیں کہ مراد سعید کی کس کارکردگی کی بنا پر انہوں نے ٹاپ کیا ہے تاہم ان کی کوانٹیٹیٹو اور کوالیٹیٹو چیزوں میں کارکردگی بہتر تھی۔

انہوں نے کہا کہ 51 وزارتوں میں سے ہر وزارت کی تفصیل یاد رکھنا ممکن نہیں۔ اس پر کامران خان نے کہا کہ وہ 51 وزراتوں کے بارے میں نہیں پوچھ رہے تاہم ٹاپ کرنے والے کا تو پتہ ہونا چاہیئے کہ اس نے کس کارکردگی کی بنا پر پہلی پوزیشن حاصل کی۔

اس کے جواب میں شہزاد ارباب نے کہا کہ انہیں یاد نہیں کہ ان کی کارکردگی رپورٹ کیسی تھی۔ اس جواب پر کامران خان نے ذومعنی ری ایکشن دیا جو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا۔ کامران خان کے چہرے کے تاثرات سے متعلق سوالات بھی پوچھے جارہے کہ آخر کامران خان نے ایسا ری ایکشن کیوں دیا۔ کامران خان نے بھی اس ریکشن پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ ‘مجھ سے لوگ اس مسکراہٹ پر اپنی مسکراہٹیں شئیر کررہے ہیں جس کو میں قہقہہ بننے سے روک رہا تھا۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی کا جواب واقعی قہقہوں کے قابل تھا۔

Related Articles

Back to top button