کیا قدوس بزنجو کا انجام بھی جام کمال جیسا ہونے والا ہے؟

 بلوچستان حکومت ایک مرتبہ پھر مشکلات کا شکار نظر آرہی ہے۔بات زیادہ پرانی نہیں صرف تین ماہ قبل موجودہ وزیراعلٰی عبدالقدوس بزنجو نے اپنی ہی پارٹی کے  وزیراعلیٰ جام کمال خان کو ہم خیال ساتھیوں اور اپوزیشن اراکین کی مدد سے حکومت سے نکال دیا تھااورخود وزیراعلیٰ بلوچستان کی کرسی پر براجمان ہوگئے تھے تاہم اب ان کی حکومت بھی گرداب میں پھنس چکی ہے۔

بزنجو کو وزیراعلیٰ بنوانے والے حکومتی اراکین اب قدوس بزنجو کی جانب سے اپوزیشن اراکین کو ترقیاتی فنڈز دینے پر کھل کر انکے خلاف میدان میں آگئے ہیں جس کے بعد خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ بلوچستان حکومت ایک نئے بحران کا شکار ہوجائے گی اور شاید بزنجو کا انجام بھی جام کمال جیسا ہو۔

اردو نیوز کی رپورٹ کے مطابق تین ماہ قبل جام کمال کی حکومت کے خلاف بغاوت کر کے حزب اختلاف کے تعاون سے وجود میں آنے والی عبدالقدوس بزنجو کی کابینہ میں اختلافات حزب اختلاف کے حلقوں کو 30 ارب روپے کے ترقیاتی فنڈز دینے پر پیدا ہوئے ہیں۔

بلوچستان عوامی پارٹی کے پارلیمانی لیڈر اور صوبائی وزیر ترقی و منصوبہ بندی ظہور احمد بلیدی سمیت کابینہ کے کئی اراکین نے حزب اختلاف کے حلقوں کو ترقیاتی فنڈز دینے کی سخت مخالفت کی ہے۔

ظہور بلیدی اور اتحادی جماعت عوامی نیشنل پارٹی کے انجینیئر زمرک خان اچکزئی نے احتجاجاً کابینہ کے اجلاس سے واک آؤٹ بھی کیا ہے۔ بلیدی کا کہنا ہے کہ فنڈز کی بندربانٹ اور ریوڑیوں کی طرح تقسیم قبول نہیں ہے، اگر وزیراعلٰی نے اس معاملے پر ہماری بات نہیں سنی تو بلوچستان عوامی پارٹی کے پارلیمانی ارکان کا اجلاس بلا کر معاملہ اٹھائیں گے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ساڑھے تین سالوں سے اپوزیشن اراکین پر ترقیاتی فنڈزکے دروازے بند تھے جو اب کھول دیے گئے ہیں جس پر حکمران جماعت کے وزراء پریشان ہیں کیونکہ اس فیصلے سے ان کے فنڈز میں سے کٹوتی ہوگی۔

یاد رہے کہ یہ پہلی بار نہیں کہ ترقیاتی فنڈز کی تقسیم کے معاملے پر حکومت کے اندر یا حکومتی ارکان اور حزب اختلاف کے درمیان اختلافات پیدا ہوئے ہیں۔ جون 2021ء میں جام کمال کی حکومت کے دور میں بجٹ اجلاس کے موقع پر حزب اختلاف کے اراکین نے بلوچستان اسمبلی کا گھیراؤ کیا تھا۔

اس ہنگامہ آرائی کے دوران کئی ارکان اسمبلی زخمی ہوگئے تھے اور اسمبلی کا مرکزی دراوزہ بھی ٹوٹ گیا تھا۔ اس کے بعد حزب اختلاف کے اراکین نے جام کمال حکومت کے خلاف احتجاجی مہم چلائی۔ جب حکومتی ارکان نے جام کمال کو ہٹانے کی کوششیں شروع کیں تو حزب اختلاف نے بھی اس کا بھر پور ساتھ دیا اور یوں قدوس بزنجو اقتدار میں آ گئے۔

جب بلوچستان جل رہا تھا تو صدر علوی ورڈل گیم کھیل رہے تھے

خیال رہے کہ یکم فروری 2022 کو ہونے والے بلوچستان کابینہ کے اجلاس میں 36 نکاتی ایجنڈے کی منظوری دی گئی جس میں سالانہ ترقیاتی پروگرام یا پی ایس ڈی پی میں 30 ارب 88 کروڑ روپے مالیت کے ایک ہزار سے زائد نئے منصوبوں کی منظوری بھی شامل ہے۔ اجلاس میں بلوچستان عوامی پارٹی کے صوبائی پارلیمانی لیڈر اور سینیئر صوبائی وزیر ظہور احمد بلیدی نے ان منصوبوں پر شدید اعتراض اٹھایا تھا۔

ان کا مؤقف تھا کہ مالی سال کے آخر میں نئے منصوبوں کے شامل کیے جانے سے حکومت کے پہلے سے منظور کیے گئے منصوبے بڑی طرح متاثر ہوں گے اور ترقیاتی بجٹ اوپر نیچے ہوجائے گا جس کا سب سے زیادہ نقصان حکومتی حلقوں کو پہنچے گا۔

اتحادی جماعتوں تحریک انصاف، عوامی نیشنل پارٹی، ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی اور جمہوری وطن پارٹی سے تعلق رکھنے والے بعض وزرا اور مشیروں نے بھی اس فیصلے پر اعتراض اٹھایا اور ظہور احمد بلیدی کی حمایت کی۔ ظہور احمد بلیدی اور اے این پی کے انجینیئر زمرک چکزئی اس معاملے پر احتجاج کرتے ہوئے اجلاس سے باہر چلے گئے۔

اے این پی کے صوبائی صدر اصغر خان اچکزئی اور سینیئر صوبائی وزیر ترقی و منصوبہ بندی ظہور احمد بلیدی نے ٹوئٹر پر اپنے بیان میں کہا کہ کئی وزرا نے پی ایس ڈی پی میں نئے ترقیاتی منصوبوں کی شمولیت پر کابینہ اجلاس میں اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا۔

ظہور بلیدی کا کہنا تھا کہ ترقیاتی منصوبے ضرورت کی بنیاد پر ہونے چاہییں نہ کہ فنڈز کی بندر بانٹ کی جائے۔ اس اقدام سے بجٹ میں پہلے سے شامل ترقیاتی منصوبے متاثر ہوں گے اور ان پر کام رک جائے گا کیونکہ صوبے کے پاس اتنے فنڈز نہیں ہیں کہ اپوزیشن اراکین کو بھی دیے جا سکے۔ انکا موقف یے کہ بلوچستان کا بجٹ خسارے میں ہے اور نئے منصوبوں کی شمولیت سے یہ خسارہ 200 ارب روپے تک پہنچ جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ وہ بلوچستان عوامی پارٹی کے صوبائی اراکین اسمبلی کا اجلاس بلا کر اس معاملے کو اٹھائیں گے۔ دوسری جانب بلوچستان عوامی پارٹی کے ترجمان صوبائی وزیرمواصلات سردار عبدالرحمان کھیتران نے کہا ہے کہ کابینہ میں تمام فیصلے متفقہ اور اکثریتی رائے کے ساتھ کیے جاتے ہیں اور کوئی فرد واحد اپنی رائے کو زبردستی مسلط نہیں کر سکتا۔

Related Articles

Back to top button