عمران کے بنائے کیسزکوجھوٹا ثابت کرنا ہمارا حق ہے

وفاقی وزیرداخلہ راناثنااللہ نے کہا ہے جو ووٹ لیکر عمران خان وزیراعظم بنے وہی ووٹ شہباز شریف نے حاصل کیے اور اس باعزت قوم کے وزیراعظم بنے۔

پنجاب یونیورسٹی ہاسٹل سے بلوچ نوجوان کس نے اغوا کیا؟

قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کے بعد وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کے ہمراہ نیوز کانفرنس کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہاعمران خان کے بنائے کیسوں کوجھوٹا ثابت کرناہمارا حق ہے اور ہم جانناچاہتے ہیں کے وزیراعظم شہباز شریف پرجو 70 کیسز ہیں،وہ کدھر ہیں۔

انکا کہنا تھا کہ عمران خان نے 7 ارب حاصل کرکے قوم کا43 ارب کانقصان کیا اس بات کا جواب آپ کو عوام کو دینا چاہئے ۔جہاں پر ہاتھ ڈالیں آپ کےٖفرنٹ مینوں کانام نکلتا ہے240 کنال ارضی فرح گوگی کے نام پر بنی گالہ میں لی اس کا حساب کون دے گا آپ اداروں کا غلط استعمال کرتے رہے،آپ ایسے لوگوں کو آگے لانا چاہتے تھے جوانتقام کاایجنڈا آگے بڑھاتے ۔

رانا ثنااللہ نے بتایاکے اجلاس میں کالعدم تحریک طالبان (ٹی ٹی پی) سے مذاکرات پر کمیٹی کو بریفنگ دی گئی اور شرکا کو بھی اوعتماد میں لیا گیا ، اجلاس میں اعلیٰ عسکری قیادت بھی موجود تھی، انہوں نے مزید کہا کہ پچھلے 2 ، 3 دن سے عمران خان نیب ترامیم پر بات کر رہے ہیں، ساڑھے تین سال میں کسی کیس میں کچھ ثابت نہیں ہوا عمران خان نے اپنے پاس سے 70کیسز بنالیے۔

رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا اگر نیب میں ترامیم کا فائدہ ہونا ہے تو وہ عوام کو ہونا ہے، اگر نیب قوانین سے کوئی نہیں پکڑا جائے گا تو آپ کو خوش ہونا چاہیے، برطانیہ سے آنے والی رقم کے بارے میں عمران خان نے کوئی جواب نہیں دیا، نجی ہاؤسنگ سوسائٹی سے 458 کنال اراضی حاصل کی گئی، کس کھاتے میں القادر یونیورسٹی کو زمین دی گئی؟50 ارب کا فائدہ نجی ہاؤسنگ سوسائٹی کو دیا گیا،عمران خان اداروں کو مس یوز کرتے رہے، جو چیزساڑھے تین سال ثابت نہیں کر سکے اب کیا کریں گے، ریٹائرڈ ججوں کو احتساب عدالت میں لگانے کا مقصد انتقام کے ایجنڈے کو آگے بڑھانا تھا، کیسز کو جھوٹا ثابت کرنا ہمارا آئینی حق ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ راجہ ریاض، نور عالم پچھلے دو سال سے عمران خان پر تنقید کر رہے تھے، نیب ترامیم پر بیانیہ بنانے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں، نیب ایکٹ کا پہلے جائزہ لے لیں، ، نیب بتائے کونسے سیاست دانوں سے کتنے پیسے وصول کیے نیب نے جو پیسے ریکور کیے ہاؤسنگ سوسائٹیوں سے لیے۔80 فیصد ترامیم تحریک انصاف کی حکومت خود آرڈیننس میں لیکر آئی تھی، نیب 90 دن کا ریمانڈ لیتا تھا۔

وزیر داخلہ نے کہا قومی احتساب بیورو میں ریمانڈ کے باوجود چالان پیش نہیں کیا جاتا تھا، ہم توبھگت چکے نظریاتی کونسل اور عدالت کی بھی تجاویز تھیں، نیب قوانین پر کاروباری طبقے، بیوروکریٹس کو اعتراضات تھے، ضمانت کا اختیارعدالت کو دیا گیا ہے، نیب ایک آزاد ادارہ ہے، آنے والے ایک دو روز میں چیئرمین نیب کا فیصلہ ہوجائے گا، نیا چیئرمین نیب، ادارے کے اندر خرابیوں کو بھی دور کرے گا۔نیب کے قوانین کو ہم نے تبدیل نہیں کیا اور نہ ہی کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

Related Articles

Back to top button