جہانگیر ترین نے نواز شریف سے 64 نشستیں کس کھاتے میں مانگیں؟

سابق وفاقی وزیر جہانگیر ترین کی جماعت استحکام پاکستان پارٹی نے مسلم لیگ ن کے ساتھ پنجاب اور سندھ کی 64 قومی اور صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر سیٹ ایڈجسٹمنٹ کی فہرست تیار کرلی ہے، ان میں پنجاب سے قومی اسمبلی کے 19 اور سندھ کا ایک حلقہ جبکہ پنجاب اسمبلی کے 44 حلقوں میں ن لیگ سے سیٹ ایڈجسٹمنٹ کی خواہش ظاہر کی گئی ھے ذرائع کا کہنا ہے کہ استحکام پاکستان پارٹی نے مسلم لیگ ن کے ساتھ عام انتخابات میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے حوالے سے حلقوں کے امیدواروں کے ناموں کی فہرست بھی مرتب کرلی ہے آئی پی پی قیادت اور پارٹی رہنماوں کی مشاورت سے مرتب کردہ یہ فہرست ن لیگ کو دے دی گئی ھے۔ سیاسی حلقوں کا کہنا ھے کہ استحکام پاکستان کی جانب سے حصہ بقدر جثہ کے نام پر جتنی سیٹوں پر ایڈجسٹمنٹ مانگی گئی ھے وہ ان کی سیاسی اوقات سے بہت ہی زیادہ ھے اور مسلم لیگ نون کی جانب سے اس نئی جماعت کو اتنی زیادہ سیاسی اور انتخابی رعایت نہیں ملے گی اور ان کے بیشتر سیٹوں پر ایڈجسٹمنٹ کی خواہش رد کر دی جائے گی ۔ اگر مسلم لیگ ن کی جانب سے آئی پی پی کو اس کی سیاسی حیثیت سے زیادہ سیٹوں پر ایڈجسٹمنٹ ملی تو یہ اس بات کا ثبوت ھو گا کہ ایسا اسٹیبلشمنٹ کی خواھش پر ھوا ھے ۔ یہ پیش رفت اس امر کی بھی تصدیق کر دے گی مسلم لیگ ن ہر صورت میں آمدہ الیکشن جیتنا چاھتی ھے اس کے لئے وہ اسٹیبلشمنٹ کے گھوڑے بھی اپنے ساتھ دوڑانے کو تیار ھے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ ن قومی اسمبلی کے جن حلقوں سے سیٹ ایڈجسٹمنٹ سے معذرت کرے گی ان حلقوں میں آئی پی پی کی جانب سے صوبائی سیٹ پر ایڈجسٹمنٹ کا مطالبہ کیا جائے گا۔ ذرائع نے بتایا کہ استحکام پاکستان پارٹی کے گزشتہ روز اجلاس میں مسلم لیگ ن کے ساتھ سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے فیصلے کی توثیق کر دی گئی تھی کیونکہ آئی پی پی سیٹ ایڈجسٹمنٹ حصہ بمطابق جثہ چاہتی ھے ۔
دوسری جانب مسلم لیگ نون کی جانب سے مختلف سیاسی جماعتوں سے سیٹ ایڈجسٹمنٹ اور سیاسی اتحاد بنانے کی پالیسی پر تجزیہ کار سمجھتے ہیں کہ یہ ملاقاتیں کسی اشارے کے بغیر نہیں ہو رہیں، تاہم یہ ملاقاتیں کتنی سود مند ثابت ہو سکتی ہیں یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا۔
کالم نگار سلمان غنی سمجھتے ہیں کہ یہ وہ ساری ملاقاتیں یا اتحاد ہیں جن سے ایک خاص پیغام ملتا ہے کہ نواز شریف اقتدار میں آ رہے ہیں۔ بظاہر یہ نظر آ رہا ہے کہ یہ تمام سیاسی قوتیں نواز شریف کے ساتھ ہیں اور نواز شریف نے بھی پاکستان واپسی پر مینارِ پاکستان پر جلسے میں قومی مفاہمت کی بات کی تھی۔ آج پاکستان کو جن مسائل کا سامنا ہے، اُس میں قومی مفاہمت سے ہی آگے بڑھا جا سکتا ہے۔ سلمان غنی کا کہنا تھا کہ یہ بھی پہلی مرتبہ دیکھنے میں آ رہا ہے کہ انتخابی اتحاد کے لیے ایک بڑی سیاسی جماعت کو چھوٹی جماعتوں کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے۔
اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ اگر حقائق پر نظر ڈالی جائے تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ کوئی بھی سیاسی جماعت اکثریت میں آتی دکھائی نہیں دیتی۔
یوں محسوس ہو رہا ہے کہ اتحادی حکومت بنے گی اور اتحادی بھی وہ ہوں گے جو 16 ماہ کی حکومت کے اندر تھے۔ لیکن اِس میں پیپلز پارٹی بہت اہم ہے۔
سلمان غنی کے بقول اگر نواز شریف کی سیاست پر نظر ڈالی جائے تو وہ بظاہر پاکستان پیپلز پارٹی کی مخالفت کرتے نظر آتے ہیں۔ لیکن سندھ کی سطح پر ایسا کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کراچی اور سندھ کے دیگر علاقوں میں پاکستان مسلم لیگ (ن) منظم نہیں ہو سکی۔
تجزیہ کار اور کالم نویس احمد ولید سمجھتے ہیں کہ پاکستان واپسی پر نواز شریف کو جس قسم کا پروٹوکول مل رہا ہے، اس پر پیپلز پارٹی سمیت دیگر سیاسی جماعتوں کو بھی تحفظات ہیں اسی لئے نواز شریف کے لیے اب ‘لاڈلہ’ کی اصطلاح استعمال ہو رہی ہے جو پہلے عمران خان کے لیے استعمال ہوتی تھی۔ نواز شریف کی بلوچستان، سندھ اور پنجاب میں سیاسی جماعتوں کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں سے یہ تاثر اُبھرتا ہے کہ یہ اسٹیبلشمنٹ کی ایما پر ہی ہوئی ہیں۔ سیاسی جماعتوں کو اسٹیبلشمنٹ کا یہ پیغام ہے کہ وہ مسلم لیگ (ن) کے ساتھ مل کر چلیں جب کہ مسلم لیگ (ن) بھی ہر قیمت پر الیکشن جیتنا چاہتی ہے۔
تجزیہ کار اور کالم نویس مظہر عباس سمجھتے ہیں کہ ابھی سیاسی اتحاد نہیں بنے، ابھی تو صرف بات چیت ہو رہی ہے۔
جب تک کوئی تحریری معاہدہ نہیں ہوتا اس وقت تک کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی سیاسی صف بندی کر رہی ہیں، دونوں کی یہ کوشش ہے کہ وہ بڑا سیاسی اتحاد بنانے میں کامیاب ہو جائیں۔ابھی جو سیاسی جماعتیں ایک دوسرے سے ملاقاتیں کر رہی ہیں اُن میں ایک دوسرے پر اعتماد کی بہت کمی ہے۔ مسلم لیگ (ق)، مسلم لیگ (ن) سے ہی نکل کر آئی ہے۔
چوہدری برادران اور شریف فیملی کے تعلقات اچھے نہیں رہے ہیں جس کا تذکرہ چوہدری شجاعت حسین اپنی کتاب میں بھی کر چکے ہیں۔ مگر اب مسلم لیگ (ق) بھی ایک جماعت نہیں رہی۔ اُن کا ایک حصہ پی ٹی آئی کے ساتھ ہے اور ایک مسلم لیگ (ن) کے قریب ہے۔ پاکستان میں یہ دیکھا گیا ہے کہ انتخابی الائنس کی صورت میں ایک جماعت کا ووٹر دوسری جماعت کے اُمیدوار کو ووٹ نہیں دیتا، وہ صرف اپنی ہی جماعت کے امیدوار کو ووٹ دینا پسند کرتا ہے۔ لیکن اگر اُمیدوار کسی اور جماعت کا ہو تو اس میں جوش

ایکنک نے 372 ارب روپے کے 9 ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دیدی

و خروش باقی نہیں رہتا

Related Articles

Back to top button