جسٹس عیسیٰ کا جوڈیشل کمیشن کے فیصلے میڈیا میں جاری کرنے کا مطالبہ

سپریم کورٹ کےسینئر ترین جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمرعطا بندیال سے مطالبہ کیا ہے کہ جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں ہونیوالے فیصلے کو فوری طور پرمیڈیا میں جاری کیا جائے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کو ایک خط لکھا ہے، جس انہوں نے کہا ہے کہ جوڈیشل کمیشن میں ججز کی تقرری کے حوالے سے ہونے والے فیصلے کو فوری طور پر میڈیا میں جاری کیا جائے۔

خط میں کہا گیا ہے کہ ججزتقرری کیلئے چیف جسٹس کی طرف سے پیش کردہ ناموں پر تفصیلی غور ہوا، مجھ سمیت 5 ممبران نے سندھ کے 3 اور لاہور ہائیکورٹ کے ایک جونیئر جج کے نام مسترد کیے، جسٹس طارق مسعود، اعظم نذیر تارڑ، اشتر اوصاف اور پاکستان بار کونسل کے نمائندے اختر حسین نے بھی نام مسترد کیے۔

خط میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس پانچوں ہائیکورٹ کے چیف جسٹسز میں جونیئر ہیں، پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کا نام ان چیف جسٹسز کے بعد پیش کیا جائے۔

قومی اسمبلی کی 40 سیٹوں پر ضمنی الیکشن کرانے کا فیصلہ

جسٹس فائز عیسیٰ نے لکھا کہ اجلاس میں طے ہوا کہ آئین کسی اسامی پر پیشگی تقرری کی اجازت نہیں دیتا، چیف جسٹس آف پاکستان بطور چیئرمین، کمیشن پر اپنے فیصلے مسلط نہیں کر سکتے، چیف جسٹس آف پاکستان اچانک جوڈیشل کمیشن کا اجلاس چھوڑ کر چلے گئے، جسٹس اعجاز الاحسن بھی اجلاس سے اٹھ کر چلے گئے۔

انہوں خط میں مزید لکھا کہ جوڈیشل کمیشن کے سیکرٹری چھٹیوں پر ہیں، قائم مقام سیکرٹری اجلاس کے فیصلوں کے بارے میں میٹنگ منٹس بنائیں، قوم کی نظریں جوڈیشل کمیشن کے اجلاس پر مرکوز ہیں، اجلاس میں کیا فیصلہ ہوا یہ جاننا عوام کا آئینی حق ہے، جوڈیشل کمیشن اجلاس کے بارے میں میڈیا میں غیر ضروری قیاس آرائیاں ہو رہی ہیں۔
جسٹس فائز عیسیٰ کے خط کے مطابق جوڈیشل کمیشن نے سندھ اور لاہور ہائیکورٹ کے 4 ججوں کے نام مسترد اور ایک نام پر کوئی فیصلہ نہیں کیا۔

Related Articles

Back to top button