لیک آڈیو میں ریاست کے تحفظ کی بات کی گئی ہے

تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری نے کہا ہے سابق وزیر خزانہ اور صوبائی وزرا ء خزانہ کی لیک ہونے والی آڈیو میں ریاست کے تحفظ کی بات کی گئی ہے۔

اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کس بنیادی پر شوکت ترین کی کال ریکارڈ کی گئی، فون ٹیپ ہمارے معاشرے میں روایت بن گئی ہے، فون کال میں ریاست کے تحفظات کا اظہا ر ہوا ہے، تیمور جھگڑا اور محسن لغاری نے جو پوائنٹس اٹھائے ان کا جواب دیں، جواب دینگے تو ہم آپ کے ساتھ ہیں ، نہیں دیں گے تو ہم ساتھ نہیں ہیں۔

انکا کہناتھا ہم نے ان سے کہا کہ ہمارے لئے سرپلس دینا ممکن نہیں، آئی ایم ایف میں ایسے نہیں جا سکتے، صوبوں کو ساتھ لے کر چلنا ہوگا،مفتاح اسماعیل پر ہم سے زیادہ ن لیگ والے تنقید کر رہے ہیں۔

دریں اثنا پی ٹی آئی رہنما و سابق وفاقی وزیر اسد عمر نےوزیر خزانہ خیبر پختونخوا تیمور سلیم جھگڑا کے ہمراہ اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نے کہا کہ موجودہ حکمراں جب اپوزیشن میں تھے تو انہوں نے فیٹف قوانین کی منظوری کی مخالفت کی، ہم نے پاکستان کو فیٹف کی بلیک لسٹ میں جانے سے بچانے کے لیے قوانین تیار کیے تو ان حکمرانوں نے کہا کہ اس وقت تک منظور نہیں ہونے دیں گے جب تک ہمارے نیب مقدمات ختم نہیں کیے جاتے۔

انکا کہنا تھا اسٹیٹ بینک ایکٹ، آئی ایم ایف پروگرام بحالی کی لازمی شرط تھی جس کی ان حکمرانوں نے مخالفت کی، انہوں نے کہا کہ یہ قانون اسٹیٹ بینک، آئی ایم ایف کو گروی رکھنے کے مترادف ہے، انہوں نے اس ایکٹ کے خلاف ووٹ دیا جبکہ آج 4 ماہ سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے اور انہوں نے اس ایکٹ کے خلاف ایک لفظ بھی نہیں بولا جس سے ثابت ہوتا ہے کہ اس وقت یہ صرف سیاست کر رہے تھے، تیمور سلیم جھگڑا نے وفاقی حکومت اور وزیر خزانہ کو خط لکھا ہے جس پر آج اتنا شور مچایا جارہا ہے، جب پی ڈی ایم کی حکومت نے آئی ایم ایف معاہدے کی منظوری کے لیے پی ٹی آئی سے مدد طلب کی تو ہم نے صرف 24 گھنٹے کے اندر ان کو مثبت جواب دیا۔

پی ٹی آئی رہنما نے کہا ہم نے پاکستان کی بہتری کے لیے تعاون کرتے ہوئے کہا کہ اس تعاون کے لیے ہمارے چند نکات ہیں جن پر آپ کو عمل درآمد کرنا ہوگا، 2 ماہ گزر گئے اور تیمور جھگڑا کو ملاقات کا وقت نہیں دیا گیا، جب یہ خط لکھا گیا تو پھر ملنے کا وقت دیا گیا، شوکت ترین کی ایک فون کال سامنے آگئی ہے، اس وقت ملک میں کوئی قانون نہیں ہے، کھلے عام فون ٹیپنگ ہو رہی ہے، قانون کی خلاف ورزی ہو رہی ہے، اس کے علاوہ ایک پرانا کام بھی انہوں نے شروع کیا ہوا ہے جس میں یہ ترمیم، رد و بدل بھی کرتے رہتے ہیں۔

اسد عمرنے کہا جو شوکت ترین کی آڈیو چل بھی رہی ہے اس میں انہوں نے کیا کہا ہے کہ ملک میں اس وقت سیلاب کی صورتحال ہے، آج رات عمران خان، وزیر خزانہ خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان کے ساتھ مل کر متاثرین کے لیے امداد جمع کریں گے تاکہ امدادی کارروائیوں میں مزید تیزی لائی جائے،یہ پس منظر اور تناظر تھا جس میں شوکت ترین نے وزیر خزانہ کے پی اور پنجاب کو کہا کہ وہ وفاقی حکومت کو کہیں کہ موجودہ سیلاب کی صورتحال کے پیش نظر آئی ایم ایف سے دوبارہ مذاکرات کرے، آئی ایم ایف سے مطالبہ کرے کہ سیلاب سے متعلق امدادی کارروائیوں میں تیزی کے لیے صوبائی سرپلس واپسی سے متعلق رعایت فراہم کی جائے، شوکت ترین سابق وزیر خزانہ رہ چکے ہیں، ان کو مشورہ دینے کا پورا حق پہنچتا ہے، اس میں کیا خرابی ہے، شوکت ترین کا محسن لغاری اور تیمور سلیم جھگڑا سے فون پر رابطہ کرنا اور مشورے دینے میں کوئی غلط بات نہیں ہے۔

کیا سالانہ صدارتی خطاب میں ‘گو علوی گو’ کے نعرے لگیں گے؟

سابق وفاقی وزیر نے کہا کیا کوئی ذی شعور شخص کہہ سکتا ہے کہ یہ اچھا مشورہ نہیں ہے، جب کورونا وائرس آیا تھا اس وقت کیا عمران خان نے خود آئی ایم ایف کے اعلیٰ حکام کو فون کرکے مالی رعایتیں نہیں لی تھیں، کیا کورونا کے دوران عالمی سطح پر قرضوں میں رعایت اور نرمی کا پروگرام نہیں لایا گیا، اسی طرح سے آج پاکستان پر ایک ناگہانی قدرتی آفت آئی ہے، وزیر اعظم شہباز شریف پوری دنیا سے مدد مانگ رہے ہیں، جب آپ بیرونی ممالک سے مدد مانگ رہے ہیں تو کیا آپ آئی ایم ایف سے یہ کہہ نہیں سکتے کہ ہمیں رعایت دیں تاکہ ہم متاثرین کی بحالی کا کام کرسکیں، اس مشورے کو ایسا بنادیا گیا جیسے پتا نہیں کیا کہہ دیا گیا ہے، طوفان کھڑا کردیا گیا، مخالفین اس طرح کا ردعمل اس لیے دے رہے ہیں کہ کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ 17 جولائی کے بعد وہ عمران خان کا سیاسی طور پر مقابلہ نہیں کرسکتے، جس سیاسی میدان میں مخالفین جاتے ہیں، انہیں شکست نظر آتی ہے، پنجاب اور کراچی میں مخالفین کو شکست ہوئی، آنے والے الیکشن میں بھی مخالفین کو شکست فاش ہوگی۔

اسد عمر نے کہابوکھلاہٹ کا شکار حکومت چاہتی ہے کہ کسی غیر سیاسی بنیاد پر عمران خان کو قابو کیا جائے، قوم عمران خان کے ساتھ کھڑی ہوچکی، مخالفین جتنا ان کو دبانے کی کوشش کریں گے، ان کی مقبولیت میں اتنا ہی اضافہ ہوگا،اصل چیز خط ہے، حقیقت صرف خط ہے، باقی سب کچھ رولا ہے، اس خط میں کیا کہیں لکھا گیا کہ ہم ڈیل سے پیچھے ہٹ رہے ہیں، ہو یہ رہا ہے کہ پہلے ایک ٹوئٹ آئی جس میں کہا گیا کہ انہوں نے آئی ایم ایف کو خط لکھ دیا، وہ جھوٹ ثابت ہوگیا، کہا گیا کہ خط میں لکھا گیا کہ ہم ڈیل سے نکل جائیں گے، وہ بھی جھوٹ ثابت ہوگیا،میں پوچھتا ہوں کہ تیمور جھگڑا کے لکھے گئے خط میں متنازع اور قابل اعتراض بات کیا ہے۔

انہوں نے کہا اپنی گفتگو کی تشریح تو خود شوکت ترین ہی کریں گے مگر انہوں نے ایسا نہیں کہا کہ یہ معاملہ ریاست کے خلاف ہے، اصل معاملہ تیمور جھگڑا کا خط ہے جس کی انہوں نے ذمے داری لی ہے، اگر ان کو لگتا کہ اس میں کوئی غلط بات ہے تو وہ اس کی ذمےداری نہیں لیتے، جو بات انہوں نے ملک و قوم کے مفاد میں بہتر سمجھی، وہ انہوں نے اس خط میں لکھی، اس میں کوئی نئی بات نہیں تھی جبکہ اب نئی بات یہ ہے کہ اب ملک میں سیلاب بھی آیا ہوا ہے۔

اس موقع پر گزشتہ دنوں وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسمٰعیل کو لکھے گئے خط کی وضاحت کرتے ہوئے وزیر خزانہ خیبر پختونخوا تیمور سلیم جھگڑا نے کہا کہ میں نے خط 26 اگست کو لکھا تھا جس کا پس منظر یہ تھا کہ فاٹا کے الحاق کے بعد وہاں کے لوگوں کی فلاح و بہبود کے لیے وعدے کیے گئے تھے، وعدہ کیا گیا تھا کہ این ایف سی ایوارڈ میں 3 فیصد فاٹا کی ترقی کے لیے دیا جائے گا،ماضی میں وزرائے خزانہ فاٹا کی ترقی کے لیے فنڈز جاری کرتے رہے ہیں، میں نے موجودہ وزیر اعظم سے پوری کابینہ کے سامنے یہ تمام باتیں رکھیں، وزیر خزانہ نے کہا کہ وہ یہ نکات اپنی بجٹ تقریر میں رکھیں گے لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا، جب آئی ایم ایف معاہدے کا وقت آیا تو ہم نے کہا کہ اگر آپ سرپلس چاہتے ہیں تو ہمارے ساتھ بیٹھیں، 5 جولائی کو ملاقات کا وقت دیا گیا، اس سے قبل ملاقات کے لیے 50 روز تک وقت نہیں دیا گیا، کہا گیا کہ سیکریٹری خزانہ حج پر گئے ہوئے ہیں، پھر کہا گیا کہ ان کی کمر میں درد ہے، پاکستان کے عوام، فاٹا کے لوگوں کے حقوق کی آواز اٹھانے پر ہماری حب الوطنی پر سوالات اٹھائے جارہے ہیں۔

تیمو سلیم جھگڑا نے کہا ہماری حکومت نے فاٹا پر پیسے لگائے، فاٹا پاکستان کا حصہ ہے، عمران خان نے وہاں کی بہتری کے لیے پیسے خرچ کیے، عمران خان نے قبائلی اضلاع کا بجٹ 4 ارب سے 120 ارب روپے تک بڑھایا، انہوں نے ہر سال بجٹ بڑھایا، ہماری حکومت فاٹا کے بجٹ پر سمجھوتہ نہیں کرتے، میں نے خط خود لکھا ہے، میں اس کی ذمے داری لیتا ہوں، اس میں لکھا ہے کہ قبائلی اضلاع کے بجٹ کا ایشو حل کرنا چاہیے، این ایف سی اجلاس بلانا چاہیے جس میں یہ فیصلے کیے جائیں، ہمارا خسارہ پہلے سے ہے اور جب سیلاب آگیا ہے تو ہم سرپلس کیسے چھوڑ سکتے ہیں، خط میں جان بوجھ کر یہ نہیں لکھا گیا کہ ہم آئی ایم ایف سے کیے گئے اپنے وعدے سے پیچھے ہٹ رہے ہیں، خط اس لیے لکھا کہ کیوں کہ وہ ملک و قوم کے مفاد میں تھا۔

دوسری جانب سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر ایک پیغام میں پی ٹی آئی رہنما شیریں مزاری نے کہا اچھا تو اب شوکت ترین، صوبائی وزیرِ خزانہ کے مابین آڈیو کال لیک کردی گئی، گفتگو میں تو کچھ غیر قانونی ہے، نہ ہی غلط، ہم نے تو ان شرائط کی کھل کر مخالفت کی ہے جن پر امپورٹڈ سرکار آئی ایم ایف سے قرض لے رہی ہے، اس میں جو حرکت غیر قانونی ہے وہ عدالتی حکم کے بغیر گفتگو کو خفیہ طور پر ریکارڈ کرنا ہے جو سراسر مجرمانہ فعل ہے۔

واضح رہے کہ پی ٹی آئی رہنما شوکت ترین کی پنجاب اور خیبرپختونخوا کے وزرائے خزانہ سے ٹیلی فونک بات چیت منظر عام پر آئی ہے جس میں انہیں پاکستان کے آئی ایم ایف کے ساتھ ہونے والے معاہدے کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے سنا جاسکتا ہے، گفتگو کے دوران سابق وزیر خزانہ شوکت ترین نے خیبر پختونخوا کے وزیر خزانہ تیمور جھگڑا سے سوال کیا کہ کیا انہوں نے خط لکھ لیا جس پر وہ کہتے ہیں کہ میں ابھی بناتا ہوں، شوکت ترین نے ان سے کہا کہ اس کے بیچ سب بڑا پہلا پوائنٹ بنا لینا جو سیلاب آئے ہیں جس نے پورے خیبر پختونخوا کا بیڑا غرق کردیا ہے تو ہمیں اس کی بحالی کے لیے بہت پیسے چاہئیں، میں نے محسن لغاری کو بھی کہہ دیا ہے اس نے بھی یہی کہا ہے کہ ہمیں بہت پیسے خرچ کرنے پڑیں گے۔

لیک گفتگو میں تیمور جھگڑا کہتے ہیں کہ یہ بلیک میلنگ کا طریقہ ہے، پیسے تو کسی نے ویسے بھی نہیں چھوڑنے، میں نے تو نہیں چھوڑنے، مجھے نہیں پتا کہ لغاری نے چھوڑنے ہیں یا نہیں، شوکت ترین نے کہا کہ آج یہ خط لکھ کر آئی ایم ایف کو کاپی بھیج دیں گے جس پر تیمور جھگڑا کہتے ہیں کہ میں پاکستان میں آئی ایم ایف کے دوسرے بڑے عہدیدار کو بھی جانتا ہوں، مجھے محسن نے بھی فون کیا تھا، میں نے ان سے بھی بات کی ہے۔

گفتگو کے دوران تیمو سلیم جھگڑا نےکہا کہ کل خان صاحب اور محمود خان دونوں نے مجھے کہا تھا کہ جیسا کل کے اجلاس میں بات ہوئی تھی کہ ہمیں مل کر پریس کانفرنس کرنی چاہیے لیکن نہیں پتا کہ وہ کب اور کیسے کرنی ہے، شوکت ترین جواب دیتے ہیں کہ وہ پریس کانفرنس نہیں ہونی، ہم پیر کو سیمینار کریں گے، ہم تینوں بیٹھ کر اس پر پریس کانفرنس بھی کر سکتے ہیں جس پر تیمور جھگڑا کہتے ہیں کہ پہلے خط لکھتے ہیں۔

شوکت ترین نے وزیر خزانہ پنجاب محسن لغاری سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ آئی ایم ایف کو 750 ارب کمٹمنٹ ہے اس پر آپ سب نے دستخط کیے ہیں، آپ نے یہ کہہ دینا ہے کہ جناب والا ہم نے جو کمٹنٹ دی تھی وہ سیلاب سے پہلے تھی، اب ہمیں سیلاب پر بہت پیسے خرچ کرنا پڑیں گے تو ہم ابھی سے آپ کو بتا رہے ہیں کہ ہم اس کمٹمنٹ کو پورا نہیں کر سکیں گے، یہی لکھنا ہے آپ نے اور کچھ نہیں کرنا، ہم صرف یہ چاہتے ہیں کہ ان پر دباؤ پڑے، یہ ہم پر دہشت گردی کے مقدمات بنا رہے ہیں اور یہ بالکل اسپاٹ فری جا رہے ہیں، یہ ہم نے نہیں ہونے دینا، تیمور بھی ابھی ایک گھنٹے میں بھیج رہا ہے مجھے، آپ بھی مجھے بھیج دیں، اس کے بعد ہم اسے وفاقی حکومت کو بھیج کر آئی ایم ایف کے نمائندوں کو بھی ریلیز کردیں گے، اس پر محسن لغاری سوال کرتے ہیں کہ اس سے ریاست کو تو نقصان نہیں ہوگا، اس کی وجہ سے کہیں پاکستان کو بطور ریاست مشکلات سے تو نہیں گزرنا ہوگا، جس طرح کا رویہ انہوں نے چیئرمین سے رکھا ہوا ہے، ریاست پہلے ہی کافی کچھ جھیل رہی ہے۔

گفتگو کے دوران شوکت ترین نے کہا یہ تو ہوگا کیونکہ آئی ایم ایف کہے گا کہ پیسے کہاں سے پورے کریں گے تو یہ منی بجٹ لے کر آجائیں گے، ہم صرف کھڑے نہیں رہ سکتے، وہ ہمارے ساتھ برا سلوک کرتے رہیں، ہم نے کل یہی فیصلہ کیا تھا، اس کو کس طریقے سے ڈیل کرنا ہے یہ ہم چیئرمین سے پوچھ لیں گے، آئی ایم ایف کو ریلیز کرنا ہے یا نہیں وہ ہم چیئرمین سے پوچھ لیں گے کہ کیا ہمیں اسے وفاقی حکومت کو بھیجنا ہے یا اسے آئی ایم ایف کو بھیجنا ہے، محسن لغاری مزید کہتے ہیں کہ سوشل میڈیا سے زیادہ طاقتور ٹول کوئی نہیں جس پر شوکت ترین کہتے ہیں کہ ہمیں ریلیز کرنے کی ضرورت نہیں ہے، وہ خود ہی سوشل میڈیا کردے گا، یہ نہ لگے کہ ہم ریاست کو نقصان پہنچا رے ہیں، آپ حقائق رکھیں کہ ہم دے ہی نہیں سکیں گے، آپ دے نہیں سکیں گے تو آپ کی جو کمٹمنٹ ہے وہ ہے، ہم بتا دیں گے ناں کہ ہم نہیں دے سکتے۔

Related Articles

Back to top button