ایک ہزار پی ٹی آئی کارکنوں کی احتیاطی گرفتاری کیلئے فہرستیں تیار

تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی جانب سے ایک اور لانگ مارچ کی کال کے پیش نظر لاہور پولیس نے پی ٹی آئی کے ایک ہزار سے زائد کارکنوں،عہدیداروں ، رہنمائوں اور مالی معاونین کی احتیاطی گرفتاری کیلئے فہرستیں تیار کر لی ہیں۔

ایک اخبار کی رپورٹ کےمطابق لاہور پولیس کی جانب سے نشان زد کیے گئے 329 افراد میں مبینہ بڑے مالی معاونین شامل ہیں اور مہم کے دوران پاکستان تحریک انصاف کے لیے ٹرانسپورٹ، کھانے، ساؤنڈ سسٹم و دیگر ’لاجسٹک سپورٹ‘ کا انتظام کرتے ہیں، اسی طرح دوسری فہرست 743 افراد پر مشتمل ہے جن میں قومی و صوبائی اسمبلی کے اراکین، پارٹی کے ٹکٹ ہولڈرز، لیڈر ایکٹیوسٹ اور کارکنان شامل ہیں۔

نوازشریف اسٹیبلشمنٹ کے قریب اور عمران دور کیسے ہوئے؟

رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا کہ سابق وزیر اعظم عمران خان نے اتوار کو اپنے کارکنان کو آئندہ لانگ مارچ کی تیاری کے لیے وفاقی دارالحکومت پہنچنے کے لیے کہا تھا جس کے بعد پولیس نے مشقیں شروع کردی ہیں۔
لاہور پولیس کے سینئرآفسرنے بتایا کہ رپورٹ کے مطابق پی ٹی آئی کے چیئرمین نے پارٹی کی قیادت کو کہا ہے کہ صوبائی دارالحکومت لاہور پارٹی کی وسیع تر حمایت کے لیے بہترین سمجھا جاتا ہے، پی ٹی آئی کے اسلام آباد مارچ کے لیے انہیں تیار کیا جائے، دوسرے مارچ کی کال کے بعد پولیس کے اعلیٰ حکام نے ڈویژنل سپرنٹڈنٹس (ڈی ایس پیز) اور اسٹیشن ہاؤس افسر (ایس ایچ اوز) سے ملاقاتیں کی ہیں، ملاقاتوں میں ان افسران کو مختلف ٹاسک سونپے گئے ہیں اور پی ٹی آئی کے ایک ہزار رہنماؤں اور کارکنان کی فہرست شیئر کی گئی ہے۔

انہوں نے کہا یہ فہرست ایس ایچ او، اسپیشل برانچ اور پولیس ڈپارٹمنٹ کے دیگر متعلقہ ونگز کی فراہم کردہ معلومات کے ذریعے تیار کی گئی، ہم نے 2 فہرستوں کو اے، بی اور سی کیٹیگریز میں تقسیم کیا ہے، پی ٹی آئی کے رہنماؤں اور کارکنوں کو جو ‘اے’ کیٹیگری میں آتے ہیں انہیں ‘ٹربل میکر’ اور ‘تشدد کرنے والوں’ کے طور پر نشان زد کیا گیا ہے۔
پولیس آفسر کا کہنا تھا ان کی گرفتاری کے لیے محکمہ پولیس نے خصوصی ٹیمیں تشکیل دی ہیں جن کی گرفتاری اور نقل و حرکت کے حوالے سے ڈی بریفنگ سیشن میں ہدایات دی گئی ہیں، پولیس کے پاس پارٹی کی طرف سے کیے گئے ماضی کے احتجاج کے دوران ریلیاں نکالنے اور دیگر سرگرمیوں کے حوالے سے پی ٹی آئی کے رہنماؤں اور کارکنوں کی کیٹیگری ’اے‘ میں ’پرتشدد سرگرمیوں‘ کے بارے میں تفصیلی تشخیصی رپورٹس موجود ہیں، ان میں سے بہت سے شہر کے امیر ترین لوگوں میں شامل ہیں جن میں تاجر، صنعت کار، ٹرانسپورٹرز اور تاجر کے نام موجود ہیں۔

اخبار کے مطابق پولیس افسر نے کہا مذکورہ افراد اسٹریٹ پاور دکھانے کے لیے پی ٹی آئی کے جلسوں اور عوامی اجتماعات کی مالی اعانت کرتے تھے،لاہور پولیس نے تمام 6 ڈویژنل ایس پیز اور شہر میں تعینات 85 ایس ایچ اوز کی مختلف اجلاسوں میں فہرستوں میں مذکور افراد کی ’احتیاطی گرفتاریاں‘ کرنے کے انتظامات کو حتمی شکل دے دی ہے۔
پولیس افسر کا ایک سوال کے جواب میں کہناتھا کہ اعلیٰ افسران بڑی حد تک اسی حکمت عملی پر عمل کریں گے جو لاہور میں پی ٹی آئی کے پچھلے لانگ مارچ کو بے اثر کرنے کے لیے استعمال کی گئی تھی، پنجاب حکومت، صوبائی دارالحکومت میں دفعہ 144 کے نفاذ اور ایم پی او کے تحت گرفتاریوں کے آپشن پر بھی غور کر رہی ہے۔

انکا کہنا تھاپنجاب حکومت کی جانب سے احکامات ملنے کے بعد پولیس ان افراد کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کرے گی،لاہور پولیس حکام نے سٹی ایس ایچ اوز کو ہدایت کی ہے کہ وہ لاہور میں ’مارچ کرنے والوں‘ کو روکنے کے لیے شہر کی بڑی سڑکوں کو بند کرنے کے لیے کنٹینرز کی فراہمی کے انتظامات کریں،شہر کے خارجی اور داخلی راستوں پر بھی سکیورٹی کو بڑھا دیا گیا ہے، خاص طور پر شاہدرہ کے بتی چوک پر، جہاں پارٹی کے پچھلے لانگ مارچ کے دوران پی ٹی آئی کے کارکنوں اور پولیس کے درمیان پرتشدد جھڑپیں ہوئیں۔

Related Articles

Back to top button