نواز شریف نے الیکشن لڑنے کیلئے مانسہرہ کا انتخاب کیوں کیا؟

پاکستان مسلم لیگ ن کے سربراہ اور سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے 2024 کے عام انتخابات میں خیبر پختونخوا کے ضلع مانسہرہ کے حلقہ این اے 15 سمیت تین حلقوں سے الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا ہے، تاہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ تین دفعہ منتخب ہونے والے وزیر اعظم نے لاہور کے اپنے آبائی حلقے کی بجائے اس بار اپنے داماد کیپٹن صفدر کا مانسہرہ کا ہی حلقہ کیوں چُنا؟

خیال رہے کہ مانسہرہ کے اس حلقے سے آٹھ انتخابات میں سے چھ میں پاکستان مسلم لیگ ن کے امیدواروں نے کامیابی حاصل کی ہے اور مبصرین کا خیال ہے کہ نواز شریف نے اسی وجہ سے اس حلقے سے انتخابات لڑنے کا فیصلہ کیا ہے کہ اس حلقے میں ان کی پارٹی کا ووٹ بینک موجود ہے۔اس حلقے میں انتخابات کا اگر ہم 1988 سے مطالعہ شروع کریں، تو این اے 15 مانسہرہ سے1988 میں نواب زادہ صلاح الدین سعید خان نے کامیابی حاصل کی تھی جو آزاد حیثیت سے لڑے تھے اور آزاد امیدوار زرین گل کو شکست دی تھی۔

اسی طرح 1990 کے انتخابات میں اس حلقے سے نواب زادہ صلاح الدین سعید خان نے نواز شریف کی سربراہی میں بنی اسلامی جمہوریہ اتحاد آئی جے آئی کے امیدوار کی حیثیت سے انتخابات میں حصہ لیا تھا اور جیت گئے تھے اور آزاد امیدوار سید قاسم شاہ کو شکست دی تھی۔اسی طرح 1993 میں بھی اس حلقے سے نواب زادہ صلاح الدین نے پاکستان مسلم لیگ ن کے امیدوار کی حیثیت سے انتخابات میں حصہ لیا تھا اور آزاد امیدوار زر گل کو شکست دی تھی۔اس حلقے سے 1997 میں پی ایم ایل ن کے ٹکٹ پر نوابزادہ صلاح الدین نے فتح حاصل کی تھی اور آزاد امیدوار محمد اعظم خان کو شکست دی تھی۔

2002 میں پرویز مشرف کے دور حکومت میں مذہبی جماعتوں نے متحدہ مجلس عمل ایم ایم اے کے نام سے اتحاد بنایا تھا اور اس حلقے سے ایم ایم اے امیدوار مولانا عبدالمالک 20 ہزار سے زائد ووٹ کے مارجن پر جیت گئے تھے اور پاکستان مسلم لیگ ق کے ٹکٹ پر نوابزادہ صلاح الدین تیسرے نمبر پر تھے۔اسی طرح 2008 میں اس حلقے سے پاکستان مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر فیض محمد خان نے کامیابی حاصل کی تھی اور پاکستان مسلم لیگ کے زر گل کو شکست دی تھی۔

پاکستان تحریک انصاف نے 2013 کے انتخابات میں حصہ لیا تھا اور خیبر پختونخوا میں زیادہ تر حلقے جیتے تھے لیکن مانسہرہ کے اس حلقے سے ان کو شکست ہوئی تھی۔ اس حلقے میں 2013 کے عام انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما اور مریم نواز شریف کے شوہر کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر نے 91 ہزار سے زائد ووٹ کے کر کامیابی حاصل کی تھی اور لائق محمد خان کو شکست دی تھی۔ اسی طرح جب ملک بھر میں پاکستان تحریک انصاف 2018 میں انتخابات جیت رہی تھی، تو اس حلقے سے پاکستان مسلم لیگ ن کے محمد سجاد نے 74 ہزار سے زائد ووٹ حاصل کر کے پی ٹی آئی کے زر گل خان کو 15 ہزار سے زائد ووٹ سے شکست دی تھی۔

مبصرین کے مطابق اس حلقے سے نوابزادہ صلاح الدین اس لیے ماضی میں کئی بار جیت چکے ہیں کہ یہاں پر ان کا ذاتی ووٹ بینک موجود ہے۔انہوں نے بتایا کہ نواب زادہ صلاح الدین اس حلقے سے آزاد یا مختلف سیاسی جماعتوں کی سیٹ پر انتخابات میں حصہ لے کر جیت چکے ہیں، تاہم 2013 میں کیپٹن صفدر نے اس حلقے سے کامیابی حاصل کی تھی۔ ’کیپٹن صفدر اس حلقے میں ایک عوامی شخصیت ہیں اور عوام کی غم و خوشی میں حصہ لیتے ہیں جبکہ ان کا انداز بھی عوامی ہے یعنی کسی بھی ریڑھی پر کھڑے ہو کر کھانا کھایا یا عوام سے گپ شپ لگائی۔‘2013 کے انتخابات میں کیپٹن صفدر نے جمیعت علمائے اسلام کے ٹکٹ پر انتخابات میں حصہ لینے والے لائق محمد خان کو 50 ہزار ووٹ سے زائد کی برتری پر شکست دی تھی۔ کیپٹن صفدر نے پھر اس حلقے میں کچھ ترقیاتی کام بھی کرائے ہیں جس میں کچھ علاقوں کو سوئی گیس کی فراہمی اور چھوٹے علاقوں کے لیے سڑکیں بنانا شامل ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق آمدہ الیکشن میں نواز شریف کے خلاف ممکنہ طور پر لائق محمد خان اور زرگل مد مقابل ہوں گے۔لائق محمد خان پی ٹی آئی کے رہنما اعظم سواتی کے چھوٹے بھائی ہیں اور 2015 میں انہوں نے پاکستان مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی تھی جبکہ 2010 میں وہ جے یو آئی سے قومی اسمبلی کے رکن تھے۔مبصرین کےمطابق: ’لائق کا ووٹ بینک زیادہ ہے لیکن اعظم سواتی اور لائق زادہ دونوں بھائی ہیں اور مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق کی وجہ سے ان کا ووٹ بینک تقسیم ہوگیا ہے لیکن ابھی اگر جے یو آئی کے ساتھ پاکستان مسلم لیگ نے اتحاد کیا تو یہ سیٹ نواز شریف آسانی سے جیت سکتے ہیں۔‘اسی طرح اس حلقے میں جے یو آئی کا ووٹ بینک بھی موجود ہے کیونکہ اعظم سواتی اور ان کا خاندان پی ٹی آئی سے پہلے جمعیت علمائے اسلام میں تھے اور ماضی کے بعض عام انتخابات پر نظر ڈالیں تو جے یو آئی کا امیدوار اس حلقے سے دوسرے نمبر پر رہا ہے۔

Related Articles

Back to top button