اب پنجابیوں کو نکاح سے پہلے کیا شرط پوری کرنا ہو گی؟

پنجاب کے باسی جان جائیں کہ اب اگر انہوں نے اسلامی قوانین کے تحت نکاح کرنا ہے تو پہلے دلہا اور دلہن دونوں کو ثابت کرنا ہو گا کہ وہ ختم نبوت پر یقین رکھتے ہیں اور مسلمان ہیں اور اپنے یقین اور ایمان کے تمام تقاضے پورے کرتے ہیں۔ جی ہاں، آپ نے ٹھیک سنا، پنجاب میں ایک نئے قانون کی منظوری دے دی گئی ہے جس کے تحت نکاح سے قبل دلہا دلہن کو ختم نبوت پر ایمان کا حلف اٹھا کر ثابت کرنا ہوگا کہ وہ مسلمان ہیں۔ یاد رہے کہ پنجاب کابینہ نے مسلم فیملی لاز آرڈیننس 1961 میں ترمیم منظور کی ہے جس کے تحت نکاح نامے میں ختم نبوت کے حلف نامے کی شق شامل کی جائے گی تا کہ نکاح کے وقت دلہا، دلہن کو ختم نبوت پر ایمان کا حلف دینے کا پابند کیا جائے ورنہ ان کا نکاح نہیں ہو پائے گا۔

اس قانون کی ضرورت کیوں پیش آئی، اس بارے میں پنجاب حکومت کے ترجمان حسان خاور کا کہنا ہے کہ ’اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ آئین و قانون کی نظر میں تمام شہری برابر ہیں، لیکن ختم نبوت کے حلف نامے کی شق شامل کرنے کی ضرورت اس لیے پڑی کہ نکاح پنجاب مسلم فیملی لاز آرڈیننس کے تحت ہوتا ہے، اور مسلمان ہونے کا جو یقین ہے اس پر ہمیں یہ واضح طور پر معلوم ہے کہ ختم نبوت ہمارے مسلمان ہونے کے لیے ہمارے ایمان کا ایک اہم جزو ہے۔ اگر آپ نے اسلامی قوانین کے تحت نکاح کرنا ہے تو آپ نے نکاح نامے میں ثابت کرنا ہے کہ آپ مسلمان ہیں اور آپ اپنے یقین اور ایمان کے تمام تقاضے پورے کرتے ہیں۔‘
دوسری جانب وزیر اعظم عمران خان کے مشیر خاص برائے مذہبی ہم آہنگی حافظ طاہر اشرفی نے کہا ہے کہ ’اس فیصلے کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ مسلمانوں کا نکاح ’قادیانیوں‘ سے نہیں ہو سکتا۔ لیکن سینکڑوں ایسے واقعات ہیں جن میں قادیانی کمیونٹی کے لوگ مسلمان خواتین سے نکاح کر لیتے ہیں اور بتاتے نہیں کہ ان کا مذہب کیا ہے۔ جب معلوم ہوتا ہے کہ وہ قادیانی ہیں تب مسائل پیدا ہوتے ہیں کیونکہ پھر وہ خاتون کو چھوڑتے نہیں ہیں اور اگر بچے ہو جائیں تو مسائل اور بڑھ جاتے ہیں۔ ایسے واقعات کی بنیاد پر صوبہ پنجاب نے یہ فیصلہ کیا ہے جس سے بہت سی خواتین تباہی سے بچ جائیں گی’۔ ان کا کہنا تھا کہ ’یہ بات تو بہت واضح ہے کہ مسلمان کا مسلمان سے نکاح ہو سکتا ہے یا اہلِ کتاب سے، لیکن ’قادیانیوں‘ سے نہیں ہو سکتا۔
دوسری جانب سے اس فیصلے پر تنقید کرنے والے بھی کھل کر سامنے آگئے ہیں۔ احمدی کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے محمود افتخار ظفر نامی وکیل کا کہنا ہے کہ ’میں اس ملک میں ٹیکس ادا کرتا ہوں۔ میں نے آئین کے تحفظ کا حلف لیا ہے۔ لیکن پھر بھی ریاست ہم سے سوتیلا سلوک کرتی ہے۔ اگر اس ملک میں ہمارے لیے تھوڑی سی جگہ باقی تھی تو اب وہ بھی ختم ہو جائے گی۔‘ نکاح نامے میں تبدیلیوں بارے بات کرتے ہوئے محمود افتخار ظفر کا کہنا تھا کہ پاکستان میں احمدی کمیونٹی کے لیے جگہ تنگ ہوتی جا رہی ہے۔ ویسے بھی ہم کوئی دو لاکھ کے قریب لوگ بچے ہیں اس ملک میں، اب وہ بھی ختم ہو جائیں گے۔ اس فیصلے سے ہماری کیمونٹی کے خلاف نفرت میں مذید اضافہ ہوگا۔
یاد رہے کہ یہ فیصلہ پنجاب اسمبلی سے منظور ہونے والی ایک قرارداد کے بعد کیا گیا۔ قرار دار کے متن میں کہا گیا تھا کہ ‘پنجاب اسمبلی کا یہ ایوان حکومت پنجاب سے اس امر کا مطالبہ کرتا ہے کہ مسلمان اور غیر مسلم (قادیانی، احمدی وغیرہ) میں فرق واضح کرنے کے لیے نادرا اور پاسپورٹ فارم میں مندرج حلف نامے کی طرز پر مسلم فیملی لاز آرڈیننس 1961 کے تحت وضع کیے ہوئے قوائد کے قاعدہ نمبر 8 اور 10 کے تحت مجوزہ نکاح نامہ فارم میں بھی ختم نبوت کا مندرجہ ذیل حلف نامے کے ساتھ کالم شامل کیا جائے۔
تاہم انسانی حقوق کے کارکنان بھی اس فیصلے سے خوش نظر نہیں آتے ہیں۔ انسانی حقوق کی کارکن سدرہ ہمایوں صوبائی حکومت کے اس فیصلے کے حوالے سے کہتی ہیں: ’آج کے دور میں میں حکومت کے اس فیصلے کو بالکل بھی دانش مندانہ فیصلہ نہیں سمجھتی۔ مذہب ایک ذاتی معاملہ ہے اور کسی پر بھی اپنا مذہبی عقیدہ بتانے کے لیے دباؤ نہیں ڈالنا چاہیے۔ ہر شخص نے اپنی انفرادی حیثیت میں اپنے خالق کو جواب دینا ہے۔‘
سدرہ کے خیال میں مذہب کو مشکل بنانا یا اسے کسی خاص سوچ کے سانچے میں ڈھالنا ایک سوچی سمجھی غلطی ہے، اور اس غلطی سے اب ہمیں باہر آجانا چاہیے۔
’اس میں کوئی شک نہیں کہ دنیا کے بہت سے ممالک اور خطوں میں تعصب کی فضا مستحکم اور حقیقی ہے۔ لیکن مذہب نہ ریاست کا مقصد ہونا چاہیے نہ ریاست کو اس کی فکر ہونی چاہیے۔ ملک میں رہنے والوں کے لیے ایک آزاد اور محفوظ فضا ہونی چاہیے۔‘ سدرہ کے خیال میں، ’صوبائی حکومت کو اپنے اس فیصلے پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے اور مجھے یقین ہے کہ آئندہ آنے والے دنوں میں حکومت ایسا کرے گی کیونکہ یہ فیصلہ ناقابل عمل ہے اور زبردستی لاگو نہیں کیا جا سکتا۔
واضح رہے کہ پاکستان میں پاسپورٹ بنوانے کے لیے بھی اس حلف نامے پر دستخط کرنا ہوتے ہیں جس کی وجہ پاکستان میں 1974 کی وہ آئینی ترمیم ہے جس کے تحت احمدیوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا تھا۔ اس قرارداد کے محرکین میں مسلم لیگ ق کی رکن پنجاب اسمبلی خدیجہ عمر، باسمہ چوہدری اور مسلم لیگ ن کے محمد الیاس چنیوٹی شامل ہیں۔قرارداد پیش کیے جانے کے چند ہی دن بعد بی بی سی سے بات کرتے ہوئے رکن پنجاب اسمبلی خدیجہ عمر کا کہنا تھا کہ چند ممبران اسمبلی کو ایسی شکایات موصول ہو رہی تھیں جن کے مطابق مسلمان خاندانوں کو شادی کے موقع پر ’قادیانیوں‘ کی جانب سے مسلمان ہونے کا دھوکا دیا گیا۔ خدیجہ عمر کا کہنا تھا کہ ‘بہت سے لوگ شادیاں کر رہے ہیں لیکن انہیں اس بات کا پتا نہیں ہوتا کہ جس سے وہ شادی کرنے لگے ہیں اس کا تعلق قادیانی کمیونٹی سے ہے۔’ ان کا مزید کہنا تھا کہ ‘ہم اس بات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ کسی کے ساتھ زیادتی نہ ہو۔
خدیجہ عمر کے مطابق اسمبلی میں اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہی کی جانب سے بھی قرارداد کے حق میں ایک تقریر کی گئی جس میں ایسی شکایات موصول ہونے پر تشویش کا اظہار کیا گیا تھا۔ جب خدیجہ عمر سے دریافت کیا گیا کہ کیا ان کے پاس ایسے افراد کی تعداد کا ڈیٹا موجود ہے جنہیں شادی کے وقت شناخت کا دھوکا دیا گیا ہو تو ان کا کہنا تھا کہ ‘نہیں، ہمارے پاس اس سلسلے میں کوئی حتمی ڈیٹا تو نہیں البتہ ایسے بہت سے لوگ ہیں جو اس کا شکار ہوچکے ہیں’۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ اس کالم کو نکاح نامے میں شامل کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی جب کہ قومی شناختی کارڈ یا پاسپورٹ جاری کرنے سے پہلے ایسا حلف لازمی ہوتا ہے، تو ان کا کہنا تھا کہ لوگ غلط شناختی کارڈ بھی بنوا لیتے ہیں۔ قرارداد پیش کیے جانے کے چند ہی دن بعد جب ڈائریکٹر جنرل پارلیمانی امور و ریسرچ عنایت اللہ لک سے ایسی شکایات کے ریکارڈ کی دستیابی کے لئے رابطہ کیا تو ان کی جانب سے بھی لا علمی کا اظہار کیا گیا۔انھوں نے کہا: ’نہیں میرے دفتر میں ایسا کوئی ریکارڈ نہیں۔ میرے علم میں نہیں ہے۔

Now what condition do Punjabis to fulfill before marriage? video

Related Articles

Back to top button