پاکستان اقوام متحدہ میں جہادیوں کا دفاع کیوں کر رہا ہے؟

چین نے پاکستان کی درخواست پر بھارت سے طیارہ ہائی جیکنگ کے نتیجے میں رہا ہونے والے جیش محمد کے امیر مولانا مسعود اظہر کے نائب کے خلاف اقوام متحدہ میں امریکہ اور بھارت کی پابندیوں کی کوشش کو ویٹو کر کے ناکام بنا دیا ہے۔ اسلام آباد کے سفارتی حلقے حیران ہیں کہ ایک جانب پاکستان پر ایف اے ٹی ایف کی شرائط کے تحت جہادی تنظیموں کے خلاف کریک ڈاؤن کے لیے دباؤ ہے اور دوسری جانب پاکستان چین کے ذریعے دہشت گردی میں ملوث جہادیوں پر پابندیاں لگانے کی کوششوں کو ناکام بنوا رہا ہے جس سے ایف اے ٹی ایف میں اسکے لیے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔

یاد رہے کہ مولانا عبدالرؤف اظہر دسمبر 2010 سے جیش محمد سے وابستہ ہونے کی وجہ سے امریکی پابندیوں کی زد میں ہیں۔ وہ بہاولپور میں مقیم مولانا مسعود اظہر کے چھوٹے بھائی بھی ہیں جو ان ہائی جیکرز میں شامل تھے جنہوں نے دسمبر 1999 میں ایک بھارتی طیارہ اغوا کر کے کابل پہنچایا تھا۔ اس کے نتیجے میں بھارتی حکومت کو مولانا مسعود اظہر، مشتاق احمد زرگر اور ڈینیئل پرل کے قاتل شیخ احمد عمر سعید کو رہا کرنا پڑا تھا۔ تب افغانستان میں طالبان کے بانی امیر ملا محمد عمر کی زیر قیادت طالبان کی حکومت تھی چنانچہ مسعود اظہر، مشتاق احمد زرگر اور شیخ احمد عمر سعید کو پاکستان پہنچا دیا گیا تھا۔ پاکستان واپسی پر مسعود اظہر نے حرکت المجاہدین سے علیحدگی اختیار کر جیش محمد کے نام سے ایک نئی جہادی تنظیم بنائی تھی جبکہ شیخ احمد عمر سعید امریکی صحافی ڈینیئل پرل کے اغوا اور قتل کے الزام میں جیل چلے گئے۔

بھارت نے مولانا مسعود اظہر کے بھائی مولانا عبدالرؤف اظہر پر پابندیاں لگوانے کے لیے اقوام متحدہ میں قرارداد پیش کی تھی۔ بھارت کا کہنا تھا کہ وہ انڈیا اور جموں کشمیر میں ہونے والے کئی دہشتگرد حملوں کی منصوبہ بندی اور ان پر عمل درآمد میں ملوث تھا، جن میں 1999 میں بھارتی ایئر لائنز کے طیارے کو ہائی جیک کرنا، 2001 میں بھارتی پارلیمنٹ پر حملہ اور 2016 میں پٹھان کوٹ میں بھارتی فضائیہ کے اڈے پر حملہ شامل تھا۔ لیکن چین نے پاکستان کی درخواست پر بھارت کا یہ مطالبہ ویٹو کردیا حالانکہ امریکہ بھی انڈیا کا ساتھ دے رہا تھا۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے جون 2022 میں چین نے ایک اور پاکستانی جہادی گروپ کالعدم لشکر طیبہ کے نائب سربراہ عبدالرحمٰن مکی کو اقوام متحدہ کی بلیک لسٹ میں شامل کرنے سے روک دیا تھا۔ عبدالرحمٰن مکی نومبر 2010 سے امریکی پابندیوں کی زد میں ہیں۔ بھارت کا کہنا ہے کہ وہ دہشت گردی کے لیے فنڈز اکٹھا کرنے، نوجوانوں کو تشدد کے لیے بھرتی کرنے اور 2008 میں ممبئی سمیت دیگر حملوں کی منصوبہ بندی میں ملوث رہے ہیں۔

جنرل باجوہ کے امریکیوں کو فون کا مطلب ہم کمزور ہو رہے ہیں

دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان نے چین کو اس جہادی تنظیم کے لیڈر کو اقوام متحدہ کی پابندیوں سے بچانے کی درخواست کی جسے خود حکومت پاکستان بھی دہشت گردی میں ملوث ہونے کی وجہ سے برسوں پہلے کالعدم قرار دے چکی ہے۔ حکومت پاکستان نے جیش محمد اور لشکر طیبہ سمیت 65 سے زائد عسکریت پسند گروپوں کو کالعدم قرار دے رکھا ہے۔ لشکر طیبہ کے سربراہ حافظ محمد سعید دہشت گردی کی فنڈنگ کے الزام میں پہلے ہی 7 برس کی سزا پا چکے ہیں جبکہ مسعود اظہر پچھلے کئی برسوں سے بہاولپور میں ماڈل ٹاؤن کے علاقے میں واقع جیش محمد کے ہیڈکوارٹر میں نظر بند ہیں۔

دوسری جانب چین کے اقوام متحدہ کے مشن کے ترجمان نے کہا ہے کہ ہم نے مولانا عبدالرئوف اظہر پر اقوام متحدہ کی پابندیوں کا نفاذ اس لیے ویٹو کیا کہ ہمیں انکے کیس کا مطالعہ کرنے کے لیے مزید وقت درکار ہے۔

دوسری جانب اقوام متحدہ میں امریکی مشن کے ترجمان نے کہا کہ امریکہ چین کی جانب سے الزامات کی تصدیق کرنے کی ضرورت کا احترام کرتا ہے۔ دراصل دیکھنا یہ ہوتا ہے کہ پابندیاں لگانے کے لئے تجویز کردہ لوگوں کے خلاف دیے گئے ثبوت اس معیار پر پورا اترتے ہیں جس کے تحت انہیں بلیک لسٹ کیا جاتا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ امریکہ اس پلیٹ فارم کو غیر سیاسی اور مؤثر طریقے سے استعمال کرنے کے لیے اپنی سلامتی کونسل کے شراکت داروں کے ساتھ تعاون کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے، تاکہ دہشت گردوں کو عالمی نظام کا استحصال کرنے سے روکا جاسکے۔

Related Articles

Back to top button