پاکستان آئین پر چلے گا، اب عمران کی مرضی نہیں چل سکتی

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ملک کسی فرد واحد کی ضد پر نہیں،آئین کے مطابق چلے گا، آئینی طریقے سے حکومت بدلی گئی اور دروازے کھولے گئے پھلانگے نہیں،سابق حکومت جان بوجھ کر اپنے کرتوتوں پر پردہ ڈال رہی ہے، فسادی ذہن نے سیاست میں زہر گھول دیا ہے۔

قوم سے اپنے پہلے خطاب میں وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا قوم نے جس ذمہ داری کے لیے مجھے منتخب کیا وہ میرے لیے اعزاز ہے، وزیراعظم کا منصب سنبھالنا کسی کڑے امتحان سے کم نہیں، اپنے قائد نوازشریف اور اتحادی جماعتوں کا شکرگزار ہوں، پاکستان کے عوام نے مطالبہ کیا کہ اس نااہل اور کرپٹ حکومت سے ان کی فوری جان چھڑائی جائے، اپوزیشن کی تمام جماعتوں نے عوام کی آواز پر لبیک کہا، ہم نے حکومت سنبھالی تو ہر شعبہ تباہی کی داستان سنا رہا تھا، ایسی تباہی میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھی جو چار سال میں ہوئی، یہی وجہ ہے کہ ہم نے پاکستان کو بچانے کا چیلنج قبول کیا،ملک کو بہتری کے راستے پر گامزن کرنے کیلئے انتھک محنت درکار ہوگی، ہماری سیاست کے ریشوں میں نفرت کا زہر بھر دیا گیا۔

انہوں نے کہا ایک شخص نے اپنے مذموم مقاصد کیلئے سازش کی کہانی گڑھی، امریکا میں ہمارے سفیر نے بھی سازش کی کہانی کو یکسر مسترد کردیا، قومی سلامتی کمیٹی نے بھی دو مرتبہ سازش کی کہانی کو مسترد کیا، پاکستان آئین کے مطابق چلے گا کسی ایک کی ضد سے نہیں، سابق حکومت جان بوجھ کر اپنے کرتوتوں پر پردہ ڈال رہی ہے، فسادی ذہن نے سیاست میں زہر گھول دیا ہے۔

گزشتہ عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے انکا کہنا تھا سابق وزیراعظم نوازشریف کے دور میں پاکستان نمایاں ترقی کررہا تھا، اس شخص کی ہٹ دھرمی اور دھرنے سے چین سے معاہدہ تاخیر کا شکار ہوا،ہم نے حکومت نے سنبھالی تو مہنگائی عروج پر تھی، ڈالر 2018 میں 115 پر چھوڑ کرکے گئے تھے، سابق حکومت کے پونے چارسال میں ڈالر189 تک پہنچ گیا، انہیں یاد دلانا چاہتا ہوں کہ آئی ایم ایف سے معاہدہ آپ نے کیا ہم نے نہیں، عوام کو مہنگائی کی چکی میں آپ نے پیسا ہم نے نہیں، ملک کو تاریخ کے بدترین قرض کے نیچے دفن کردیا،سب سے زیادہ کرپشن آپ کے دور میں ہوئی، ملک میں لوڈ شیڈنگ کے اندھیرے آپ کے دور میں ہوئے، میری خدمات عوام کے سامنے ہیں، ہمارے سامنے صرف اور صرف ایک مقصد ہے، ہم مشکل فیصلہ کرنے کو تیار ہیں، ہر وہ کام کریں گے جس سے ملکی ترقی تیزی سے ہوسکے،ہمارا ایک ہی مقصد وطن عزیز کو خوشحال اور قائد کا پاکستان بنانا ہے۔

چاغی میں مظاہرین پرفائرنگ کا میڈیا بلیک آؤٹ کیوں؟

وزیر اعظم نے کہا کہ گزشتہ روز دل پر پتھر رکھ کر پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کیا لیکن یہ فیصلہ کیوں کیا یہ آپ کے سامنے لانا ضروری ہے، یہ فیصلہ پاکستان کو معاشی دیوالیہ پن سے بچانے کیلئے ناگزیر تھا، اس نہج پر پاکستان کو گزشتہ حکومت نے پہنچایا، پاکستان اور عوام کو معاشی بحران میں سابق حکومت نے پھنسایا،گزشتہ حکومت نے سیاسی فائدے کے لیے پیٹرول کی قیمتیں نہیں بڑھائیں جبکہ عالمی مارکیٹ میں قیمتیں آسمان کو چھو رہی تھیں، اس سبسڈی کی قومی خزانے میں کوئی گنجائش موجود نہیں تھی، قوم کو پیٹرول کی قیمت میں اضافے کے بوجھ سے بچانے کیلئے 28 ارب روپے کے فنڈ سے پیکیج کا آغاز کر رہے ہیں، غریب گھرانوں کو 2 ہزار روپے ماہانہ دیے جائیں گے، یہ ریلیف بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے علاوہ ہے جو پہلے ہی ان خاندانوں کو دی جارہی ہے، ا س کے علاوہ یوٹیلیٹی اسٹورز کو کہا ہے کہ آٹے کا 10کلو کا تھیلا 400 روپے کا دیا جائے۔

شہبا ز شریف نے کہا داخلی محاذ کی طرح خارجی محاذ پر گزشتہ پونے 4 سال پاکستان کے قومی مفادات کے لیے انتہائی مہلک ثابت ہوئے، ہر مشکل میں ساتھ دینے والے پاکستان کے دوست ممالک کو ناراض کیا گیا، اب ہم نے ان غلطیوں کی اصلاح اور دو طرفہ تعلقات کی بحالی کا عمل شروع کردیا ہے،ہم پاکستان کے اس اصولی مؤقف کا پوری قوت سے اعادہ کرتے ہیں کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کے لیے بھات کی ذمہ داری ہے کہ 5 اگست 2019 کے یک طرفہ اور غیرقانونی اقدامات کو ختم کرے تاکہ بامقصد بات چیت سے جموں اور کشمیر سمیت تمام متنازع امور کو حل کرنے کی طرف ٹھوس پیش رفت ہو۔

انکا کہنا تھا ہمارے سامنے دہشت گردی اور بدامنی کی صورت میں ایک اور چیلنج موجود ہے، یہ فتنہ بدقسمتی سے دوبارہ سر اٹھا رہا ہے، صوبوں کے ساتھ مل کر نیشنل ایکشن پلان کی ازسر نو بحالی شروع کردی ہے، یہ قومی مفادات سے جڑے منصوبوں کو تیزی سے مکمل کرنے کے لیے بھی نہایت ضروری ہے۔

انہوں نے کہابلاشبہ مشکلات بے پناہ اور راستہ کانٹوں سے بھرا ہوا ہے لیکن ہمارا بھروسہ اللہ تعالیٰ کی کریم ذات پر ہے جو خلوص نیت سے کام کرنے والوں کی نیت کو ہر گز رائیگاں نہیں فرماتا،ہم آپ سے عہد کرتے ہیں کہ مل کر امانت اور دیانت کے ساتھ شبانہ روز محنت کریں گے اور کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے، میں اور میری کابینہ اپنے ہر فیصلے کے لیے آپ کی عدالت میں جوابدہ ہوں گے۔

سیاسی مخالفین کو پیغام دیتے ہوئے انکا کہنا تھا کہ آئیے! ہم سب مل کر پاکستان کو ایک ایسا ملک بنائیں جس میں اختلاف رائے کو دشمنی نہ سمجھا جائے جہاں تنقید کو حوصلے سے برداشت کیا جائے، جہاں قومی خدمت ہی سیاست کا اصل معیار ہو، درسگاہوں کھل جائیں، نفرت گاہوں کے در بند ہوجائیں، جہاں عورتوں کے حقوق مقدم، اقلتیوں کے حقوق محفوظ ہوں، جہاں مزدور اور کسان خوش حال ہوں، جہاں مہنگائی اور بے روزگاری کا خاتمہ ہوں، رزق کی فراوانی اور آسانی ہو، جہاں کا عدل باعث فخر ہو جہاں ظلم کا خاتمہ ہوجائے۔

Related Articles

Back to top button