پاکستان جون تک FATF کی گرے لسٹ میں رہے گا

مصدقہ اطلاعات کے مطابق فنانشل ایکشن ٹاسک فورس یا

ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو چند مزید اہداف کی مکمل تعمیل کے لیے مزید 3 ماہ یعنی جون 2022 تک ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں رکھنے کا فیصلہ ہے

۔ اس حوالے سے باقاعدہ اعلان جلد ہی کر دیا جائے گا۔ یاد رہے کہ پیرس میں قائم منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت پر نظر رکھنے والے عالمی ادارے ایف اے ٹی ایف کا پلانری سیشن ختم ہو گیا ہے جسکے بعد اب پاکستان انسداد منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کی روک تھام سے متعلق 2021 کے ایکشن پلان کو جنوری 2023 کے آخر تک مکمل کرنے کا ہدف دیا جا رہا ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان جون 2018 سے دہشت گردی کی مالی معاونت اور انسداد منی لانڈرنگ کے نظام میں خامیوں کی وجہ سے گرے لسٹ میں ہے۔ اکتوبر 2021 میں ایف اے ٹی ایف نے اپنے 27 نکاتی ایکشن پلان کے 26 آئٹمز کی تکمیل پر پاکستان کی پیشرفت کو تسلیم کیا تھا لیکن اقوام متحدہ کے نامزد دہشت گرد گروپوں کی اعلیٰ قیادت کے خلاف دہشت گردی کی مالی معاونت کی تحقیقات اور ان کے خلاف قانونی کارروائیاں دکھانے کے لیے ملک کو ’اضافی نگرانی کی فہرست‘ میں برقرار رکھا گیا تھا۔ اس وقت ایف اے ٹی ایف کے صدر ڈاکٹر مارکس پلیئر نے کہا تھا کہ پاکستان کو کل 34 آئٹمز کے ساتھ بیک وقت دو ایکشن پلان مکمل کرنے ہیں، اب تک ملک 30 آئٹمز پر عمل یا بڑی حد تک عمل کرلیا ہے۔

ایف اے ٹی ایف سے منسلک علاقائی گروپ، ایشیا پیسیفک گروپ کا منی لانڈرنگ پر 2021 کا تازہ ترین ایکشن پلان بڑی حد تک منی لانڈرنگ پر مرکوز تھا اور اس میں سنگین خامیاں پائی گئی تھیں۔ اس نئے ایکشن پلان کے اب 7 میں سے 4 آئٹمز کی تعمیل یا بڑی حد تک عمل کر لیا گیا ہے۔ اکتوبر میں ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ سی ایف ٹی سے متعلق ایک باقی ماندہ آئٹم کو جلد از جلد حل کرنے میں پیش رفت جاری رکھے اور یہ ظاہر کرتا رہے کہ دہشت گردی کی مالی معاونت کی تحقیقات اور مقدمات اقوام متحدہ کے نامزد دہشت گرد گروپوں کے سینئر رہنماؤں اور کمانڈروں کو نشانہ بناتے ہیں۔

ذرائع کے مطابق ایف اے ٹی ایف چاہتی ہے کہ پاکستان دہشت گردوں کی مالی معاونت کے مقدمات کی تحقیقات اور سزاؤں میں شفافیت لائے اور حکومت اقوام متحدہ کی جانب سے نامزد کردہ 1373 دہشت گردوں اور تنظیموں کے خلاف کارروائی کرے۔ پاکستان نے منی لاندڑنگ کے خلاف قوانین تو بنائے ہیں لیکن ان قوانین پر عمل درآمد کے حوالے سے FATF بظاہر مطمئن نہیں۔ ایف اے ٹی ایف کا مطالبہ ہے کہ پاکستان تمام شدت پسند گروہوں کے سربراہوں کے خلاف بھرپور کارروائی کرے اور خاص طور پر سزائیں سنانے کی شرح کو بہتر بنائے۔

یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ پاکستان دہشت گرد تنظیموں کے سینیئر کمانڈروں کو سزائیں دینے کا ہدف بھی پورا کرے۔ ایف اے ٹی ایف کے نئے ایکشن پلان کے مطابق پاکستان کو تحقیقات کے طریقہ کار میں بہتری جبکہ دہشت گردوں کو مالی معاونت فراہم کرنے والوں کی چھان بین بھی کرنا ہو گی۔ بتایا گیا ہے کہ ایف اے ٹی ایف حکومت پاکستان کی طرف سے کیے گئے اقدامات سے جب مطمئن ہو گی تو ایک ٹیم کو پاکستان بھیجا جائے گا، جو زمینی حقائق  اور قانون سازی کا جائزہ لے گی۔ اس کے بعد ہی پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنے یا نہ نکالنے کا حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔

خیال رہے کہ جون 2021 میں پاکستان کی 2019 کی اے جی پی باہمی تشخیصی رپورٹ میں سامنے آنے والی اضافی خامیوں کے جواب میں پاکستان نے بنیادی طور پر منی لانڈرنگ سے نمٹنے پر مرکوز ایک نئے ایکشن پلان کے تحت ان اسٹریٹجک خامیوں کو دور کرنے کے لیے مزید اعلیٰ سطح کا عزم ظاہر کیا تھا۔ مارچ کے اختتام تک انسداد منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت روکنے کی مؤثریت کے لیے اے پی جی کا ایکشن پلان عالمی مالیاتی فنڈ کا بھی اسٹرکچرل بینچ مارک ہے۔

حال ہی میں آئی ایم ایف نے پاکستان سے کہا تھا کہ وہ 2018 کے اے ایم ایل اور سی ایف ٹی ایکشن پلان میں دہشت گردی کی مالی معاونت کی تحقیقات اور اقوام متحدہ کے نامزد کردہ دہشت گرد گروپوں کے سینئر رہنماؤں کے خلاف قانونی کارروائیوں کی مؤثریت سے متعلق بقیہ آئٹم کو مکمل کرے اور2021 کے اے ایم ایل اور سی ایف ٹی ایکشن پلان کے تحت منی لانڈرنگ کی باہمی تشخیص کی رپورٹ پر پاکستان کے ایشیا پیسفک گروپ میں نشاندہی کی گئی خامیوں کو فوری طور پر دور کرے۔

Pakistan will remain on FATF’s gray list till June video

Related Articles

Back to top button