طالب علم کی گمشدگی کیخلاف احتجاج، 200 طلبا، کارکنوں کیخلاف مقدمہ

مظاہرین سے جھڑپ کے 2 روز بعد اسلام آباد پولیس نے طلبہ اور انسانی حقوق کے کارکنوں سمیت 200 افراد کے خلاف مقدمہ درج کرلیا، مظاہرین نے بلوچستان میں خضدار سے ایک طالبعلم کی گمشدگی کے خلاف نیشنل پریس کلب کے سامنے احتجاجی کیمپ لگایا ہوا تھا۔
کوہسار پولیس تھانے میں اسٹیشن ہاؤس افسر (ایس ایچ او) کی شکایت پر مقدمہ درج کیا گیا جس میں ’مجرمانہ سازش، فسادات، غیر قانونی مجمع، حکم عدولی، ہتک عزت، نقص امن اور پولیس کے خلاف حملے پر اکسانے کے ارادے سے جان بوجھ کر توہین‘ کرنے کے الزامات لگائےگئے ہیں تاہم پولیس نے فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) سربمہر کردی۔
ایف آئی آر کے مطابق مظاہرین نے یکم مارچ کو نیشنل پریس کلب کے سامنے اور کیمپ کے باہر پولیس پر پتھر برسائے، کیمپ داد شاہ، ایمان مزاری اور قمر بلوچ کی سربراہی میں بلوچ اسٹوڈنٹ کونسل نے لگایا تھا جس میں 200 طلبہ شریک تھے، طلبا میں زیادہ تر کا تعلق قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد سے تھا جو خضدار سے اپنے ساتھی حفیظ بلوچ کی پراسرار گمشدگی کے خلاف احتجاج کررہے تھے۔
مقدمے میں کہا گیا کہ پولیس کے انتباہ کے باوجود مظاہرین نے ٹینٹ لگایا جو پولیس کو بزور طاقت اپنے قبضے میں لینا پڑا جس کے نتیجے میں جھڑپ ہوئی بعدازاں طلبہ پولیس کو دھکیلتے ہوئے چائنا چوک پہنچے اور دھرنا دے دیا جہاں ان کی تعداد میں بتدریج اضافہ ہوا۔
پولیس نے طلبہ کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج کیا جس کے نتیجے میں پولیس اور مظاہرین گتھم گتھا ہوگئے جس کے بعد ایس ایس پی آپریشنز اور ڈپٹی کمشنر اسلام آباد نے موقع پر پہنچ کر امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے طلبہ سے مذاکرات کیے۔پولیس اور طلبہ کی جھڑپ کے دوران 6 طالب علم اور انسداد فسادات یونٹ کے 2 افسران بھی زخمی ہوئے، مذاکرات کے بعد مظاہرین کو ان کے ٹینٹ سمیت سامان واپس کردیا گیا جس کے بعد وہ نیشنل پریس کلب چلے گئے۔

Related Articles

Back to top button