PTIلانگ مارچ میں صوبوں کی شرکت آئین کی خلاف ورزی ہوگی

وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ جو صوبے دارالحکومت پر چڑھائی کرنے والے پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کا حصہ بنیں گےوہ پاکستان کے آئین کی خلاف ورزی کریں گے اور اس کے نتائج بھی آئین گے۔

صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنااللہ نے پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایسا شخص جو پوری قوم اور نوجوان نسل کو بدتمیزی سکھا رہا ہو اور لوگوں کو گمراہ کر رہا ہو، ایسے شخص کے ساتھ کون لاڈ کر سکتا ہے، وہ کسی کا بھی لاڈلا نہیں ہے،اگر عمران خان، اسلام آباد کے ایف 9 پارک میں احتجاج کریں گے تو ان کو سیکیورٹی فراہم کی جائے گی مگر وہ ڈی چوک کی طرف بڑھے تو ان کو دھنی دیں گے اور قوم نے اگر اس کا ادراک نہ کیا تو یہ ایسا ہی ہے جیسا ایک پاگل جرمنی میں پیدا ہوا تھا اور اگلے پچاس سال اس قوم نے غلامی کاٹی تھی۔

انہوں نے تحریک انصاف کے مارچ پر تبصرہ کرتے کہا کہ جو صوبے اس قسم کے مارچ کی حمایت کریں گے جو کہ پاکستان کے دارالحکومت پر چڑھائی کے لیے ہوگا وہ آئینِ پاکستان کی خلاف ورزی کریں گے جس کے نتائج نکلیں گے، کیونکہ پھر وفاقی حکومت کو اس پر آئین اختیارات فراہم کرتا ہے۔

دریں اثنا اسلام آباد کیپٹل پولیس نے کہا کہ پنجاب سے اسلام آباد کی طرف سیاسی ریلی نکالنے کی روشنی میں ممکنہ امن و امان کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پیش نظر ریڈ زون کے داخلی و خارجی راستوں پر سیکیورٹی انتظامات سخت کردیے گئے ہیں۔
سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری کردہ بیان میں اسلام آباد پولیس نے واضح کیا کہ کچھ لوگوں نے اپنے سیاسی مطالبات منوانے کے لیے پنجاب سے وفاق کا رخ کیا ہوا ہے، اس لیے کسی بھی ممکنہ امن و امان کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے روڈ زون کی سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔

بیان کے مطابق ریڈ زون کے داخلی و خارجی راستوں پر اضافی پولیس نفری تعینات کرکے سیکیورٹی مزید سخت کردی گئی ہے، پولیس کی طرف سے ریڈ زون کی سیکیورٹی اس لیے بڑھائی گئی ہے کہ اسلام آباد کی ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج زیبا چوہدری کے خلاف متنازع بیان پر عمران خان کے خلاف توہین عدالت کیس میں ممکنہ طور پر فرد جرم عائد ہوسکتی ہے۔

علاوہ ازیں 2 ستمبر کو عمران خان نے شہباز شریف کی زیر قیادت مخلوط حکومت کو خبردار کیا تھا کہ اگر ان کی جماعت کے رہنماؤں اور ورکرز کے خلاف تشدد کا عمل جاری رہا تو وہ اسلام آباد کی طرف مارچ کریں گے۔

انگریزی اخبار ڈان کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد پولیس نے پی ٹی آئی کے ممکنہ مارچ سے نمٹنے کے لیے صوبوں اور مسلح افواج سے 30 ہزار اہلکار طلب کیے ہیں، پولیس افسران نے کہا کہ صوبوں کو ایسی درخواست حکمرانی کرنے والے سیاستدانوں کی طرف سے دی گئی ہدایات کے بعد کی گئی تھی، تاہم اس پر صوبوں سے ابھی تک کوئی جواب نہیں آیا۔

اسلام آباد کے پولیس افسران نے کہا کہ پنجاب پولیس سے 20 ہزار پولیس اہلکار، خیبرپختونخوا حکومت سے 4 ہزار جبکہ رینجزر اور فرنٹیئر کانسٹیبلری (ایف سی) سے 6 ہزار اہلکار فراہم کرنے کی درخواست کی گئی تھی، اس وقت دارالحکومت میں 3 ہزار ایف سی اہلکار موجود ہیں جن کو وفاقی پولیس کی مدد کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

دوسری جانب پی ٹی آئی رہنما شیریں مزاری نے حکومت کی طرف سے ریڈ زون کو بند کرنے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایسا کرنے سے ’امپورٹڈ حکومت‘ کے بارے میں عوام کا خیال تبدیل نہیں ہوگا۔

Related Articles

Back to top button