PTI اپنے آزاد امیدواروں کو فلور کراسنگ سے کیسے روکے گی؟

پاکستان میں عام انتخابات کے بعد اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ کسی حلقے سے آزاد حیثیت میں جیتنے والے امیدوار اس جماعت میں شمولیت اختیار کرتے ہیں جس کے اقتدار میں آنے کا امکان ہو۔ تاہم موجودہ انتخابات میں تحریک انصاف کے حمایت یافتہ آزاد اراکین کی بڑی تعداد میں فتح نے بہت سے آئینی سوالات اٹھا دئیے ہیں اور سیاسی حلقوں میں یہ بات زیر بحث ہے کہ کیا پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ اراکین کے دوسری جماعت میں شمولیت اور فلورکراسنگ پر کیا ان کی نااہلی ہو سکتی ہے؟لاہور سے پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ وسیم قادر کی نون لیگ میں شمولیت پر ایک طرف ایڈووکیٹ گوہر خان نے عدالت جانے کا اعلان کیا ہے تاہم دوسری جانب قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی اپنے آزاد اراکین کو آئینی طور پر کسی بھی جماعت کو جوائن کرنے پر مجبور نہیں کر سکتی اور نہ ہی کسی ناپسندیدہ جماعت میں شمولیت پر ان کیخلاف کوئی قانونی چارہ جوئی کر سکتی ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق اس وقت پاکستان تحریک انصاف کے آزاد حیثیت میں منتخب اراکین کا معاملہ بالآخر عدالتوں میں جاتا نظر آتا ہے کیونکہ ایک طرف ان امیدواروں نے اپنے کاغذاتِ نامزدگی میں پارٹی وابستگی ظاہر کی ہے تو دوسری طرف الیکشن کمیشن انہیں آزاد امیدوار تصور کرتا ہے ایسی صورت میں اگر یہ امیدوار پی ٹی آئی چھوڑ کر اگر کسی دوسری جماعت میں شامل ہوتے ہیں تو کیا اس پر پی ٹی آئی کوئی قانونی کارروائی کر سکتی ہے؟ اس سلسلے میں سابق ڈپٹی اٹارنی جنرل اور اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب حسنین کاظمی کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار اگر دوسری جماعت میں جائیں گے تو یہ فلور کراسنگ تصور ہو گی اور اس پر فلور کراسنگ سے متعلق قانون کا اطلاق ہو گا۔حسنین کاظمی کے مطابق الیکشن کمیشن نے ان امیدواران کو آزاد حیثیت میں الیکشن لڑنے کی اجازت دی، یہ اہم نہیں بلکہ اہم یہ ہے کہ انہوں نے کاغذات نامزدگی میں کیا لکھا، کیا انہوں نے پی ٹی آئی کے ساتھ اپنی وابستگی ظاہر کی، پارٹی وابستگی کے بارے میں کوئی بیان حلفی دیا، جب پارٹی انہیں اور وہ پارٹی کو اون کرتے ہیں تو پھر الیکشن کمیشن کی رائے بے معنی ہو جاتی ہے۔

تاہم دوسری جانب سابق پراسیکیوٹر نیب عمران شفیق ایڈووکیٹ کے مطابق یہ حقیقت ہے کہ پی ٹی آئی حمایت یافتہ امیدواران نے انتخابات آزاد حیثیت میں لڑے اس لیے اگر کوئی منتخب رکن کسی اور سیاسی جماعت کو جوائن کرتا ہے تو پی ٹی آئی اس وابستگی کو عدالت میں چیلنج نہیں کر سکتی کیونکہ ان امیدواران کے پاس تحریک انصاف کا انتخابی نشان نہیں تھا۔ دوسری جانب امجد پرویز ایڈووکیٹ نے کہا کہ گو کہ انتخابات سے متعلق قوانین ان کا تخصص نہیں لیکن اگر امیدواروں نے اپنے کاغذاتِ نامزدگی میں پی ٹی آئی کے ساتھ اپنی وابستگی ظاہر کی ہے تو میرے خیال میں اس پر کوئی آرگیومنٹ عدالت کے سامنے رکھا جا سکتا ہے۔

دوسری طرف اکثر مبصرین اور تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ آزاد امیدواروں کی کسی بھی سیاسی جماعت میں شمولیت قانونی معاملہ تو نہیں مگر اخلاقی معاملہ ضرور ہے۔ پارلیمانی امور کے ماہر ظفر اللہ خان کہتے ہیں کہ پی ٹی آئی کے پاس ایسا کوئی قانونی راستہ نہیں کہ وہ اپنے حمایت یافتہ آزاد امیدواروں کو دوسری سیاسی جماعتوں میں شمولیت سے روک سکیں۔ تحریک انصاف کے پاس محض ’اخلاقی راستہ ہے جس کی سیاست میں بہت کم اہمیت ہے۔‘وہ کہتے ہیں کہ پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد اگر کوئی سیاسی جماعت نہیں بھی جوائن کرتے تو وہ آزاد رہ کر ایک مثال قائم کر سکتے ہیں۔ظفر اللہ نے کہا کہ کسی آزاد امیدوار پر پارٹی ڈسپلن لاگو نہیں ہوتا۔ ’قانون میں کہاں لکھا ہے کہ حلف لیا جائے گا؟ یہ صرف اخلاقی چیز ہے۔ جیتنے کے بعد صورتحال یکسر مختلف ہوجاتی ہے۔‘انھوں نے مثال دی کہ 2014 کے دھرنوں کے دوران کئی لوگوں نے پارٹی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے استعفے نہیں دیے تھے جبکہ عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے موقع پر بھی ان کے لوگ ٹوٹے تھے۔

Related Articles

Back to top button