آشیانہ سکیم،رمضان شوگر ملز کیسز میں حاضری معافی کی درخواستیں منظور

احتساب عدالت لاہورنے وزیراعظم شہباز شریف کی آشیانہ ہائوسنگ سکیم کیس اور وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز کی رمضان شوگر ملز کیس میں حاضری معافی کی درخواستیں منظور کر لیں۔

لاہور کی احتساب عدالت میں وزیر اعظم شہباز شریف اور وزیر اعلی پنجاب حمزہ شہباز نے حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کی تھی۔

وکیل امجد پرویز نے مسلم لیگ (ن) کے دونوں سینئر رہنماؤں کی جانب سے ان کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کی۔ درخواست میں مؤقف اپنایا گیا کہ شہباز شریف اور حمزہ شہباز مصروفیت کے باعث آج عدالت پیش نہیں ہو سکتے، دونوں کی عدم پیشی سے ٹرائل متاثر نہیں ہوگا۔ درخواست میں استدعا کی گئی تھی کہ عدالت شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی آج کی سماعت سے حاضری معافی کی درخواست منظور کرے۔

اسلام آباد کے میریٹ ہوٹل میں نورعالم کا جھگڑا کیوں ہوا؟

دوران سماعت احتساب عدالت نے 16 جولائی کو نیب اور ملزمان کے وکلا کو رمضان شوگر مل ریفرنس میں شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی بریت کی درخواستوں پر دلائل دینے کی ہدایت کر دی۔

یاد رہے کہ نیب نے اکتوبر 2018 کے آغاز میں شہباز شریف کو آشیانہ ہاؤسنگ اسکینڈل میں باضابطہ طور پر گرفتار کیا تھا،6 دسمبر 2018 کواحتساب عدالت میں ہونے والی سماعت میں نیب نے شہباز شریف سے متعلق تفتیشی رپورٹ پیش کی تھی۔ تفتیشی رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ شہباز شریف نے اعتراف کیا کہ انہوں نے 2 کروڑ روپے سے زائد کی رقم بطور کرایہ رمضان شوگر مل کے توسط سے مری میں ایک جائیداد کی لیز کے طور پر حاصل کی۔
خیال رہے کہ آشیانہ اقبال اسکینڈل میں شہباز شریف سے قبل فواد حسن فواد، سابق ڈی جی ایل ڈی اے احد چیمہ، بلال قدوائی، امتیاز حیدر، شاہد شفیق، اسرار سعید اور عارف بٹ کو نیب نے گرفتار کیا تھا، شہباز شریف کو نیب نے جنوری 2016 میں پہلی مرتبہ طلب کیا تھا، ان پر الزام تھا کہ انہوں نے چوہدری لطیف اینڈ کمپنی کا ٹھیکہ منسوخ کرنے کے لیے دباؤ کا استعمال کیا اور لاہور کاسا کپمنی کو جو پیراگون کی پروکسی کمپنی تھی مذکورہ ٹھیکہ دیا۔ رپورٹ کے مطابق شہباز شریف کے اس غیر قانونی اقدام سے سرکاری خزانے کو 19 کروڑ کا نقصان ہوا۔

وزیر اعظم شہباز شریف پر یہ بھی الزام ہے کہ انہوں نے ‘پی ایل ڈی سی’ پر دباؤ ڈال کر آشیانہ اقبال کا تعمیراتی ٹھیکہ ایل ڈی اے کو دلوایا لیکن ایل ڈی اے منصوبہ مکمل کرنے میں ناکام رہا اور اس سے 71 کروڑ روپے سے زائد کا نقصان ہوا، انہوں نے نے پی ایل ڈی سی پر دباؤ ڈال کر کنسلٹنسی کا ٹھیکہ ایم ایس انجیئنر کنسلٹنسی سروس کو 19 کروڑ 20 لاکھ میں ٹھیکہ دیا جب کہ نیسپاک نے اس کا تخمینہ 3 کروڑ لگایا تھا۔

خیال رہے کہ نیب نے شہباز شریف پر بحیثت وزیر اعلیٰ پنجاب اپنے بیٹوں کی زیر ملکیت شوگر مل کو فائدہ پہنچانے کے لیے چنیوٹ میں ابتدائی طور پر نالا بنانے کی ہدایت دینے اور اپنے بیٹوں کی زیر ملکیت شوگر ملز کو فائدہ پہنچانے کے لیے اختیارات کا ناجائز استعمال کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔3 دسمبر2018 کو پولیس نے رمضان شوگر ملز کی اعلیٰ انتظامیہ سمیت 18 افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا اور ان میں سے 11 افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔ ان پر الزام تھا کہ انہوں نے مقامی نالے سے ملز تک نالے کی تعمیر کے لیے کسانوں سے چند کاغذوں پر اپنے حق میں دستخط کرا کر انہیں بے وقوف بنایا اور انہیں مرغیاں اور گائے دے کر دستخط کرا لیے۔

نیب نے بعد ازاں مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف اور ان کے بیٹے حمزہ شہباز پر ملز کے حوالے سے احتساب عدالت میں ریفرنس دائر کیا تھا اور انہیں مرکزی ملزم نامزد کیا گیا تھا۔ نیب نے الزام عائد کیا تھا کہ باپ بیٹے کے فراڈ اور دھوکا دہی کے باعث قومی خزانے کو 21 کروڑ 30 لاکھ روپے کا نقصان ہوا، تاہم دونوں ملزمان نے صحت جرم سے انکار کیا تھا، اس کے بعد لاہور کی احتساب عدالت نے رمضان شوگر ملز ریفرنس میں شہباز شریف اور ان کے بیٹے حمزہ شہباز پر فرد جرم عائد کی تھی، دونوں رہنماؤں کے خلاف اختیارات کا غلط استعمال اور عوامی فنڈز کے غیر قانونی استعمال کے چارجز عائد کیے گئے تھے، مزید براں نیب نے رمضان شوگر ملز کیس میں شہباز شریف اور حمزہ شہباز کے خلاف ضمنی ریفرنس دائر کیا تھا۔

Related Articles

Back to top button