فیصلہ خلاف آنے پرانصاف تارتارہونے کا کلچربن گیا ہے

سپریم کورٹ نے صدارتی ریفرنس پر سماعت کے دوران ریمارکس دیئے ہیں کہ کلچر بن گیا ہے کہ فیصلہ حق میں آئے تو انصاف ہوا، اور اگر خلاف آئے تو انصاف تارتار ہوا۔

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عمر عطابندیال کی سربراہی میں جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منیب اختر، جسٹس مظہر عالم خان میاں خیل اور جسٹس جمال خان مندوخیل پر مشتمل 5 رکنی بینچ نےصدارتی ریفرنس پر سماعت کی۔

سماعت کے دوران پیپلز پارٹی کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پارٹی میں رہتے ہوئے دوسری جماعت کو ووٹ دینا فلور کراسنگ ہوتا ہے، منحرف اراکین کی تاحایات نااہلی پر کوئی آئینی دلیل نہیں دی گئی، آرٹیکل 62 اور 63 میں 1973 سے آج تک بہت پیوند لگے ہیں۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ بظاہر آرٹیکل 63 اے کا مقصد پارٹی سے انحراف روکنا تھا، دیکھنا ہے کہ منحرف ہونے کی سزا اتنی سخت ہے کہ رکن کے دل میں ڈر پیدا ہو یا نہیں،

تاریخ گواہ ہے کہ پارٹی سے انحراف صرف ضمیر جاگنے پر نہیں ہوتا، کئی مغربی ممالک میں پارٹی سے انحراف رکوانے کی کوشش ہے، پارٹی سے انحراف کی سزا کیا ہو گی یہ اصل سوال ہے؟۔ جسٹس جمال خان نے استفسار کیا اگر پارٹی سے انحراف جرم ہے تو مجرم کا ووٹ کیوں شمار ہوتا ہے؟۔کیا ممبر کی آواز پر پارٹی کے خلاف ووٹ دینا جرم ہے، یہ کیسا جرم ہے جس کی آئین میں اجازت دی گئی ہے۔

چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ عدالت نے سینیٹ الیکشن کیس میں رائے دی کسی نے اسکی پیروی نہیں کی، سیاسی جماعت پارٹی انحراف پر نیوٹرل کیوں ہیں، پارٹی سے انحراف کرنے والے کو دوسری جگہ عہدہ دیدیا جاتا ہے۔

پیپلز پارٹی کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ 1973 کے آئین میں آرٹیکل 96 پارٹی انحراف سے روکنا تھا، 1973 کے آئین میں منحرف رکن کا ووٹ شمار نہیں کیا جاسکتا تھا، فوجی آمر نے آئین میں آرٹیکل 62-63 کو شامل کیا، ہمارا ملک اس وقت انارکی کی جانب بڑھ رہا ہے، کوئی سپریم کورٹ فیصلے کو ماننے کو تیار نہیں ہے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ کلچر بن گیا ہے کہ فیصلہ حق میں آئے تو انصاف ہوا، خلاف آئے تو انصاف تار تار ہو گیا۔

بینچ کے رکن جسٹس جمال خان نے کہا کہ عوام کو یہ بھی علم ہوتا ہے کہ فیصلہ کیا آیا ہے، جو بات لیڈر کرتا ہے، عوام اسکے پیچھے چل پڑتی ہے۔

سپریم کورٹ‌ کا وزیراعظم آزاد کشمیر کے انتخاب کا حکم

جسٹس عمر عطا بندیال نے کہافرض کریں وزیراعظم کے خلاف چوتھے سال عدم اعتماد آتی ہے، منحرف اراکین کے خلاف ریفرنس الیکشن کمیشن جاتا ہے، الیکشن کمیشن اور سپریم کورٹ سے ایک سال فیصلے ہونے میں لگتا ہے، فیصلے تک اسمبلی مدت پوری کر جائے تو منحرف رکن کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوگی۔

عدالت عظمیٰ نے کیس کی سماعت کل دوپہر ایک بجے تک ملتوی کر دی۔

Related Articles

Back to top button