کیا حکومت ایک بار پھر طالبان سے مذاکرات کرنے والی ہے؟

12 دسمبر 2023 کو ڈیرہ اسماعیل خان میں ’تحریک جہاد پاکستان‘ نامی شدت پسند تنظیم کے حملے کو ملکی تاریخ میں سکیورٹی فورسز پر ایک بڑا حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔ اس حملے کے دو روز بعد یعنی 15 دسمبر کو قریبی ضلع ٹانک میں پہلی مرتبہ منظر عام پر آنے والی ’انصار الجہاد‘ نامی تنظیم نے بھی اسی طرز کے حملے کی کوشش کرتے ہوئے پولیس مرکز کو نشانہ بنایا۔

یہ واقعات ملک میں عسکریت پسندوں کے اُن بڑھتے حملوں کا تسلسل ہیں جن کا آغاز تحریک طالبان نے گذشتہ سال نومبر میں حکومتِ پاکستان کے ساتھ ’مذاکرات میں ناکامی‘ کے بعد جنگ بندی کے خاتمے کے اعلان کے ساتھ کیا۔سکیورٹی فورسز کے خلاف حملوں میں شدت لانے کے ساتھ یہ نئے گروہ بظاہر ایک سیاسی حکمت عملی کا حصہ ہیں جس کا مقصد افغانستان اور پاکستان کے درمیان بڑھتی کشیدگی میں کسی سیاسی مصلحت کا شکار بننے سے بچنے کے لیے اس جنگ کو مزید پیچیدہ بنانا ہے۔

28 نومبر 2022 سے لے کر اب تک جنگ بندی کے خاتمے کے لگ بھگ ایک سال کے دوران تحریک طالبان کے سکیورٹی اہلکاروں پر حملوں کی شدت اور تعداد میں کئی گنا اضافہ ہوا۔ اس دورانیے میں تحریک طالبان نے 890 حملوں کا دعویٰ کیا جبکہ گذشتہ سال کے اسی دورانیے میںی ٹی پی کے دعوؤں کے مطابق یہ تعداد 245 کے قریب تھی۔

حکومت کی جانب سے افغان طالبان سے ٹی ٹی پی کو پٹی ڈالنے کے مطالبے کے بعد پہلے تو  ’الاحرار‘ نامی دھڑے نے دھماکوں کی ذمہ داری قبول کرنی شروع کی تاہم بعد ازاں’تحریک جہاد پاکستان‘ نے اپنے قیام کا اعلان کرتے ہوئے اسی بیانیے کے تحت سکیورٹی فورسز کے خلاف جنگ کا اعلان کیا جو تحریک طالبان کا مرکزی بیانیہ رہا ہے۔اس تنظیم نے اپنے قیام سے اب تک 11 حملے کیے ہیں جس میں دس حملوں میں 31 خودکش بمباروں نے سکیورٹی فورسز کے قافلوں اور مراکز کو نشانہ بنایا۔

ان حملوں میں رات کی تاریکی میں فوجی مراکز پر جدید ہتھیاروں سے لیس چار سے سات خودکش حملہ آوروں کے حملے شامل ہیں، جن میں لیزر گن نامی تھرمل سکوپ پر مشتمل نائٹ ویژن بندوقوں کا بھی استعمال کیا گیا۔پاکستان میں سکیورٹی فورسز پر حملوں میں لیزر گن کا آغاز سابق افغان حکومت کے خاتمے کے بعد شروع ہوا ہے جو تحریک طالبان کے حملوں کا اہم جزو ہے تاہم اس ہتھیار کے سبب تحریک جہاد نے رات کی تاریکی میں حملوں سے سکیورٹی فورسز کو نقصان پہنچایا۔

اگرچہ تحریک طالبان پاکستان نے جولائی 2023 میں تحریک جہاد کو اپنی ’برادر جہادی‘ تنظیم قرار دیا جبکہ القاعدہ کی پاکستان سمیت جنوبی ایشیا کی علاقائی شاخ ’القاعدہ برصغیر‘ نے بھی اپنی رسمی مطبوعات میں اس شدت پسند تنظیم کی حمایت کی تاہم یہ اب تک ایک پراسرار تنظیم رہی ہے۔پاکستانی حکام کا دعویٰ ہے کہ تحریک جہاد دراصل ٹی ٹی پی کا ایک فرضی نام ہے جس کا مقصد بڑے حملوں کی صورت میں کابل پر تحریک طالبان کے خلاف اقدام کے لیے اسلام آباد کے دباؤ کو غیر مؤثر کرنے کی کوشش ہے اور پاکستان میں شدت پسندی پر نظر رکھنے والے بعض ماہرین کا بھی یہی خیال ہے۔ تاہم اب تک ایسے شواہد سامنے نہیں آئے جس سے ان دونوں تنظیموں کا مبینہ پس پردہ تعلق ثابت ہو۔البتہ اس پراسراریت کی وجہ سے تحریک جہاد کے حملوں کی صورت میں پاکستانی حکام کا مطالبہ کابل سے تحریک طالبان کے خلاف کارروائی کا رہا ہے۔

تحریک جہاد کے برعکس 15 دسمبر کو انصار الجہاد نے اپنے قیام کے ساتھ ہی ایک ویڈیو کے ذریعے اپنے چند ارکان اور جھنڈے سمیت تفصیلی موقف پیش کرتے ہوئے اپنی تنظیم کے سربراہ اور ترجمان کے ساتھ چھ رکنی شوریٰ کے ناموں کا بھی اعلان کیا۔

تاہم انصار الجہاد نے اپنے پیغام میں یہ واضح کیا کہ اس کے قیام کا مقصد سیاسی مصلحتوں کی بنا پر دیگر تنظیموں کو درپیش مشکلات کی وجہ سے سکیورٹی فورسز کے خلاف جنگ کی بقا و تقویت ہے۔ انصار الجہاد کے اپنے پیغام میں پاکستانی اور افغان عوام سمیت دنیا بھر کے جنگجوؤں سے سکیورٹی فورسز کے خلاف جنگ میں حمایت کا مطالبہ کافی تشویشناک ہے کیونکہ تحریک طالبان نے گذشتہ چند سال میں اس جنگ میں غیر ملکی جنگجوؤں کی شمولیت پر پابندی عائد کرتے ہوئے اس جنگ کو فقط عسکریت پسندوں اور سکیورٹی فورسز کے درمیان محدود کرنے کی پالیسی اپنائی ہے۔

ماہرین کے مطابق انصار الجہاد ان قدغنوں سے بے نیاز نظر آتی ہے اور دراصل یہ بے نیازی ایک پیغام ہے کہ تحریک طالبان کو دباؤ سے ختم کرنے کی صورت میں ریاست مخالف عسکریت پسند چھوٹے گروہوں میں تقسیم ہو کر اس جنگ کو پاکستان سمیت بیرونی ممالک کے لیے ایک مشکل بنا دیں گے۔

سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان کے تمام تر احتجاج کے باوجود افغان طالبان پاکستان کی موجودہ سیاسی و فوجی قیادت کی پالیسیوں کو پاکستان میں عسکریت پسندوں کے بڑھتے حملوں کا سبب قرار دیتے ہیںاس پیچیدہ صوتحال سے کابل اور اسلام آباد کے تعلقات میں ناقابل تصور بگاڑ آ چکا ہے جس سے خطے کو ایک غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہے جو امریکہ سمیت دیگر عالمی و علاقائی قوتوں کی تشویش کا باعث بنتا جا رہا ہے۔

صحافی اعزاز سید نے اپنے 12 دسمبر کے وی لاگ میں دعویٰ کیا کہ حکومت اور تحریک طالبان کے درمیان مذاکرات کی پسِ پردہ کوششیں جاری ہیں اور اس سلسلے میں ایک تیسرے ملک میں افغان طالبان کی سرپرستی میں فریقوں کی ملاقاتیں بھی ہو چکی ہیں۔اس کے چند روز بعد پاکستانی میڈیا میں ملک کے سینیئر سیاستدان مولانا فضل الرحمان کا نام اُبھرنے لگا کہ وہ مذاکرات دوبارہ شروع کرانے کے لیے متحرک ہیں۔

تاہم دوسری جانب فریقین کے درمیان ماضی کے مذاکرات میں کردار ادا کرنے والے افغان طالبان کے ایک رکن نے کابل سے اس خبر کی تردید کرتے ہوئے ایسی کسی پیشرفت سے لاعلمی ظاہر کی۔دوسری طرف تحریک طالبان کے ایک اہم رکن نے دوبارہ مذاکرات کے حوالے سے کسی رسمی رابطے سے لاعلمی ظاہر کی تاہم انھوں نے بتایا کہ اگر مولانا فضل الرحمان اس سلسلے میں کوئی کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہوئے تو شاید اس سے بہتر نتائج سامنے آئیں۔

اس دوران 16 دسمبر کو اسلام آباد میں افغان طالبان کے سفیر سردار احمد شکیب کی جانب سے مولانا فضل الرحمان کو دورہ کابل کی دعوت اور اگلے روز طالبان وزرات داخلہ کے ترجمان عبدالمتین قانع کا پہلی مرتبہ طالبان حکومت میں تحریک طالبان پاکستان کے جنگجوؤں کی رسمی گرفتاری کی تصدیق مولانا فضل الرحمان کے مذاکرات میں ممکنہ کردار کے دعوؤں کو تقویت دیتا ہے۔

تاہم سینیئر افغان صحافی سمیع یوسفزئی کا ماننا ہے کہ مولانا فضل الرحمان ایک تجربہ کار سیاستدان ہیں اور اس حساس معاملے میں شاید ہی کوئی کردار ادا کر رہے ہوں کیونکہ 2013 میں بھی انھوں نے حکومت اور تحریک طالبان کے درمیان مذاکرات میں کردار سے معذرت کی تھی۔سمیع یوسفزئی کے مطابق اگر مولانا فضل الرحمان اب اس کے لیے تیار بھی ہوں تو تب بھی ان کا کردار محدود رہے گا کیونکہ افغان اور پاکستانی طالبان اپنے نظریے کے مخالف کسی کی بات ماننے کے لیے تیار نہیں، چاہے وہ ان کے مذہبی اساتذہ ہی کیوں نہ ہوں۔

البتہ صحافی اعزاز سید کی رائے ہے کہ اُن کی معلومات کے مطابق ان حالیہ مذاکرات کی کوششیں مولانا فضل الرحمان کا نام آنے سے پہلے سے جاری ہیں جس میں موثر کردار ان افراد کا ہے جو ماضی میں بھی یہ مذاکرات کروا چکے ہیں مگر اس مسئلے کی حساسیت کی وجہ سے ان معلومات کا اب منظر عام پر آنا قبل از وقت ہے۔اعزاز سید کے مطابق مولانا کی شمولیت کا بظاہر مقصد ان کوششوں کو سیاسی طور پر تسلیم کرانا ہے۔

Related Articles

Back to top button