ڈیورنڈ لائن پر پاکستان اور طالبان میں کشیدگی کیوں ہے؟

پاک افغان ڈیورنڈ لائن پر باڑ ہٹانے کے حوالے سے پاکستان اور طالبان کے درمیان تلخی بڑھنے کا خدشہ ہے کیونکہ ڈیورنڈ لائن کو بین الاقوامی سرحد نہ ماننے کا جو موقف سابق صدور حامد کرزئی اور اشرف غنی حکومت کا تھا، وہی موقف طالبان کا بھی ہے۔

واضح رہے کہ باڑ کے مسئلے پر جو حالیہ کشیدگی پیدا ہوئی اس پر طالبان کا یہ موقف ہے کہ پاکستان نے افغانستان کے حدود میں باڑ لگائی تھی جس کو ہٹا دیا گیا اور طالبان کے اس دعویٰ میں اگر حقیقت ہے تو پھر افغانستان میں طالبان کی حکومت نے صحیح قدم اُٹھایا لیکن اب مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان کی حکومت اور فوج کے تعلقات عامہ کا ادارہ اس پر مکمل خاموش ہے اور انھوں نے تاحال کوئی موقف نہیں دیا جس سے ابہام پیدا ہورہا ہے۔

عسکری ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان طالبان حکومت کے برسراقتدار آنے کے بعد یہ توقع کر رہا تھا کہ سابق افغان حکومتوں کے برعکس اب طالبان ڈیورنڈ لائن پر پاکستان کا موقف تسلیم کر لیں گے اور یہ مسئلہ ہمیشہ کے لئے ختم ہوجائے گا۔ لیکن ان توقعات کے برعکس حال ہی میں سرحد پر پاکستان کی جانب سے لگائی گئی باڑ کو اکھاڑنے کے بعد سرحدی تنازعہ مزید گھمبیر ہوگیا ہے۔

واضح رہے کہ چار سال قبل پاکستان نے سرحد پار سے دہشتگردوں کی نقل و حرکت کنٹرول کرنے کے لئے پاک افغان بارڈر ڈیورنڈ لائن پر باڑ لگانے کا سلسلہ شروع کیا ہے اور حکومتی اور قومی سلامتی کے اداروں کے مطابق پاک افغان بارڈر پر 90 فیصد باڑ لگایا جاچکا ہے۔ طالبان کی آمد سے پہلے اشرف غنی حکومت کی جانب سے باڑ پر لفظی جنگ کے سوا کوئی کشیدگی نظر نہیں آئی ، لیکن افغانستان میں طالبان کے برسراقتدار آنے کے بعد بارڈر پر کشیدگی واضح ہے۔

سوشل میڈیا پر ایسی کئی ویڈیوز گردش کررہی ہے جس میں افغانستان کے صوبہ ننگرہار میں طالبان کے مقامی کمانڈر پاکستانی چیک پوسٹوں میں تعینات سیکیورٹی فورسز کے ساتھ اونچی آواز میں بات کر رہے ہیں اور ان کو دھمکیاں دے رہے ہیں کہ دوبارہ سے اگر افغانستان کی حدود میں باڑ لگانے کی کوشش کی گئی تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔

طالبان کا دعویٰ ہے کہ پاکستان نے افغانستان کی حدود میں باڑ لگانے کا سلسلہ شروع کیا ہے جبکہ دوسری جانب پاکستان نے افغانستان کی حدود میں باڑ لگانے کی تردید کی ہے اور مسلسل موقف اپنایا جا رہا ہے کہ پاکستان اپنے حدود کے اندر بارڈر پر باڑ لگا رہے ہیں۔

جماعت اسلامی نے سندھ کے بلدیاتی نظام کو چیلنج کر دیا

واضح رہے کہ ڈیورنڈ لائن کے نام سے منسوب پاک افغان سرحد تقریباً 2400 کلومیٹر پر مشتمل ایک طویل سرحد ہے اور پاکستان نے افغانستان کے علاوہ ایران کی سرحد کے ساتھ بھی باڑ لگانے کا منصوبہ چند برس پہلے شروع کیا تھا۔ سرحد پر باڑ لگانے کے عمل کے دوران افغانستان کی جانب سے متعدد حملے ہو چکے ہیں جس میں پاکستان کا جانی نقصان بھی ہوا ہے۔

بدقسمتی سے افغانستان میں طالبان کے برسراقتدار انے کے بعد بھی سرحد پار سے حملوں کا سلسلہ بند نہیں ہوسکا اور رواں سال مئی میں افغانستان کی جانب پاکستان کے ضلع ژوب کے قریب ملنے والی سرحد پر حملہ کیا تھا۔ اس میں حملہ آوروں کے بارے میں معلوم نہیں ہو سکا کہ وہ کون تھے لیکن بظاہر یہی کہا گیا تھا کہ شدت پسندوں نے پاکستان کی ایف سی کے اہلکاروں پر حملہ کیا تھا، اس حملے میں چار اہلکار شہید ہو گئے تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ پاک افغان سرحد پر بھی کشیدگی جاری ہے اور رپورٹس کے مطابق پاکستانی چیک پوسٹوں کو مسلسل نشانہ بنایا جارہا ہے جس میں سیکیورٹی فورسز کے جوان قربانیاں دیں رہے ہیں۔

ڈیورنڈ لائن تنازعے کو لے کر کے پاکستان اور طالبان میں کشیدگی پائی جاتی ہے حالانکہ پاکستان پر مسلسل یہ الزام لگ رہا ہے کہ طالبان پاکستان کے بہت قریب ہے اور وہ پاکستان کے ہدایات پر عمل پیرا ہے جبکہ دوسری جانب بارڈر پر حالیہ کشیدگی اور طالبان کی جانب سے بین الاقوامی سرحد ڈیورنڈ لائن پر مسلسل متنازعہ بیانات نے نئے بحث کو جنم دیا اور یہ سوال اُٹھ رہا ہے کہ اگر پاکستان، افغان طالبان کے اتنے قریب ہے تو پھر طالبان کی جانب سے بارڈر پر ایسے واقعات کیوں پیش آرہے ہیں۔

دفاعی تجزیہ کاروں کی رائے میں افغانستان میں پاکستان کے حوالے سے ایک نفرت آمیز سوچ موجود ہے۔ افغان عوام سمجھتے ہیں کہ افغانستان کی تباہی کا ذمہ دار پاکستان ہے جبکہ دوسری جانب پاکستان اور افغان طالبان کے تعلقات تحریک طالبان کے مستقبل کے ساتھ منسلک ہیں کیونکہ کالعدم تحریک طالبان کی تمام لیڈر شپ افغانستان میں موجود ہے جو پاکستان میں مسلسل حملے کررہے ہیں۔

تجزیہ کاروں اور سیکیورٹی امور کے ماہرین کے مطابق ماضی کے مقابلے میں پاکستانی طالبان میں گروپ بندیاں ختم ہوئی ہے اور اب وہ متحد ہوچکے ہیں اور سرحد کے اس پار پاکستان میں حملوں میں تیزی آئی ہے۔ ظاہر ہے کہ ایسے میں پاکستان پر دباؤ بڑھے گا تو پاکستان سرحد پار افغانستان میں جوابی کاروائی کریگا جس سے تلخی بڑھے گی اور تعلقات مزید خراب ہونگے۔

Related Articles

Back to top button