پنجاب میں ضمنی انتخابات کا بڑا میدان سج گیا

پاکستان مسلم لیگ نواز (پی ایم ایل این) اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) آج صوبائی اسمبلی کی 20 نشستوں پر ضمنی انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں، سیاسی پنڈت اسے دونوں بڑے حریفوں کی سیاست کے لیے ‘زندگی اور موت’ کا معاملہ قرار دے رہے ہیں جس کے نتائج صوبے میں دونوں جماعتوں کا سیاسی مستقبل طے کریں گے۔

20 میں سے خاص طور پر 5 حلقوں میں فوج سمیت قانون نافذ کرنے والے اداروں کو کسی بھی قسم کے پر تشدد واقعے سے بچنے کے لیے الرٹ رکھا گیا ہے، جن میں سے 4 لاہور میں اور ایک ملتان میں ہے۔

کیا حکومت آئین شکنی پر آرٹیکل 6 کی کارروائی کرے گی؟

اگر پی ٹی آئی آج اکثریتی نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو وہ حمزہ شہباز کو پنجاب کے وزیر اعلیٰ کے عہدے سے ہٹا سکتی ہے جو کہ شریف خاندان اور خاص طور پر حمزہ شہباز کے والد وزیر اعظم شہباز شریف کے لیے قابل قبول نہیں ہو سکتا کیونکہ یہ ان کی حکومت کو صرف مرکز تک محدود کر دے گی۔

شریف خاندان اس بات سے بھی واقف ہیں کہ صوبے میں وزارت اعلیٰ کے عہدے کے لیے پی ٹی آئی اور پاکستان مسلم لیگ (ق) کے مشترکہ امیدوار پرویز الٰہی پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کے لیے ایک ڈراؤنا خواب ثابت ہوں گے اور ممکن ہے کہ وہ عمران خان کے ساتھ اتحاد کرکے آئندہ عام انتخابات میں ان کے سیاسی گڑھ کو فتح کر لیں۔

لہٰذا مسلم لیگ (ن) کی پوری کوشش ہوگی کہ اس کے کارکنان اس وقت تک آرام نہ کریں جب تک کہ ہر ووٹر گھر سے نکل کر آج پولنگ اسٹیشن کا رخ نہ کرلے۔

پی ٹی آئی کے لیے آج کے ضمنی انتخابات کا مطلب شریفوں اور زرداریوں کو شکست دینے سے کہیں زیادہ ہے، عمران خان اور ان کے ساتھیوں نے اس مقابلے کو اچھائی اور برائی کے درمیان جنگ اور ملکی معاملات میں مبینہ بیرونی مداخلت کے خلاف مزاحمت قرار دیا ہے۔

سابق وزیر اعظم نے اپنی ٹائیگر فورس کو تمام پولنگ اسٹیشنز پر الرٹ رہنے کا حکم دیا ہے تاکہ مسلم لیگ (ن) کی جانب سے دھاندلی کی کسی بھی کوشش کو ناکام بنایا جا سکے۔

گزشتہ شب مسلم لیگ (ن) کے رکن صوبائی اسمبلی میاں جلیل شرقپوری نے اپنا استعفیٰ اسپیکر پرویز الٰہی کو پیش کر دیا، ان کا استعفیٰ خانیوال سے مسلم لیگ (ن) کے ایک اور رکن صوبائی اسمبلی فیصل نیازی کے اپنی نشست چھوڑنے کے ایک روز بعد سامنے آیا۔

حمزہ شہباز کے بطور وزیراعلیٰ رہنے کے لیے مسلم لیگ (ن) کی زیرقیادت اتحادی حکومت کو اسمبلی میں 186 ارکان کی اکثریت حاصل کرنے کے لیے آج کے ضمنی انتخابات میں کم از کم 10 نشستیں درکار ہیں، جب کہ پرویز الٰہی کو حمزہ شہباز شریف کی جگہ لینے کے لیے 13 نشستیں درکار ہیں۔

پنجاب اسمبلی میں اس وقت ارکان کی تعداد 350 ہے، پی ٹی آئی کے 163 اور اس کی اتحادی مسلم لیگ (ق) کے 10 ارکان ہیں، مسلم لیگ (ن) کے ایوان میں 164 ارکان ہیں جب کہ اس کی اتحادی جماعت پیپلز پارٹی کے 7، 4 آزاد اور ایک کا تعلق راہ حق پارٹی ہے۔

مسلم لیگ (ن) کے ناراض رہنما اور رکن صوبائی اسمبلی چوہدری نثار علی خان نے مبینہ طور پر وزیراعلیٰ کے عہدے کے لیے کسی بھی امیدوار کے حق میں ووٹ دینے سے انکار کر رکھا ہے۔

پارٹی ذرائع نے بتایا کہ اگر ضمنی انتخابات کے نتائج دونوں جماعتوں کو یکساں پوزیشن میں رکھتے ہیں تو باغی اراکین صوبائی اسمبلی کے استعفوں کی صورت میں حمزہ شہباز کے لیے مزید سرپرائز سامنے آسکتا ہے۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کی جانب سے اپریل میں پنجاب کے وزیراعلیٰ کے انتخاب میں حمزہ شہباز کو ووٹ دینے پر پی ٹی آئی کے منحرف ارکان اسمبلی کو نااہل قرار دینے کے بعد 25 نشستوں میں سے 5 مخصوص نشستوں کے علاوہ 20 خالی نشستوں پر آج پولنگ ہو رہی ہے، سپریم کورٹ کی ہدایت پر 22 جولائی کو وزارت اعلیٰ کے عہدے کے لیے دوبارہ انتخاب ہوگا۔

گزشتہ روز دونوں حریف سیاسی جماعتوں نے ایک دوسرے پر دھاندلی کے الزامات لگائے، پی ٹی آئی کی قیادت کا الزام ہے کہ حکومت ریاستی مشینری کو الیکشن پر اثر انداز ہونے کے لیے استعمال کر رہی ہے، اس نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ ای سی پی نے ضمنی انتخابات میں دھاندلی کے لیے مسلم لیگ (ن) کے ساتھ ملی بھگت کی ہے۔

ان الزامات کے ثبوت کے طور پر پی ٹی آئی کی جانب سے ووٹر لسٹوں میں مبینہ تبدیلی کا حوالہ دیا گیا تاہم الیکشن کمیشن ان الزامات کی تردید کرتا ہے۔

سابق وزیراعظم اور چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کا خیال ہے کہ آج ہونے والے انتخابات میں دھاندلی کے لیے مسلم لیگ (ن)، ای سی پی اور کچھ پوشیدہ عناصر ان کے خلاف اکٹھے ہو گئے ہیں۔

اپنے کارکنان کو اس حوالے سے متنبہ کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ تمام ‘لوٹے’ (پی ٹی آئی کے 20 سابق اراکین اسمبلی جو اب مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ پر الیکشن لڑ رہے ہیں) خود کو پی ٹی آئی کے انتخابی نشان بلے سے مار کھاتے دیکھیں گے، انہوں نے پنجاب کے عوام پر بھی زور دیا کہ وہ حمزہ شہباز کی تیار کردہ دھاندلی کی سازش کو ناکام بنائیں۔

پی ٹی آئی اور عمران خان کئی ہفتوں سے اسٹیبلشمنٹ پر زور دے رہے ہیں کہ وہ غیر جانبدار رہے اور کسی بھی پارٹی کے حق میں سیاسی معاملات میں کوئی مداخلت نہ کرے۔

مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے انتخابات کو ’سلیکشن نہیں بلکہ الیکشن‘ قرار دیا، انہوں نے ڈسکہ ضمنی انتخابات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دھاندلی پی ٹی آئی کے ڈی این اے میں ہے۔

وزیراعلیٰ حمزہ نے بھی اس معاملے پر اپنا تبصرہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ عوام اپنے ووٹ کی طاقت سے عمران خان کے ‘فراڈ بیانیے اور جھوٹے نعرے کو مسترد کر دیں گے۔انہوں نے انتظامیہ اور پولیس کو ہدایت کی کہ ووٹرز کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے اور شرپسندوں کو پولنگ کے روز ماحول خراب کرنے کی اجازت نہ دی جائے۔

دریں اثنا پنجاب حکومت نے لاہور کے حلقہ پی پی 168 سے خالد حسین نامی ایک شخص کو ووٹ خریدنے کے الزام میں گرفتار کر لیا۔

صوبائی انتظامیہ نے دعویٰ کیا کہ ملزم کا تعلق پی ٹی آئی سے ہے اور اس نے پی ٹی آئی رہنما فرخ حبیب کے کہنے پر 7 ہزار سے زائد ووٹ خریدے تھے۔

سابق وزیر مملکت نے اس واقعہ کو مسلم لیگ (ن) کے روایتی ہتھکنڈے قرار دیا، انہوں نے زور دے کر کہا کہ ووٹ کی خریداری سے مسلم لیگ (ن) پی ٹی آئی سے زیادہ بخوبی سے واقف ہے۔

علاوہ ازیں لاہور پولیس نے پی ٹی آئی رہنما مقبول گجر کو پنجاب میں داخلے پر پابندی کی خلاف ورزی کرنے پر شہر سے باہر بھیج دیا، حکومت نے مقبول گجر اور سابق وفاقی وزیر علی امین علی گنڈا پور کو ضمنی انتخابات کے ایک روز بعد تک صوبے میں داخلے سے روک دیا تھا۔

پابندی کا جواز پیش کرتے ہوئے وزیر داخلہ پنجاب عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ یہ پابندی اس ممکنہ خدشے کے تحت عائد کی گئی تھی کہ ضمنی انتخابات کے دوران امن و امان کو خراب کرنے کے لیے خیبر پختونخوا اور آزاد جموں و کشمیر سے سیاسی رہنماؤں کے ہمراہ مسلح گروہ پنجاب میں داخل ہو سکتے ہیں۔

دریں اثنا آئی ایس پی آر نے گزشتہ روز اعلان کیا کہ ضمنی انتخابات کے دوران امن و امان کی صورتحال بگڑنے کی صورت میں فوج کے دستے ‘فوری ری ایکشن فورس’ کے طور پر کام کریں گے۔

Related Articles

Back to top button