چیلنجز سے نمٹنےکیلئے چینی دوستوں کے تعاون کی ضرورت ہے

وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہےکہ ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کیلئے مالی، امدادی اور تحریری شرائط کی ضرورت نہیں ہے بلکہ ہمیں اپنے چینی دوستوں کے تعاون کی ضرورت ہے،پاکستان اور چین کی دوستی خطے میں سب سے پرانی دوستی ہے، چین ہمارا سچا اور با اعتبار دوست ہے اور ہر مشکل وقت میں پاکستان کے ساتھ کھڑا رہا ہے۔

اسلام آباد میں چینی سرمایہ کارکمپنیوں کے نمائندگان سے ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف نے کہاکہ میرا خیال ہے کہ پاکستان اور چین کی دوستی گہری اور مضبوط ہے اور یہ شہد کی طرح میٹھی ہے، یہ دوستی طوفان، زلزلوں اور سیلابوں میں بھی نہیں لڑکھڑائی اور ہر گزرتے لمحے کے ساتھ مضبوط ہوئی ہے،میری یہ خوش نصیبی ہے کہ میں نے آپ سے ملاقات کی تاکہ یہ پیغام دے سکوں کہ پاکستان ہر شعبے میں چین کے تعاون کا متلاشی ہے،میں ایمانداری سے کہہ رہا کہ گزشتہ دو دہائیوں میں چین کی بے مثال ترقی کی یہ پاکستان کے لیے ایک نمونہ ہے، میں نے جب چین کا دورہ کیا تو یہ ترقی میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھی۔

انہوں نے کہاچین نے ہر شعبے میں ترقی کی، اس میں آئی ٹی ، تجارت اور تمام تر شعبہ جات شامل ہیں انہوں نے لاکھوں لوگوں کو غربت سے نکالا اور زراعت کے قوانین میں اصلاحات کا نفاذ کرتے ہوئے پیداوار میں اضافہ کیا،یہ وہ ماڈل ہے جس کے نقشے قدم پر پاکستان کو چلنے کی ضرورت ہے یہ پاکستان کو جدت کی طرف لے کر جائے گا،شہبا زشریف نے کہایہ کہنا آسان ہے لیکن اس پر عمل کرنا مشکل ہے،ہم نے عزم کیا ہے کہ ہم چیلنجز سے نمٹیں گے، اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ یہ مشکل ہے، لیکن ہم اس سے نمٹتے ہوئے تمام مزاحمتیں ہٹائیں گے اور راستے میں حائل رکاوٹوں کے تمام تر پہاڑوں کو سر کریں گے۔

وزیر اعظم نے کہاان مشکلات سے نمٹنے کے لیے ہمیں مالی شرائط، تحریری شرائط اور امداد کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ ہمیں چینی دوستوں کی مدد کی ضرورت ہے جو سرمایہ کاری، درآمدات، برآمدات، میں تعاون کرتے ہوئے ہماری مہارت کو فروغ دیں،چین ہماری مدد کرے اور ہمیں بتائے کہ کس طرح زرعی ترقی ممکن ہے، صنعتی پیداوار کو کس طرح بہتر کیا جاسکتا ہے، ہمیں بتائیں کہ کس طرح مہنگے ایندھن کے بجائے سولر اور ہائیڈرو پارکس سے بجلی کی پیداوار ممکن ہے۔

شہباز شریف کی مخلوط حکومت میں کس جماعت کو کیا ملے گا؟

انہوں نےچینی قیادت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ سی پیک پاکستان کو آگے لے کر جانے کا اہم ذرائع ہے، انہوں نے پلانٹ لگائے جس کے ذریعے ہماری لوڈ شیڈنگ کا مسئلہ ہوا،سی پیک کے بغیر ہمیں مشکل حالات کا سامنا تھا اور اس کے لیے ہم صدر شی پنگ اور چین کے مشکور ہیں۔

Related Articles

Back to top button