ایم کیو ایم نے بھی حکومت چھوڑنے کا اشارہ دے دیا

قومی اسمبلی میں 7 سیٹیں رکھنے والی وزیراعظم عمران خان کی اہم ترین اتحادی جماعت متحدہ قومی موومنٹ پاکستان نے اعلان کیا ہے کہ اسکا حکومت سے اتحاد بارڈر لائن پر پہنچ چکا یے جسے کسی بھی وقت کراس کیا جا سکتا ہے۔ ایم کیو ایم کے سربراہ خالد مقبول صدیقی نے بڑا بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی جماعت مرکزی حکومت کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہے اور وہ عوامی امنگوں کے عین مطابق اپنے مستقبل کا فیصلہ کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی عوام حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں اور ان کی مشکلات کے ازالے کے لیے کوئی ٹھوس لائحہ عمل تیار نہیں کیا جا رہا۔

یہ باتیں انہوں نے آج نیوز پر عاصمہ شیرازی کے پروگرام ”فیصلہ آپ کا” میں گفتگو کرتے ہوئے کہیں۔ خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ نائن زیرو سے متعلق ہمارا پی ٹی آئی کیساتھ ایم او یو سائن ہوا تھا۔ تاہم حکومتی وزارتیں اور عہدے ہمارا ایشو نہیں، ہم نے انکے بغیر جینا سیکھ لیا ہے۔ ہمارا ایشو یہ تھا کہ ہم نے کراچی سے الیکشن 2018 میں آٹھ لاکھ ووٹ لئے اور تحریک انصاف نے ایک لاکھ، مگر سیٹیں پھر بھی تحریک انصاف کی زیادہ تھیں جس کی وجہ سے جانتے ہیں۔

پاک فوج میں لیفٹیننٹ کرنل بننے والے ہندو افسران کون ہیں؟

موجودہ سیاسی صورتحال پر بات کرتے ہوئے خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ حالات مشکل ہیں، لیکن حکومت کیخلاف تحریک عدم اعتماد ائی تو ہم اپوزیشن کے ساتھ سنجیدگی سے بیٹھ کر فیصلہ کریں گے۔ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ عین ممکن ہے کہ وزیراعظم عمران خان اسمبلیاں تحلیل کرکے نئے الیکشن کا اعلان کر دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم حکومت کے ساتھ اتحاد میں بارڈر لائن پر پہنچ چکے ہیں اور اگر تحریک انصاف کچھ ایسا کرتی ہے جس کے بعد ہمارا اس کیساتھ رہنے کا جواز نہیں بنتا تو ہم بارڈر لائن کراس کر جائیں گے۔خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ اگر تحریک انصاف کچھ ایسا نہیں کرتی تو ہم اسکے ساتھ رہیں گے۔ ہم نے کسی کو دھوکا دینے کی قسم نہیں کھا رکھی۔

دوسری جانب اپنی اہم ترین اتحادی جماعت ایم کیو ایم کی جانب سے دھمکی ملنے کے بعد وزیراعظم عمران خان نے جوابی حکمت عملی تیار کرتے ہوئے اپنے اتحادیوں سے رابطے بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اپوزیشن کی سیاسی سرگرمیوں میں اضافے کے بعد تحریک انصاف کے ناراض رہنما جہا نگیر ترین بھی ایک بار پھر منظر عام پر آ گئے اور ان کی بھی خفیہ ملاقاتوں کی خبر میں منظر عام پر آنا شروع ہو گئی ہیں جس نے سیاسی درجہ حرارت کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا ہے اس صورتحال میں سیاسی تجزیہ نگار آئندہ تین سے چار ہفتوں کو نہایت اہم قرار دے رہے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم اس حوالے سے جوابی عملی تیار کرتے ہوئے ایک جانب جلسے کر رہے ہیں اور دوسری جانب انھوں نے پارلیمنٹ کے اندر تحریک عدم اعتماد کے توڑ کیلئے اپنی اتحادی جماعتوں کی قیادت سے ملاقاتوں کے علاوہ پی ٹی آئی کے اراکین قومی و صوبائی اسمبلی سے رابطے بڑھانے کا فیصلہ کر لیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایم کیوایم کی ناراضی کو دور کرنے کیلئے وزیر اعظم آنے والے دنوں میں کراچی کا دورہ کرنے اور ایم کیو ایم پاکستان کے مرکزی ہیڈ کوارٹر بہادر آباد جانے کا ارادہ بھی رکھتے ہیں۔ اس دورے میں گورنر سندھ عمران اسماعیل، سینئر وزرا اور تحریک انصاف کی مرکزی قیادت بھی عمران خان کے ہمراہ ہوگی۔ تاہم سیاسی تجزیہ کار کہتے ہیں کہ ماضی میں ایم کیو ایم نے کسی بھی گرتی ہوئی حکومت کا ساتھ نہیں دیا چونکہ وہ اقتدار کی پارٹی ہے اور ہمیشہ اقتدار کا حصہ بننا چاہتی ہے۔

Related Articles

Back to top button