ٹی ٹی پی نے پاکستان سے جنگ بندی میں 30 مئی تک توسیع کردی

کالعدم تحریک طالبان نے پاکستان کیساتھ جنگ بندی میں 30 مئی تک توسیع کر دی ہے۔

تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان محمد خراسانی نے واٹس ایپ گروپ کے ذریعے میڈیا کو جاری اعلامیے میں بتایا کہ جنگ بندی 30 مئی تک برقرار رہے گی۔

اعلامیے کے مطابق اسلامی امارات افغانستان کی ثالثی میں تحریک طالبان اور حکومت پاکستان کی کمیٹیوں کے درمیان مذاکرات جاری ہیں، محسود قبیلے کے 32 افراد پر مشتمل کمیٹی اور ملاکنڈ ڈویژن کے مختلف قبائل کی 16 افراد پر مشتمل کمیٹی نے بھی حکومت پاکستان کے مطالبے پر تحریک طالبان پاکستان کی مذاکراتی کمیٹی کے ساتھ 13 اور 14 مئی کو مذاکرات کیے تھے۔

ترجمان ٹی ٹی پی کا کہنا تھا کہ ان مذاکرات میں دونوں جانب سے پرزور مطالبہ کیا گیا تھا کہ کمیٹیوں سے جاری مذاکرات کی روشنی میں فائر بندی کا اعلان ہونا چاہیے، ان کے اس مطالبے پر فریقین نے اتفاق کرتے ہوئے 30 مئی تک فائر بندی کا اعلان کردیا گیا ہے۔

’’ون کوائن‘‘ کرنسی کی خالق نے سرمایہ کاروں کو کیسے لوٹا؟

ترجمان افغان طالبان ذبیح اللہ مجاہد نے کابل میں مذاکرات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلامی امارات، ثالثی کا کردار ادا کر رہی ہے۔ انہوں نے پشتو می کیے گئے متعدد ٹوئٹس میں بتایا کہ مذاکرات میں اہم پیش رفت ہوئی ہے اور جنگ بندی پر رضامندی ہو گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلامی امارات افغانستان نیک نیتی سے اس عمل کو آگے بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے، ہمیں امید ہے کہ دونوں جانب سے لچک کا مظاہرہ کیا جائے گا۔

دوسری طرف کابل میں پاکستانی سفارت خانے کے ذرائع نے پاکستانی وفد کے دورے کی تصدیق کی، تاہم ذرائع نے کمیٹی کے اراکین یا مذاکرات کی تفصیلات کے معاملے میں کوئی بات نہیں کی۔

یاد رہے کہ گزشتہ سال کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت کے ساتھ ایک ماہ تک جاری رہنے والی جنگ بندی میں توسیع کرنے سے انکار کرتے ہوئے الزام عائد کیا تھا کہ حکومت پہلے سے کیے گئے فیصلوں پر عمل کرنے میں ناکام رہی۔

ادھر کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے دو ذرائع نے غیر ملکی خبر ایجنسی ’اے ایف پی‘ کو بتایا تھا کہ وہ عید کے دوران حکومت کے ساتھ 16 مئی تک امن مذاکرات کے لیے سیز فائر بڑھا رہے ہیں، ٹی ٹی پی کے 2 اہم رہنماؤں کو رہا کرکے مسلم خان اور محمود خان کو افغان طالبان کے حوالے کیے جانے کی خبریں بھی سامنے آئی تھیں، دونوں رہنما 100 سے زائد قیدیوں کی فہرست میں بھی شامل تھے، جن کی رہائی کا اہم مطالبہ گروپ کی جانب سے کیا گیا ہے۔

Related Articles

Back to top button