مشرف سے ذاتی عناد نہیں ، دعا گو ہوں،واپسی کیلئے سہولت دی جائے

مسلم لیگ ن کے قائد اور سابق وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے جنرل (ر) پرویز مشرف سے ذاتی دشمنی یا کوئی ذاتی عناد نہیں ، ان کی صحت کیلئے دعا گو ہوں۔

5سابق فوجی افسروں سے ریٹائرمنٹ مراعات واپس لے لی گئیں

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ایک پیغام میں نواز شریف کا کہنا تھا کہ میری سابق صدر پرویز مشرف سے کوئی ذاتی دشمنی یا عناد نہیں۔ نہیں چاہتا کہ اپنے پیاروں کے بارے میں جو صدمے مجھے سہنا پڑے، وہ کسی اور کو بھی سہنا پڑے۔

نواز شریف نے لکھا کہ ان کی صحت کے لیے اللّہ تعالی سے دعاگو ہوں، وہ واپس آنا چاہیں تو حکومت سہولت فراہم کرے۔

دریں اثنا ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے ایک انٹرویو میں کہا کہ جنرل (ر) پرویز مشرف کی صحت بہت خراب ہے، اللہ تعالیٰ انہیں صحت دے، ایسی صورتحال میں پرویزمشرف کی فیملی سے رابطہ کیا گیا ہے، اس صورتحال میں ادارے اور اس کی لیڈرشپ کا موقف ہے مشرف کو واپس آجانا چاہیے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار کا کہنا تھا کہ جنرل (ر) پرویزمشرف کی فیملی سے رابطہ کیاگیا ہے، مشرف کی واپسی کا فیصلہ ان کی فیملی اور ان کے ڈاکٹرز نے کرنا ہے کہ وہ ان کو ایسی کنڈیشن میں سفر کرنے کی اجازت دے سکتے ہیں یا نہیں، اگر یہ دونوں چیزیں سامنے آ جاتی ہیں تو اس کے بعد ہی کوئی انتظامات کیے جا سکتے ہیں، انسٹیٹیوشن محسوس کرتاہے جنرل (ر) مشرف کو اگر ہم پاکستان لاسکیں کیوں کہ ان کی کنڈیشن ایسی ہے۔

واضح رہے کہ پرویز مشرف کے اہلِ خانہ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ انہیں لاحق بیماری لا علاج ہے جسے کہ میڈیکل زبان میں ایمولائی ڈوسس کہتے ہیں۔ اس بیماری میں انسانی اعضاء ایک ایک کرکے کام چھوڑنا شروع کر دیتے ہیں اور جسم مفلوج ہو جاتا ہے۔

Related Articles

Back to top button