پنجاب اسمبلی کا نیا ریکارڈ،بجٹ اجلاس میں بجٹ پیش نہ ہوسکا

پنجاب اسمبلی کی تاریخ میں تب ایک نیا ریکارڈ بن گیا جب بجٹ اجلاس کے لئے بلائے گئے سیشن کے پہلے روز بجٹ ہی پیش نہ کیا جا سکا۔ ‏پنجاب اسمبلی میں ریکارڈ بن گیا۔

شہباز شریف کے دورہ سعودی عرب میں بڑے بریک تھرو کا امکان

بجٹ اجلاس بلوائے گئے روز پیش نہ ہو سکا۔ حمزہ شہباز حکومت کی مصالحتی پالیسی بھی کام نہ آئی۔ بجٹ ُاجلاس کل دوپہر ایک بجے تک ملتوئ۔ چوہدری پرویز الہی نے حمزہ شہباز کی ٹیم کو پورا دن کھیلا کر بجٹ اگلے دن پر ڈال دیا۔

سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی نے حکومت سے بجٹ پیش کرنے کیلئے آجی اور چیف سیکرٹری کو ایوان میں بلانے کی شراط عائد کر دی ہے، جس پر بجٹ اجلاس کل ایک بجے تک ملتوی کر دی گیا ہے۔

پنجاب اسمبلی کااجلاس مالی سال 23-2022ء کا بجٹ پیش کرنے کیلئے پیر کی دوپہر 2 بجے پیش ہونا تھا تاہم ایڈوائزری کمیٹی میں ڈیڈ لاک کے باعث اجلاس تقریباً 6 گھنٹے تاخیر سے ساڑھے 8 بجے کے قریب شروع ہوا، جو مسلم لیگ ن کے رہنما عطاء تارڑ کی موجودگی کے باعث ملتوی کردیا گیا تھا۔

اجلاس دوبارہ شروع ہوا توسپیکر چوہدری پرویز الٰہی بجٹ پیش کرنے کیلئے شرط رکھ دی، ان کا کہنا ہے جب تک چیف سیکریٹری اور آئی جی پنجاب ایوان میں نہیں آئیں گے بجٹ پیش نہیں ہوگا، کتنی بار کہہ چکا ہوں کہ آئی جی اور چیف سیکریٹری کو ایوان میں بلایا جائے، انہوں نے ن لیگی رہنماء ملک احمد خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ، چیف سیکریٹری اور آئی جی پنجاب کو بلالیں۔

سپیکر نے آئی جی پنجاب اور چیف سیکریٹری کے اسمبلی نہ آنے پر اجلاس کل دوپہر ایک بجے تک ملتوی کردیا۔

دریں اثنا پنجاب اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں مسلم لیگ ن کے رہنما عطاتارڑ کی موجودگی پر ہنگامہ برپا ہوگیا، سپیکر چودھری پرویز الٰہی نے عطا تارڑ کو باہر جانے کا حکم دیدیا ،مگر انہوں نے باہر جانے سے انکار کر دیا۔تقریباً ایک گھنٹے بعد عطا تارڑ کے ایوان سے باہر بانے کے بعد پنجاب اسمبلی کا بجٹ اجلاس دوبارہ شروع ہوگیا۔

صوبائی اسمبلی کے اجلاس کے دوران ایم پی اے چوہدری ظہیر الدین نے کہا کہ ایوان میں ایک اجنبی گھس آیا ہے، اسے باہر نکالا جائے، جس پر اسپیکر نے سوال کیا کہ وہ اجنبی کون ہے؟ چوہدری ظہیر الدین نے کہا کہ عطا تارڑ اجنبی ہیں وہ اس ایوان میں نہیں بیٹھ سکتے، اسپیکر نے عطا اللّٰہ تارڑ کی ایوان میں موجودگی پر رولنگ دے دی۔

سپیکر چوہدری پرویز الہٰی نے کہا کہ بہتر ہے تارڑ صاحب کو با عزت طور پر باہر چھوڑ آئیں، انہیں ایوان سے جانا پڑے گا۔ اسپیکر پنجاب اسمبلی نے سارجنٹ ایٹ آرمز کو عطا تارڑ کو ایوان سے باہر لے جانے کا حکم دیا، تاہم حکومتی ارکان عطا اللّٰہ تارڑ کے سامنے آگئے۔

سپیکرپنجاب اسمبلی کا کہنا تھا کہ عطا اللہ تارڑ کو ایوان سے جانا پڑےگا، اسپیکر پرویز الہٰی نے عطا تارڑ کو ایوان سے نکالنے کے لیے سارجنٹ ایٹ آرمز کو بلوالیا اور کہا کہ بہتر ہے تارڑ صاحب کو باعزت طور پر باہر چھوڑآئیں۔
جس پرحکومتی ارکان عطااللہ تارڑ کے سامنے آگئے اور پنجاب اسمبلی میں ہنگامہ آرائی شروع ہوگئی اور اپوزیشن ارکان نے ‘گو تارڑ گو’ کے نعرے لگانا شروع کردیے۔

پی ٹی آئی کے رکن اسمبلی میاں محمود الرشید نے کہا کہ عطا تاڑر کے بارے میں آپ نے کہا کہ وہ باہر جائیں تو وہ باہر جائیں، عطا تاڑر نے باہر جانے سے انکار کردیا۔

عطا تارڑ کےانکار پر اسپیکر نے ایوان کی کارروائی عارضی طور پر معطل کردی۔تاہم تقریبا ً ایک گھنٹے بعد عطاتارڑ ایوان سے چلے گئے۔انہوں نے احتجاجاً ایوان سے واک آؤٹ کرتے ہوئے کہا کہ یہ 12 کروڑ عوام کا بجٹ ہے میں بجٹ کو روکنا نہیں چاہتا۔

قبل ازیں پنجاب اسمبلی کی ایڈوائزری کمیٹی میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ڈیڈ لاک ختم ہوگیا، جس کے نتیجے میں تقریباً 6 گھنٹے بعد ساڑھے 8 بجے کے قریب پنجاب اسمبلی کا اجلاس شروع ہوا۔حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ایڈوائزری کمیٹی میں آئی جی پنجاب اور چیف سیکریٹری کی جانب سے معافی کے معاملے پر ڈیڈ لاک شروع ہوا، اپوزیشن نے مطالبہ کیا کہ دونوں افراد اسمبلی میں آئیں اپوزیشن سے معافی مانگیں۔حکومت اور اپوزیشن کے درمیان 4 گھنٹے سے جاری مذاکرات کے بعد بالآخر معاملات طے پاگئے۔ حکومت نے اپوزیشن کو پیشکش کی تھی کہ جو بھی معاملات میں اسمبلی میں آکر اس پر بات کریں، بجٹ اس کے بعد پیش کرلیں گے، اپوزیشن نے حکومت کی پیشکش قبول کرلی۔

حکومت اور اپوزیشن میں معاملات طے پانے کے بعد پنجاب اسمبلی کا اجلاس ساڑھے 5 گھنٹے کی تاخیر کے بعد شروع ہوا تھا، جو کل تک کیلئے ملتوی کر دیا گیا ہے۔

Related Articles

Back to top button