پہلے پٹرول مہنگا کرنے کا معاہدہ کیا اور پھر تنقید بھی

پٹرولیم مصنوعات میں 30 روپے فی لیٹر اضافے کا فیصلہ عمران خان اور ان کے ساتھیوں کی جانب سے سخت تنقید کی زد میں ہے حالانکہ آئی ایم ایف کے ساتھ جس معاہدے کے نتیجے میں شہباز حکومت کو یہ قدم اٹھانا پڑا وہ عمران کی اپنی حکومت نے کیا تھا اور اس پر عمل درآمد ایک مجبوری تھی۔

تاہم اب پی ٹی آئی چئیر مین اور ان کے حواری بڑی ڈھٹائی کے ساتھ پٹرولیم مصنوعات مہنگی کرنے کی ذمہ داری سے نواز شریف حکومت پر ڈالتے ہوئے اسے تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ عمران نے اپنے دور اقتدار میں معاشی انقلاب اور ایک کروڑ ملازمتوں کا وعدہ کیا تھا لیکن تقریباً 4 سال کے اقتدار میں وہ عوام کے لئے صرف مہنگائی کا طوفان اور مایوسی پھیلانے کا سبب بنے۔ انکی حکومت کی جانب سے آئی ایم ایف کے پاس جانے کے فیصلے میں تاخیر نے پاکستان کی آپشنز کو انتہائی محدود کر دیا جسکے نتیجے میں آئی ایم ایف کے قرض کے ساتھ منسلک شرائط نے پاکستان کے لیے کافی مشکلات پیدا کر دیں۔ عمران دور حکومت میں تاریخی معاشی گراوٹ، ریکارڈ مہنگائی، انتہا کے غیر ملکی قرضے اور روپے کی قدر میں ہوشربا تنزلی دیکھی گئی جس کے نتیجے میں قیمتوں میں اضافے، بے روزگاری اور بے پناہ یوٹیلیٹی بلز نے عام لوگوں کی زندگی کو ہر گزرتے دن کے ساتھ مشکل تر بنا دیا۔ اب عمران اور ان کے رفقاء اتحادی حکومت پر معاشی تباہی کے لیے تنقید کر رہے ہیں جس نے ابھی تک کوئی بڑا اقتصادی فیصلہ نہیں کیا ہے۔ عمران خان کی یہ تنقید ان کے دوہرے معیار کی عکاس ہے جب کہ وہ اپنے دور حکومت میں عالمی سطح پر مہنگائی کو ملک میں بے انتہا مہنگائی کا سبب بتاتے رہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مخلوط حکومت میں عاجزی، اتفاق رائے پیدا کرنا اور اتحادیوں کی شکایات کا ازالہ کرنا ضروری ہوتا ہے۔ لیکن عمران نے ناصرف اتحادی جماعتوں کے ساتھ بلکہ اپنی پارٹی کے اندر بھی متکبرانہ رویہ اپنایا۔ علیم خان اور جہانگیر خان ترین اس بات کی واضح مثالیں ہیں کہ عمران خان وزیراعظم بننے کا خواب پورا ہوتے ہی اپنے قریبی ساتھیوں کے لئے کتنے خود غرض ہو گئے۔ پنجاب میں عثمان بزدار کی ناقص کارکردگی کے حوالے سے ہر طبقہ اور اپنی پارٹی کے اراکین کے تحفظات کو بھی نظر انداز کیا۔ گذشتہ تین سالوں میں پنجاب میں اہم عہدوں پر متواتر تبدیلیاں بذات خود پے در پے غلط لوگوں کے انتخاب کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ عمران نے اپنے خراب کاردگی پر وزرا کو برطرف کرنے کے وعدے کے برعکس محض اپنی کابینہ کی وزارتوں کو تبدیل کرنے پر اکتفا کیا جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک کاردکردگی کی کوئی خاص اہمیت نہ تھی۔ چنانچہ جب عمران سے تنگ آکر اتحادیوں نے ان کا ساتھ چھوڑا تو انہوں نے اپوزیشن پر امریکی سازش کا الزام عائد کردیا اور سڑکوں پر نکل آئے۔

سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران نے اپنے سیاسی عزائم کی تکمیل کے لیے امریکہ پر جو الزام لگایا ہے اس کے دور رس اثرات مرتب ہوں گے جن کا نقصان پاکستان کو ایک لمبے عرصے تک برداشت کرنا ہو گا۔ انکا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی حکومت نے پاکستان کے کئی دہائیوں پر محیط خارجہ تعلقات کو ایک معمولی سیاسی فائدے کے لئے تباہ کع دیا ہے۔ ٹی ایل پی کے ساتھ معاہدے کے بعد فرانس اور یورپی یونین کے ساتھ پاکستان کے تعلقات اب تک کی سب سے کم ترین سطح پر ہیں۔ سعودی عرب کے ساتھ تعلقات بھی اس وقت بری طرح متاثر ہوئے جب حکومت نے ملائیشیا میں ہونے والے سربراہی اجلاس میں شرکت کا ارادہ ظاہر کیا، جو کہ معاشی عدم استحکام کے شکار پاکستان کے لیے ایک بڑا دھچکا تھا۔

نیب کے متنازعہ چیئرمین جاوید اقبال کا مستقبل کیا ہے؟

سیاسی تجزیہ کار یاد دلاتے ہیں کہ ریاستی اداروں نے ملک کی خاطر پی ٹی آئی حکومت کے ساتھ بے مثال تعاون کیا اور ملک کو معاشی اور سیاسی عدم استحکام سے نکالنے میں بھرپور مدد کی۔ گورننس اور معاشی محاذ پر حکومت کی ناکامیوں کا ذمہ دار ریاستی اداروں کو بھی ٹھہرایا گیا۔ وسیع تر قومی مفادات، سیاسی وعوامی سطح پر بڑھتی بے چینی کے باعث ریاستی اداروں نے حکومت سے ایک فاصلہ رکھنے میں ہی بہتری جانی۔ اس صورت حال میں اپوزیشن جماعتیں تحریک انصاف کی اندرونی رنجش اور اتحادی جماعتوں کی شکایات کا فائدہ اٹھانے میں کامیاب رہیں اور کامیاب تحریک عدم اعتماد پیش کی۔ چنانچہ ماضی میں فوجی اسٹیبلشمنٹ کے کندھوں پر سوار ہو کر اقتدار میں آنے والے عمران خان نے ردعمل میں ریاستی اداروں کے غیر سیاسی ہو جانے پر ناصرف سوال اٹھانا شروع کر دیے بلکہ غیر جانبداروں کو جانور قرار دے دیا۔ یاد رہے کہ ماضی میں عمران ہمیشہ ریاستی اداروں کے غیر جانبدار ہونے پر زور دیتے رہے ہیں لہٰذا انکا حالیہ بیانیہ ان کے قول اور فعل کے تضاد کا عکاس ہے۔

Related Articles

Back to top button