نواز نے خود منسوب شہباز کے تبصرے گمراہ کن قرار دیدیئے

مسلم لیگ ن کے قائد و سابق وزیر اعظم نواز شریف نے اپنے چھوٹے بھائی اورموجودہ وزیراعظم شہباز شریف کے بارے میں منفی تبصروں سے اظہار لاتعلقی کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ وہ ملک کو موجودہ دور کے مشکل حالات سے نکال لیں گے۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ایک پیغام میں نواز شریف نےکہاوزیراعظم شہباز شریف کے بارے میں مجھ سے منسوب منفی تبصرے غلط اور گمراہ کن ہیں، میں پرامید ہوں کہ انتہائی مشکل حالات میں شہباز شریف کی مخلصانہ اور انتھک کوششیں سیرحاصل نتائج فراہم کریں گی اور وہ ملک کو عمران خان کے پیدا کردہ بحران سے نکال لیں گے۔
خیال رہے کہ نواز شریف کی جانب سے یہ وضاحت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پارٹی میں اندرونی اختلافات کی خبریں گرم ہیں۔سابق وزیر اعظم عمران خان کو تحریک عدم اعتماد کے ذریعے معزول کرنے کے بعد مسلم لیگ (ن) کے اقتدار میں آنے کے 2 ماہ سے بھی کم عرصے میں پارٹی کے اتحاد میں مئی کے اوائل سے مبینہ تناؤ کے آثار نظر آ رہے تھے۔

ن لیگ کی نائب صدر مریم نواز نے 19 مئی کو سرگودھا میں عمران کے نئے انتخابات کے مطالبے کی کھل کر حمایت کی تھی جب نیا اتحادی سیٹ اپ معاشی بحران سے نکلنے کی جدوجہد کر رہا تھا۔

خیال رہے کہ موجودہ حکومت کو اپنی مدت کے آغاز سے ہی شدید معاشی چیلنجز کا سامنا رہا ہے اور اس پر دباؤ ہے کہ وہ قبل از وقت انتخابات میں حصہ لینے یا سیاسی حمایت کھونے کی قیمت پر ملک کو ڈیفالٹ ہونے سے بچانے کے سخت فیصلے کے درمیان کسی ایک کا انتخاب کرے۔

مریم نواز کا سرگودھا جلسے سے خطاب میں موقف تھا کہ عوام پر مہنگائی کا بوجھ ڈالنے کے بجائے نئے انتخابات کی طرف جانا دانشمندی ہے،نواز شریف لندن میں میری تقریر سن رہے ہیں، وہ حکومت کو الوداع کہہ دیں گے لیکن پاکستانی عوام پر معاشی بوجھ نہیں ڈالیں گے۔ مریم نواز کے یہ ریمارکس حکمران اتحاد کی جانب سے اگست 2023 میں ختم ہونے والی اپنی مدت پوری کرنے کا فیصلہ کرنے کے ایک روز بعد سامنے آئے تھے۔

یا رہے کہ حال ہی میں پنجاب اسمبلی کی 20 نشستوں پر ہونے والے اہم ضمنی انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کی شکست پر نواز شریف کی ناراضگی کی خبریں سامنے آئی تھیں، یہ ایک ایسی شکست تھی جس نے ان کی جماعت کو ملک کے سب سے زیادہ آبادی والے صوبے سے محروم کرکے پی ٹی آئی کے ہاتھوں میں جانے کی راہ ہموار کی۔

انگریزی اخبار ڈان کی ایک رپورٹ کے مطابق شہباز شریف کے بیٹے اور اس وقت پنجاب کے وزیر اعلیٰ حمزہ شہباز ضمنی انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کی شکست پر نواز شریف کو وضاحت دینے کے لیے رواں ماہ کے آغاز میں لندن گئے ہوئے تھے۔ن لیگ کے اندرونی ذرائع نے بتایا کہ اس ملاقات میں حمزہ شہباز کو ضمنی انتخابات کے دوران عمران خان کی جارحانہ مہم کے مقابلے میں بطور وزیراعلیٰ اپنی ناقص کارکردگی اور بطور وزیراعظم اپنے والد کی ناقص حکمت عملی کے حوالے سے اپنے چچا کو مطمئن کرنا تھا،بعد ازاں 15 اگست کو شہباز شریف حکومت کی جانب سے پیٹرول کی قیمت میں ایک اور اضافے کے اعلان کے بعد مسلم لیگ (ن) میں دراڑ سے متعلق قیاس آرائیوں کو مزید تقویت ملی۔

وزیر اعظم کا سندھ حکومت کو15 ارب کی گرانٹ کا اعلان

ن صدرن لیگ مریم نواز نے اپنی ٹوئٹ میں بتایا کہ نواز شریف نے اس اضافے کے فیصلے کی سختی سے مخالفت کی ہے، وہ لوگوں پر مزید بوجھ نہیں ڈال سکتے اور وہ اس فیصلے کے حق میں نہیں ہیں، ایک روز بعد ڈان اخبار کے اداریے میں کہا گیا تھا کہ یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ وزیر خزانہ مفتاح اسمٰعیل واضح مخالفت پی ٹی آئی کی جانب سے نہیں بلکہ اپنی ہی پارٹی کے اندر موجود ایک ایسے کیمپ سے آئی ہے جو سابق وزیر خزانہ اسحٰق ڈار کی حکمت عملی کا حامی ہے،ایسا لگتا ہے کہ اسحٰق ڈار پارٹی سربراہ نواز شریف کے قریبی مشیر ہیں اور وہ معیشت کو سنبھالنے کے حوالے سے کچھ پریشان کن آرا سے ان کے کان بھر رہے ہیں، مفتاح اسمٰعیل کے خلاف نواز کیمپ کی دشمنی بھی اسحٰق ڈار کی اپنے نئے ہم منصب کے لیے پہلے سے موجود رقابت کا نتیجہ سمجھی جاتی ہے۔

اس کے علاوہ گزشتہ روز مسلم لیگ (ن) کے ایک اور رہنما عابد شیر علی نے مفتاح اسمٰعیل کو ان کی عوام دشمن پالیسیوں پر تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے زور دیا کہ وہ عوام کے بارے میں سوچیں جو بجلی کے مہنگے بلوں اور غربت کی وجہ سے پریشان ہیں۔

ن لیگ کے رہنما طلال چوہدری کے ہمراہ فیصل آباد میں پریس کانفرنس کرتےہوئے انہوں نے کہا کہ میں نے میاں نواز شریف سے اپیل کی ہے کہ اس معاملے میں مداخلت کریں اور بجلی کی قیمتوں میں اضافہ واپس کروائیں۔ملک کو خانہ جنگی کی جانب دھکیلنے سے خبردار کرتے ہوئے مزید کہا کہ جناب وزیر اعظم! آپ نے ہمیشہ پنجاب میں کارکردگی دکھائی ہے، آپ کی ہمدردیاں آپ کے اقدامات میں نظر آنی چاہئیں ورنہ ہم عوام سے ووٹ مانگنے انتخابی حلقوں میں نہیں جاسکیں گے۔

Related Articles

Back to top button