اسٹیبلشمنٹ کپتان کو طلاق دے گی یا گزارے پر مجبور ہو گی؟

معروف صحافی سلیم صافی نے پیشین گوئی کی ہے کہ اگر اسٹیبلشمنٹ کے نواز شریف کے ساتھ مذاکرات کامیابی سے ہمکنار ہو گے تو عمران خان کو طلاق دینے میں دیر نہیں کی جائے گی لیکن اگر کسی گڑبڑ کے نتیجے میں دونوں میں تلخی پیدا ہو گئی اور بات نہ بنی تو ایسے میں اسٹیبلشمنٹ کو مجبورا عمران کے ساتھ ہی گزارہ کرنا پڑے گا۔

اپنے تازہ استعاراتی تجزیے میں سلیم صافی نے چار کرداروں کی کہانی بیان کی ہے۔ ایک مقتدر خان یعنی اسٹیبلشمینٹ، دوسرا انصاف بی بی یعنی تحریک انصاف، تیسرا پیپل بی بی یعنی پیپلزپارٹی اور چوتھا لیگی بی بی یعنی مسلم لیگ نواز۔

آگے ہم سلیم صافی کا تجزیہ من و عن بیان کرتے ہیں، وہ لکھتے ہیں کہ: پیپل بی بی کے بڑوں کے تعلقات روز اول سے مقتدر خان سے اچھے نہیں رہے۔ مقتدرخان اور پیپل بی بی کی کچھ عرصے تک شادی برقرار رہی لیکن وہ نکاح بالجبر کی ایک قسم تھی۔ نہ مقتدر خان خوش تھا اور نہ پیپل بی بی مطمئن تھی۔

 چنانچہ ستر کی دہائی کے آخر میں نہ صرف نکاح ٹوٹ گیا بلکہ نوبت قتل و غارت تک جا پہنچی، اس لیے مقتدر خان نے لیگی بی بی کو پہلے پالا پوسا اور پھر اسی کی دہائی میں اس کے ساتھ نکاح کر لیا۔ وقت کے ساتھ ساتھ لیگی بی بی گھر بسانے اور چلانے کے توقابل ہوگئی لیکن جوں جوں گھر چلانے کا سلیقہ سیکھتی گئی توں توں مقتدر خان کی تابع فرمانی کے دائرے سے بھی باہر نکلتی گئی۔

بقول صافی، مقتدر خان کو اس کے رویے پر غصہ آیا اور اس نے اُسے طلاق دے کر گھر سے نکال دیا۔ کچھ عرصے تک مقتدر خان قافی بی بی یعنی قاف لیگ کے ساتھ غیرشرعی تعلقات سے کام چلاتا رہا لیکن ظاہر ہے کہ وہ گھر چلانے کے قابل ہی نہ تھی۔ چنانچہ مقتدر خان کو ایک بار پھر پیپل بی بی سے جبری نکاح کرنا پڑا۔ یہ شادی ویسے تو پانچ سال چلتی رہی لیکن تعلقات ایک دن کے لیے بھی خوشگوار نہ رہے۔

اب کی بار مقتدر خان نے سوچا کہ بچپن سے کسی لڑکی کو اپنی نگرانی میں بڑا کرکے نکاح اور گھر چلانے کے قابل بنایا جائے۔ چنانچہ ایسے عالم میں جب پیپل بی بی نکاح میں تھی اور لیگی بی بی اس کے نکاح کے ٹوٹنے اور دوبارہ مقتدر خان کے نکاح میں جانے کی منتظر تھی، مقتدر خان، اپنے کارندے پاشا خان یعنی سابق آئی ایس آئی چیف احمد شجاع پاشا کے ذریعے، انصاف بی بی کی نوک پلک سنوارنے اور اسے شادی کے قابل بنانے کے مشن میں مصروف ہوگیا لیکن لیگی بی بی کو چونکہ سابقہ تجربہ تھا، اس لیے ایک بار پھر وہ انصاف بی بی کو پیچھے چھوڑ کر مقتدر خان کے گھر گھسنے میں کامیاب ہوگئی تاہم مقتدر خان نے اسے دلی طور پر قبول کیا اور نہ لیگی بی بی نے مقتدر خان کو۔

سلیم صافی لکھتے ہیں کہ چند ماہ بعد مقتدر خان لیگی بی بی سے جان چھڑانے اور انصاف بی بی کے ساتھ گھر بسانے کی کوششوں میں مصروف ہوگیا۔ لیکن لیگی بی بی گھر سے نکلنے کو تیار نہ ہوئی۔ بالآخر پانچ سال بعد مقتدر خان لیگی بی بی کو طلاق دینے اور اپنی لاڈلی، چہیتی اور تربیت یافتہ انصاف بی بی کے ساتھ گھر بسانے میں کامیاب ہوگیا۔

 تاہم انصاف بی بی کو گھر لانے اور نکاح میں لینے کے لیے مقتدر خان کو بہت سےغیر شرعی کام بھی کرنے پڑے۔ لیگی بی بی کو ایسے انتقام کا نشانہ بنایا گیا کہ وہ انصاف بی بی کے مقابلے کے قابل ہی نہ رہی۔ 2018 میں نکاح کی تقریب بھی نہایت غیر شرعی طریقے سے کی گئی اور نکاح خواں کے بھی ہاتھ مروڑے گئے۔

 انصاف بی بی نہ تو خوبصورت تھی، نہ باصلاحیت، نہ باوفا اور نہ ہی گھر چلانے کےقابل، لیکن میڈیا کو استعمال کرکے اسے خوبصورت، وفادار اور گھر چلانے کے قابل ثابت کیا گیا۔ گاؤں کے قاضی سے صادق اور امین کے سرٹیفکیٹ بھی دلوائے گئے۔ انصاف بی بی اتنی چالاک تھی کہ اس نے مقتدر خان ہی نہیں بلکہ پورے گاؤں اور باراتیوں تک کو یقین دلادیا تھا کہ اس سے زیادہ باصلاحیت، دیانتدار اور وفادار کوئی ہے ہی نہیں۔

عثمان مرزا کیس میں شریک ملزم کی درخواست بریت مسترد

 اس نے تاثر دیا کہ اس نے نہ صرف گھر بسانے کی پوری تیاری کی ہے بلکہ یہ وعدہ بھی کیا کہ گھر کی معیشت کو بھی وہ چار چاند لگا دے گی۔چنانچہ بڑی دھوم دھام سے شادی ہوئی۔ بقول سلیم صافی، انصاف بی بی سے نکاح ہونے پر مقتدر خان کی خوشی دیدنی تھی اوروہ ’’وتعزمن تشاء و تذل من تشاء‘‘ کا ورد کرنے لگا لیکن’’ اے بسا آرزو کہ خاک شدہ‘‘۔ چند ہی دنوں میں پتہ چلا کہ انصاف بی بی تو دو نمبر ہے۔ اسے تو گھر چلانے کی الف ب بھی نہیں آتی۔

پھر معلوم ہوا کہ وہ نہ تو کھانا پکاسکتی ہے اور نہ اہلِ خانہ کی خدمت کرسکتی ہے۔ اوپر سے وہ نہایت بدتمیز بھی نکلی اور گالم گلوچ کے سوا کوئی دوسرا فن جانتی ہی نہیں۔ انصاف بی بی دن رات کبھی مقتدر خان کی سابقہ بیویوں سے پنگے لیتی ہے، کبھی نکاح خواں سے اور کبھی عزیز و اقارب سے۔ گھر کی معیشت بہتر کرنے کی بجائے اس نے تباہ کرکے رکھ دی۔ وہ روز مقتدر خان کے لیے کوئی نہ کوئی مسئلہ کھڑا کرتی ہے۔ اس نے اپنی اوچھی حرکات سے پڑوسیوں سے بھی مقتدر خان کے تعلقات خراب کرادیے، اس کے قریبی دوستوں سے بھی اور گائوں کے چوہدریوں سے بھی۔

سلیم صافی لکھتے ہیں کہ انصاف بی بی نے اسی پر اکتفا نہ کیا بلکہ مقتدر خان کو بھی آنکھیں دکھانے لگی۔ اس نے مختصر عرصے میں مقتدر خان کو اتنا بدنام کر دیا جتنا سابقہ بیویاں دو عشروں میں بھی نہیں کر پائیں تھیں۔ چنانچہ مقتدر خان سرپکڑ کر بیٹھ گیا۔

انصاف بی بی نے کئی مرتبہ ایسی حرکتیں کیں جو مقتدر خان کی نظر میں طلاق کے قابل تھیں لیکن وہ ایسا اس لیے نہیں کر سکتا تھا کہ گھر اجڑ جاتا۔ چنانچہ تنگ آکر مقتدر خان درپردہ اپنی سابقہ بیویوں پیپل بی بی اور لیگی بی بی سے رجوع کرنے لگا۔ پیپل بی بی بڑی تابعدار ہے۔ ماضی کو مکمل طور پر بھلا چکی ہے۔

اس کے ساتھ دعائے خیر بھی ہوچکی ہے اور خفیہ منگنی بھی لیکن مقتدر خان نکاح سے اس لیے گریز کررہا ہے کہ اسے احساس ہے کہ پیپل بی بی کی اب وہ حیثیت نہیں رہی کہ تنہا گھر چلاسکے۔ چنانچہ لیگی بی بی سے بھی اس طریقے سے دوبارہ نکاح کے لیے رابطے ہورہے ہیں کہ انصاف بی بی کو پتہ نہ چل سکے۔ مقتدر خان کو ڈرہے کہ اگر لیگی بی بی کے ساتھ نکاح کے معاملات طے ہونے سے قبل انصاف بی بی کو علم ہوگیا تو وہ طلاق سے قبل خلع لے کر مقتدر خان کو رسوا کر سکتی ہے۔

 مقتدر خان کو ایک تو لیگی بی بی کی دشمنی مہنگی پڑرہی ہے اور دوسرا اس کو یہ احساس بھی ہوگیا ہے کہ اس کے گھر کو نسبتاً بہتر طریقے سے لیگی بی بی ہی چلا سکتی ہے، لیکن پیپل بی بی کی نسبت لیگی بی بی نے دوبارہ نکاح کی شرائط اب پہلے کی نسبت زیادہ سخت رکھی ہیں۔ بہر حال لیگی بی بی کے ساتھ دعائے خیر ہوچکی ہے لیکن معاملہ ابھی منگنی تک نہیں پہنچا۔

واقفان حال بتاتے ہیں کہ اگر مقتدر خان کا لیگی بی بی کے ساتھ بھی پیپل بی بی کی طرح معاملہ آگے بڑھا اور دعائے خیر سے آگے بڑھ کر منگنی ہوگئی تو پھر انصاف بی بی کو طلاق دینے میں دیر نہیں کی جائے گی۔ لیکن اگر لیگی بی بی کے ساتھ معاملہ دعائے خیر پر ہی اٹکا رہا یا پھر ماضی کی طرح دوبارہ کوئی تلخی پیدا ہوگئی تو پھر مجبوراً انصاف بی بی کے ساتھ ہی گزارا کیا جائے گا۔

Related Articles

Back to top button