کیا زلفی بخاری نے حساس سرکاری ٹیبلیٹ خود غائب کی؟

وزیراعظم عمران خان کے سابق معاون خصوصی زلفی بخاری کے نام پر جاری کردہ ایک حساس سرکاری ٹیبلیٹ کمپیوٹر کی گمشدگی کا معاملہ سامنے آنے کے بعد اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے اس ڈیوائس کی تلاش شروع کردی ہے اور معاملہ ایف آئی اے کے پاس جانے کا امکان ہے۔ تاہم دوسری جانب زلفی کا کہنا ہے کہ انہوں نے تو کبھی یہ ٹیبلیٹ وصول ہی نہیں کی تھی لہذا وہ اس بارے جوابدہ نہیں ہیں۔

یاد رہے کہ وفاقی کابینہ کے ممبران کو 2021 میں ٹیبلیٹ کمپیوٹر الاٹ کیے گئے تھے جن کے ذریعے اہم ترین حکومتی کمیونیکیشن ہوا کرتی تھی۔ تاہم زلفی بخاری کو دیا جانے والی ٹیبلٹ گم ہو چکی ہے۔ اس کی گمشدگی کی خبر لیک ہونے کے بعد وفاقی کابینہ ڈویژن نے متعلقہ وزارت دیگر متعلقہ اداروں سے پوچھ گچھ شروع کر دی ہے تاہم ابھی تک ڈیوائس کا سراغ نہیں لگایا جا سکا۔

دوسری جانب زلفی بخاری کہتے ہیں کہ انہوں نے نہ تو یہ ٹیبلیٹ کبھی دیکھی اور نہ ہی وصول کی تھی۔ ادھر کابینہ ڈویژن نے خبردار کیا ہے کہ اگر گم شدہ ٹیبلیٹ نہ ملی تو متعلقہ فرد کے خلاف باضابطہ انکوائری شروع ہو سکتی ہے اور ایف آئی اے فوجداری کارروائی بھی کر سکتی ہے۔

یاد رہے کہ چند ماہ قبل ٹیبلیٹ کمپیوٹرز کابینہ کے ہر رکن کو فراہم کیے گئے تھے تاکہ کابینہ کی سمریاں اور فیصلے شیئر کیے جا سکیں۔ کابینہ ڈویژن کے ایک ترجمان نے تصدیق کی کہ گمشدہ ٹیبلیٹ کی تلاش کا سلسلہ جاری ہے، یہ گمشدہ ٹیبلیٹ مئی 2021 میں زلفی بخاری کو دی گئی تھی۔ یاد رہے کہ یہ وہی مہینہ تھا جب زلفی نے وزیر اعظم کے معاون خصوصی کے عہدے سے استعفیٰ دیدیا تھا۔ تاہم دوسری جانب زلفی بخاری کا مؤقف ہے کہ انہوں نے ٹیبلیٹ دیکھا اور نہ یہ انہیں ملا تھا۔

 کابینہ ڈویژن کی اب تک کی غیر رسمی کارروائی سے معلوم ہوا ہے کہ دستاویزات کے مطابق ذلفی بخاری کو ٹیبلیٹ ایلوکیٹ کر دیا گیا تھا لیکن اسٹاف کی سطح پر یہ لاپتہ ہوگیا۔ وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی اور اس کے نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ وہ متعلقہ ادارے ہیں جو اس ٹیبلیٹ کی سیکورٹی کے ذمہ دار ہیں۔ وزارت اور بورڈ حکام مل کر وزارت ہیومن ریسورسز اور اوورسیز پاکستانیز اور ذلفی بخاری کی رہائش گاہ پر یہ ٹیبلیٹ تلاش کر رہے ہیں، انہوں نے بھی حکام کو بتایا ہے کہ انہوں نے ٹیبلیٹ دیکھا نہ وصول کیا۔

یاد رہے کہ ٹیبلیٹ کمپیوٹر اصل میں ایک چھوٹی ٹچ اسکرین کی حامل موبائل ڈیوائس ہے جس میں ایک ریچارج ایبل بیٹری ہے اور اس کا ایک پتلا چھوٹا پیکیج ہے۔ کابینہ کے ایجنڈے، ورکنگ پیپرز اور کابینہ کی بریفنگ جیسی اہم خفیہ چیزیں اس ٹیبلیٹ میں کینڈ کرتی ہیں۔

صرف کوئی آئینی عہدیدار جیسا کہ وزیر، مشیر یا معاون خصوصی ہی اس ٹیبلیٹ کو چلا سکتا ہے جو ذاتی حیثیت میں اُسے دی جاتی ہے اور اسکے لئے باضابطہ طور پر دستاویزی طریقہ کار اختیار کیا جاتا ہے۔

ایس ای سی پی کا ہسکول سکینڈل کی تحقیقات کا آغاز

اس مقصد کیلئے انتہائی سخت سائبر سیکورٹی فراہم کی گئی ہے اور ٹیبلیٹ صرف کابینہ ڈویژن کی ہدایت پر جاری کیا جاتا ہے۔ تقہم خرابی اس وقت پیدا ہوئی جب چند ہفتے قبل یہ بات سامنے آئی کہ برطانوی شہری اور وزیر اعظم کے ذاتی دوست ذلفی بخاری جنہوں نے 17؍ مئی 2021ء کو معاون خصوصی کے عہدے سے استعفیٰ دیدیا، نے حساس برقی آلہ متلعقہ وزارت یا کابینہ ڈویژن کو واپس نہیں کیا۔

یہ بات تو کھلی جب سینیٹر ایوب آفریدی کو اوورسیز پاکستانیز اور ہیومن ریسورسز ڈویلپمنٹ پر وزیراعظم کا معاون خصوصی بنایا گیا۔ نئے عہدیدار نے جب کابینہ کے ایجنڈا اور دستاویزات تک رسائی مانگی تو متعلقہ وزارت کیلئے مختص ٹیبلیٹ دستیاب نہیں تھا۔

آفریدی کو نیا ٹیبلیٹ دیا گیا لیکن گمشدہ ڈیوائس کی تلاش کیلئے کارروائی شروع کر دی گئی کیونکہ ذلفی بخاری کے نام پر ڈیوائس جاری کی جا چکی ہے۔ ابتدائی انکوائری میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ذلفی بخاری نے ٹیبلیٹ، اسے چلانے کیلئے استعمال ہونے والا کوڈ کابینہ ڈویژن، این آئی ٹی بی یا وزیراعظم آفس یا منسٹری کو واپس نہیں کیا۔

اس حوالے سے کابینہ ڈویژن کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ٹیبلیٹ کا کھو جانا سنگین معاملہ ہے تاہم اس میں لگے سیکورٹی فیچرز کی وجہ سے اسے کوئی اور استعمال نہیں کر سکتا۔  انہوں نے بتایا کہ اس کے پاسورڈز این آئی ٹی بی اکثر و بیشتر تبدیل کرتا رہتا ہے، اس میں شیئر کی جانے والی دستاویزات ہر 24؍ گھنٹے بعد ڈیلیٹ کر دیا جاتی ہیں اور اس میں ایسا کوئی آپشن موجود نہیں کہ دستاویزات کو کسی کے ساتھ شیئر یا پرنٹ کیا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ ٹیبلیٹ پر نظر آنے والی دستاویزات پر اس شخص کا نام درج ہوتا ہے جس کا ٹیبلیٹ ہوتا ہے لہٰذا یہ پتہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ دستاویزات کہاں سے آئیں۔ وفاقی کابینہ کے رازداری کے معاملات سے واقف ایک سینئر عہدیدار کا کہنا تھا کہ ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا، متعلقہ بورڈ اور ڈویژن کو گمشدہ ڈیوائس کا پہلے کیوں پتہ نہ چلا، یہ ڈیوائس تو اسی دن واپس لی جانا چاہئے تھی جس دن ذلفی بخاری نے استعفیٰ دیا تھا۔

حکام کے مطابق، رولز آف بزنس، آفیشل سیکریٹس ایکٹ اور خفیہ دستاویزات کی حوالگی و سپردگی کے معاملات کے حوالے سے قواعد و ضوابط کے تحت اس معاملے کی اعلیٰ سطح کی انکوائری ہونا چاہئے، انکوائری کمیشن اٹارنی جنرل یا پھر سپریم کورٹ کے جج کے ماتحت ہونا چاہئے۔ اس معاملے کی انکوائری اس لئے بھی ہونا چاہئے کہ قومی نوعیت کی حساس معلومات غلط معلومات میں جانے سے روکنے کو یقینی بنایا جا سکے۔

Related Articles

Back to top button