ابھی دنیا کو کورونا کے بدترین اثرات کا سامنا ہو سکتا ہے

مائیکروسافٹ کے شریک بانی بل گیٹس نے کہا ہے کہ دنیا کو ابھی کورونا وائرس کے بد ترین اثرات کا سامنا ہو سکتا ہے۔
بل گیٹس کا ایک انٹرویو کے دوران کہنا تھا کہ دنیا بھرمیں لوگ کورونا وائرس کے ساتھ زندگی گزارنے سے تھک چکے ہیں مگر ابھی بھی مشکل دنوں کا سامنا ہوسکتا ہے۔انہوں نے خبر دارکرتے ہوئے کہا کہ یہ خطرہ ابھی باقی ہے کہ کورونا کی ایک ایسی نئی قسم سامنے آجائے جو زیادہ متعدی اور زیادہ جان لیوا ہو۔
انکا کہنا تھا ہم کسی کو ڈرانا نہیں چاہتے مگر ابھی بھی یہ خطرہ 5 فیصد سے زیادہ ہے کہ کورونا کی وبا اتنی بدترین ہوجائے جو ابھی تک ہم نے نہیں دیکھی۔دنیا کو ایک اور وبا کے لیے گلوبل ایپیڈیمک ریسپانس اینڈ موبلائزیشن اینشیٹیو (جی ای آر ایم) کے ذریعے تیار ہونا چاہیے جس کا انتظام عالمی ادارہ صحت سنبھالے۔
بل گیٹس نے تجویز دی کہ جی ای آر ایم میں وبائی امراض سے لے کر کمپیوٹر ماڈیولر ماہرین کو شامل کیا جائے جو عالمی سطح پر طبی خطرات کو شناخت اور ممالک کے درمیان رابطہ کرسکیں۔دنیا بھر کے ممالک اگر واقعی مستقبل کی وباؤں کو روکنا چاہتے ہیں تو ان کو اس حوالے سے زیادہ سرمایہ لگانا چاہیے۔
واضح رہے کہ بل گیٹس نے2015 میں ایک کانفرنس کے دوران کہا تھا کہ دنیا ایک نئی وبا کے لیے تیار نہیں جبکہ اپریل 2022 میں ٹیڈ کانفرنس کے دوران انہوں نے جی ای آر ایم کا خیال پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ عالمی ادارہ صحت کو اس کے لیے ہر سال ایک ارب ڈالرز کی ضرورت ہوگی۔
خیال رہے کہ 2019 کے آخر میں چین کے شہر ووہان سے کورونا وائرس نے جنم لیا جو دیکھتے ہی دیکھتے پوری دنیا میں پھیل گیا تھا۔
یہ بھی واضح رہے کہ اقوام متحدہ کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق 2021 کے آخر تک کورونا سے ایک کروڑ 49 لاکھ سے زائد اموات ہوئیں جو کہ سرکاری طور پر جاری اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہیں۔

Related Articles

Back to top button