اب گلے میں خراش کرونا کی نئی علامت ہو سکتی ہے


جوں جوں کرونا کی نئی اقسام سامنے آ رہی ہیں، ویسے ہی اس کی علامات میں بھی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں، کرونا کی پہلی لہر کے دوران بخار، زکام، چکھنے کی حس نہ ہونے کو بڑی علامات سمجھا جاتا تھا لیکن اب کرونا کی بڑی علامات میں گلے میں خراش، ناک کا بند ہونا، سر درد اور خشک کھانسی شامل ہیں۔ حالیہ مہینوں میں کرونا کا شکار ہونے والے 17 ہزار سے زائد افراد کے جائزے سے معلوم ہوا کہ گلے میں خارش اور سوزش کے ساتھ خشک کھانسی، ناک کا بند ہونا اور سر میں درد ہونا کرونا کی عام علامات ہیں۔ اسی طرح تحقیق سے یہ بات بھی سامنے آئی کہ بلغم کے ساتھ کھانسی، ناک کا بہنا، چھینکیں آنا، تھکاوٹ ہونا، آواز کا تبدیل ہونا، آنکھوں میں درد، پٹھوں میں سوجن اور چکر آنا بھی کرونا کی نئی علامات ہیں، ماہرین کے مطابق سانس لینے میں مشکلات، کان میں درد، سینے میں درد کی شکایت، سردی لگنا اور بخار بھی کرونا کی نئی اور عام علامات ہیں، یہ علامات دیگر وجوہات کی وجہ سے بھی ہو سکتی ہیں، تاہم علامات کرونا کے مریض کو بھی لاحق ہو سکتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق نئی علامات کرونا کی نئی قسموں کی ہیں جوکہ پرانی قسموں سے مختلف ہیں، حال ہی میں دنیا بھر میں کروئا کی قسم ’اومیکرون‘ کی بھی متعدد نئی قسمیں دریافت ہوئی ہیں جو مختلف ممالک میں مختلف انداز میں لوگوں کو متاثر کر رہی ہیں۔ کرونا کے آغاز سے اب تک جہاں نصف درجن سے زائد کرونا کی بڑی قسمیں سامنے آ چکی ہیں، وہیں انہی قسموں کی متعدد ذیلی اور تبدیل شدہ قسمیں بھی دریافت کی جا چکی ہیں، جن کی علامات بھی تبدیل ہوتی ہیں۔

Related Articles

Back to top button