منکی پوکس کا مشتبہ کیس: پاکستان میں ہائی الرٹ


منکی پوکس کا مشتبہ کیس سامنے آنے کے بعد پاکستان میں ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے، ائیرپورٹس سمیت داخلی راستوں پر مسافروں کی نگرانی سخت کرنے اور ہسپتالوں میں مریضوں کیلئے خصوصی انتظامات کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔

الرٹ کے مطابق حفاظتی اقدامات کے لیے وقت پر تشخیص اہم ہے لہٰذا تمام سرکاری اور نجی ہسپتال متاثرین کے علاج اور مریض کو تنہائی میں رکھنے کے انتظامات کریں۔ دوسری طرف وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز کی جانب سے کہا گیا ہے کہ منکی پوکس کے مرض سے بچاؤ کے لیے ضروری احتیاطی تدابیر فی الفور اختیار کی جائیں، ائیر پورٹس پر مسافروں کی سکریننگ کا موثر میکنزم وضع کیا جائے۔

ڈبلیو ایچ او کے مطابق افریقہ کے باہر منکی پوکس کے پھیلاؤ پر قابو پایا جا سکتا ہے اور عام طور پر افریقہ میں اس کے متاثرین کی تشخیص نہیں کی جاتی، برطانیہ میں اب تک منکی پوکس کے 56 متاثرین سامنے آئے ہیں۔

اب تک منکی پوکس کے 100 سے زیادہ متاثرین سامنے آچکے ہیں جن کی جلد پر دانے نکلتے ہیں اور انھیں بخار کی شکایت ہوتی ہے، یورپ، امریکہ اور آسٹریلیا میں اس کے متاثرین کی تشخیص ہوئی ہے، ماہرین کو ڈر ہے کہ اس کے متاثرین کی تعداد بڑھ سکتی ہے لیکن وسیع پیمانے پر آبادی کو درپیش خطرہ کم بتایا گیا ہے۔ منکی پوکس کے لیے کوئی مخصوص ویکسین موجود نہیں ہے، لیکن چیچک کا ٹیکہ 85 فیصد تحفظ فراہم کرتا ہے کیونکہ دونوں وائرس کافی ایک جیسے ہیں، یہ بیماری منکی پوکس نامی وائرس کی وجہ سے ہوتی ہے، جو چیچک جیسے وائرس کی شاخ میں سے ہے، یہ زیادہ تر وسطی اور مغربی افریقی ممالک کے دور دراز علاقوں میں، ٹراپیکل بارش کے جنگلات کے قریب پایا جاتا ہے۔ اس وائرس کی دو اہم اقسام، مغربی افریقی اور وسطی افریقی ہیں، برطانیہ میں متاثرہ مریضوں میں سے دو نے نائجیریا سے سفر کیا تھا، اس لیے امکان ہے کہ وہ مغربی افریقی قسم کے وائرس کا شکار ہیں، ایک بار جب بخار جاتا رہتا ہے تو جسم پر دانے آ سکتے ہیں جو اکثر چہرے پر شروع ہوتے ہیں، پھر جسم کے دوسرے حصوں، عام طور پر ہاتھوں کی ہتھیلیوں اور پاؤں کے تلوے تک پھیل جاتے ہیں۔

دانے انتہائی خارش یا تکلیف دہ ہو سکتے ہیں، دانے میں بدلنے سے قبل یہ مختلف مراحل سے گزرتے ہیں اور بعد میں یہ دانے سوکھ کر گر جاتے ہیں لیکن بعد میں زخموں سے داغ پڑ سکتے ہیں، انفیکشن عام طور پر خود ہی ختم ہو جاتا ہے اور 14 سے 21 دنوں کے درمیان رہتا ہے۔

یہ بندروں، چوہوں اور گلہریوں جیسے متاثرہ جانوروں کے رابطے میں آنے سے بھی پھیل سکتا ہے یا وائرس سے آلودہ اشیاء، جیسے بستر اور کپڑوں سے بھی پھیل سکتا ہے، وائرس کے زیادہ تر اثرات ہلکے ہوتے ہیں، بعض اوقات چکن پوکس سے ملتے جلتے ہوتے ہیں، اور چند ہفتوں میں خود ہی صاف ہو جاتے ہیں تاہم منکی پوکس بعض اوقات زیادہ شدید ہو سکتا ہے۔

Related Articles

Back to top button