چین میں مرض کی نشاندہی کرنیوالے ڈائپرز متعارف

چینی ماہرین نے مرض‌ کی نشاندہی کرنے والے انوکھے ڈائپرز متعارف کروا دیئے ہیں، ماہرین کے مطابق پیشاپ سے کئی امراض کی نشاندہی سمیت انسانی صحت کا باخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
ڈائپر پہنے مریضوں کو باربار پیشاب کے نمونے کےلیے تکلیف نہیں دی جاتی اور اب چینی ماہرین نے حساس سینسر کو عام ڈائپر میں سی دیا ہے جن کی بدولت مریض کے پیشاب کا حقیقی وقت میں تجزیہ کیا جاسکتا ہے۔ایک سینسر کی جسامت امریکی 25 سینٹ جتنی ہے جس پر پانچ مختلف اقسام کے الیکٹروڈ (برقیرے) نصب ہیں۔ یہ ایک بلیو ٹوتھ رابطے والے سرکٹ بورڈ سے جڑے ہیں جو ایک لیتھیئم آئن بیٹری سے جڑا ہے۔
الیکٹروڈ کو کچھ اس طرح بنایا گیا ہے کہ یہ سوڈیئم آئن، پوٹاشیئم آئن، ہائیڈروجن پرآکسائیڈ، یورک ایسڈ اور گلوکوز شناخت کرسکتا ہے۔ یہ تمام اجزا پیشاب میں ایک خاص حد سے زائد خارج ہوں تو وہ کسی نہ کسی بیماری کی علامت ہوتے ہیں، اگلے مرحلے میں تین رضاکاروں پر یہ سینسر آزمائے گئے۔ ماہر حیران رہ گئے کہ ڈائپرٹیکنالوجی کی افادیت عین کمرشل تشخیصی نظام کی مانند تھی جن میں کاغذی پٹیاں بھی شامل ہیں۔
پھر اسے باقاعدہ ایک ڈائپر میں لگایا گیا اور اس پر پیشاب کے قطرے ٹپکائے گئے۔ اس کا مقصد تھا کہ حقیقی ماحول میں ڈائپر کو آزمایا جائے۔ ایک مقام پر ڈائپر بھرگیا اور سینسر نے ریڈنگ لینی شروع کردی اور بالکل درست ڈیٹا ظاہر کیا۔

Related Articles

Back to top button