گردوں کی غیر قانونی پیوند کاری کا مکروہ دھندہ پکڑا گیا


تمام تر حکومتی اقدامات کے باوجود پاکستان میں گردوں کی غیر قانونی فروخت اور پیوندکاری کا دھندا پورے زور و شور سے جاری ہے اور اب بیرون ملک سے بھی غیر ملکی باشندے بڑی تعداد میں پاکستان میں سستا گردہ ٹرانسپلانٹ کروانے آرہے ہیں. باخبر ذرائع نے دعوی کیا ہے کہ ایک سابقہ گورنر پنجاب کے دو بھانجوں نے صوبے میں اس غیر قانونی کاروبار کا بڑا نیٹ ورک قائم کر رکھا ہے جو ایک لاکھ روپے میں غریب اور ضرورت مند افراد سے گردہ خرید کر ایک کروڑ روپے میں اسکی پیوندکاری کرتا ہے۔

آئیے آج ہم آپ کو اس کاروبار کے حوالے سے ایک کہانی سناتے ہیں۔ فہد حجاب نام کا ایک شہری سعودی ائیرلائین کی پرواز سے لاہور ائیرپورٹ پر لینڈ کرتا ہے۔ فہد وہیل چئیر پر اُترتا ہے تو اُسے چند پاکستانی ائیرپورٹ پر خوش آمدید کہتے ہیں۔ باہر ایک ایمبولینس کھڑی ہوتی ہے جو اُسے ایک نامعلوم منزل کی طرف لے جانا شروع کر دیتی ہے۔ ایمبولینس لاہور کے ایک بڑے ہوٹل کی پارکنگ میں رُکتی ہے جہاں فہد کا کمرہ بُک ہوتا ہے۔ پاکستانی باشندوں میں ایک عربی بولنے والا مترجم بھی ہوتا ہے جو فہد کے ساتھ ہی ہوٹل کے ایک الگ کمرے میں رہائش اختیار کرلیتا ہے۔ فہد کی نگرانی کرنے والا ایف آئی اے اہلکار ہوٹل کی ریسیپشن سے اس کا نمبر حاصل کر کےموبائل ڈیٹا نکلواتا ہے تو چند ایسے لوگوں کے نمبرز نکلتے ہیں جو ایف آئی اے کو گردہ ٹرانسپلانٹ کے غیر قانونی کاروبار میں پہلے سے مطلوب ہوتے ہیں۔ پھر پتہ چلتا ہے کہ سعودی شہری بھی پاکستان میں گُردہ تبدیل کروانے آیا یے۔ فہد دراصل ایک بین الاقوامی گروہ سے رابطے کے بعد پاکستان پہنچا ہوتا ہے جو کہ گرُدوں کی فروخت اور پیوند کاری کا غیر قانونی کاروبار کررہا ہے۔

اب اس منظر کو تھوڑا سا بدلتے ہوئے ہم آپکو پیر محل کے ابراہیم ریاض اللہ میڈیکل کمپلیکس میں لیے چلتے ہیں جہاں پر کچھ ڈاکٹرز سفید گاؤن پہنے مسیحا کے روپ میں موجود ہیں۔ اسنہسپتال میں سینکڑوں کی تعداد میں گردے کے مریض آتے ہیں۔ صحت کا شعبہ پنجاب میں بہت ہی پیچھے ہے جسکی وجہ سے پیر محل، سندھیلیانوالی اور قرب و جوار کے غریب لوگوں کے لئیے ابراہیم ریاض اللہ میڈیکل کمپلیکس کسی نعمت سے کم نہیں ہے۔ سعودی شہری فہد حجاب کی لاہور سے اگلی منزل ملک کا کوئی بڑا ہسپتال نہیں بلکہ پیرمحل میں ابراہیم ہسپتال کے ساتھ موجود ایک خالی کوٹھی ہے جس کے کچھ کمروں کو آپریشن تھیٹر میں تبدیل کیا گیا ہے۔ ابراہیم ہسپتال میں ایک نیفرالوجسٹ یعنی ماہر امراض گردہ ڈاکٹر محمد شاہد کی سربراہی میں ابراہیم ہسپتال کے دیگر معاون عملہ کی مدد سے غیر ملکیوں کو غیر قانونی طور پر گردے ٹرانسپلانٹ کررہے تھے۔

یہ گھناؤنا کاروبار ایک بڑے عرصے سے چل رہا تھا جسے ایک سابق گورنر پنجاب کے دو سگے بھانجے کشف ریاض اللہ اور نجف ریاض اللہ چلا رہے تھے۔ اس فعل کا سب سے گھناؤنا پہلو یہ ہے کہ جو عورتیں زچگی کے لئیے ابراہیم ریاض اللہ میڈیکل کمپلیکس میں آتی تھیں تو گائنا کالوجسٹ یعنی ماہرامراض زچگی لیڈی ڈاکٹر سب سے پہلے مریضہ کے خون کا گروپ ٹیسٹ کرواتی اور دیگر گردوں کے ٹیسٹ کرواتی۔ پھر یہ رپورٹ کشف ریاض اللہ اور نجف ریاض اللہ کو بھیج دی جاتیں۔ مبینہ طور پر یہ لوگ انٹرنیٹ پر گردوں کے منتظر مریضوں سے ان خواتین کا ڈیٹا میچ کرتے۔

پھر زچگی کے لئیے آنے والی خاتون کے علم میں لائے بغیر اُس کے ایک گردے کا سودا ایک کروڑ روپے میں طے کردیتے۔ وہ غیر ملکی جسے گردے کی ضرورت ہوتی اُسے عورت کی زچگی سے ایک دو دن پہلے بلوایا جاتا تھا۔ پھر عین زچگی کے دن ڈاکٹر عورت کا آپریشن کرتے اور پیدا ہونے والے بچے کی ماں کابایک گردہ بھی نکال لیتے۔ لیکن ڈاکٹعز زچگی کا آپریشن کروانے آنے والی خاتون کو علاج میں سہولتیں دیتے اور بہت ہی کم پیسے لیتے۔ یوں غریب عورت ان ضمیر فرشوں کو جھولیاں پھیلا پھیلا کر دُعائیں دیتی ہوئی رُخصت ہوجاتی اور سمجھتی کہ ابھی دُنیا میں کشف ریاض اللہ اور نجف ریاض اللہ کی صورت میں فرشتے موجود ہیں جو غریبوں کے دُکھ درد کو سمجھتے ہیں۔

دوسری جانب یہ بے ضمیر ڈاکٹروں سے مل کر ایک کروڑ روپیہ اپنی جیبوں میں بھر لیتے اور پارسائی کا لبادہ اوڑھے معاشرے سے عزت سمیٹنے میں مشغول رہتے۔یہ وہ سلوک تھا جو زچگی کے لئیے آنے والی خواتین کے ساتھ ہوتا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ مذید ظلم یہ کیا جاتا کہ مختلف دلالوں سے رابطہ کیا جاتا اُنہیں ڈیمانڈ بتائی جاتی کہ اس خون کے گروپ کا گردہ چاہیے۔ وہ دلال جرائم پیشہ لوگ ہوتے تھے جو کبھی بندوق کے زور پر کسی غریب کو اغواء کرکے ابراہیم ریاض اللہ میڈیکل کمپلیکس میں لے آتے جہاں پر ڈاکٹر اُس کا گردہ نکال لیتے یا کبھی غربت کے ہاتھوں مجبور اُن لوگوں کی مجبوریوں کا سودا کرتے اور اُنہیں 50 سے 75 ہزار روپے تک ہاتھ میں تھما دیتے اور اُس کا گردہ نکال کر ایک کروڑ روپے میں فروخت کر دیتے۔

تاہم اس مکروہ دھندے کا پول حال ہی میں تب کھلا جب ایف آئی اے کے مخبر نے اطلاع دی کہ فہد کا آپریشن شروع ہوچکا ہے۔ ایف آئی اے کی ٹیم نے محکمہ صحت کے اعلیٰ حکام اور پولیس کے افسران کو ساتھ لیا اور ابراہیم ریاض اللہ میڈیکل کمپلیکس کے ساتھ ملحقہ کوٹھی پر چھاپہ مار دیا۔ وہاں پر ڈاکٹر شاہد اپنی آپریشن تھیٹر کی ٹیم کے ساتھ موجود تھا اور عورت کا گردہ نکال کر سعودی شہری فہد حجاب کے ٹرانسپلانٹ کررہا تھا۔ ایف آئی اے کی ٹیم کو دیکھ کر ڈاکٹر گھبرا گیا اور آپریشن ادھورا چھوڑنے لگا۔ لیکن ایف آئی اے اور محمکہ صحت کی ٹیم نے کہا کہ اس پروسیجر کو اب مکمل کرو۔ ایف آئی اے کے افسران آپریشن تھیٹر سے باہر چلے گئے اور محکمہ صحت کے ڈاکٹر افسران کو آپریشن تھیٹر میں چھوڑ گئے کہ وہ آپریشن مکمل کریں اور انسانی جان کو ضائع ہونے سے بچائیں۔ خیر جیسے تیسے ڈاکٹر شاہد نے آپریشن مکمل کیا تو محکمہ صحت کی ٹیم نے فوری طور پر سعودی شہری اور گردہ فروخت کرنی والی عورت کو الائیڈ ہسپتال فیصل آباد شفٹ کیا تاکہ ان کا بہتر علاج ہوسکے۔

بعد ازان جب جب ڈاکٹر شاہد سے ایف آئی اے کی ٹیم نے سوال وجواب کیے تو اس نے کہا کہ میں تو صرف آپریشن کی فیس لیتا ہوں جبکہ اصل گُردوں کی خرید وفروخت کا مکروہ دھندا تو نجف ریاض اللہ اور کشف ریاض اللہ کرتے ہیں۔ یہ دونوں ملزمان فرار ہو گئے لیکن ایک دن بعد ہی کشف ریاض اللہ کو ایف آئی اے نے اُسکے موبائل کی لوکیشن سے گرفتار کرلیا گیا جبکہ اسکے دوسرے بھائی نجف ریاض اللہ کا تاحال کوئی پتہ نہیں چل سکا۔اس واقعے کا سب سے تاریک پہلو یہ ہے کہ چونکہ ملزمان ایک سابقہ گورنر پنجاب کے سگے بھانجے ہیں اور اثر و رسوخ والے لوگ ہیں اس لیے میڈیا نے اس گھناؤنے کاروبار کو بے نقاب نہیں کیا۔

Related Articles

Back to top button